خدیجہ مستور کا آنگن: اس ادبی شاہکار کو ٹی وی ڈرامے میں ڈھالنا ایک کارنامہ ہے!

پاکستانی ٹی وی ڈرامے کی سطحی حیثیت کے بارے میں ایک مدت سے سب ہی پڑھے لکھے باشعور حلقوں کو شکایت اور خوب جانکاری ہے اسی لیے پی ٹی وی کے عہد میں جو کچھ مفکرین فن ڈراما دیکھنے کا کشٹ اٹھا لیا کرتے تھے، نجی تاجروں کے ہاتھوں میں آنے کے بعد سے وہ…

Read more

پاکستانی سینما: عوام کی تفریح چھن جانے کا سانحہ

عام اور غریب لوگوں سے سینما کو دور کرنے اور انھیں ان کی واحد تفریح سے الگ کرنے کا جو منصوبہ سینما مالکان اور سینما کا کاروبار کرنے والے کرتا دھرتاؤں نے بنایا تھا، اس میں انھیں شروع میں تو کسی قدر کامیابی ملی اور انھوں نے سمجھ لیا کہ فلموں کی کامیابی اور ناکامی…

Read more

ٹی وی ڈرامے کے غیر معیاری ہونے کے اسباب ایک گفتگو

چھ، سات اورآ ۤٹھ اپریل کو کراچی آرٹس کونسل میں ایک ثقافتی سطح کا فیسٹیول آراستہ کیا گیا۔ اس فیسٹیول میں بہت سی نئی اورمختلف باتوں یا آئڈیازکے علاوہ جوسب سے زیادہ ابھر کی چیز سامنے آئی وہ یہ کہ شہر میں نئے فنکاروں، دانشوروں، ڈراما نویسوں اور سکہ بند مفکروں کی جگہ کچھ نئے چہرے طلوع ہوتے دکھائی دیے ہیں۔ ناظمین جو کسی بھی تقریب کو قابو میں رکھنے اور آگے بڑھانے کا کام انجام دیتے ہیں جنھیں انگلش میں ماڈریٹر کہا گیا ہے، اس میدان میں بھی نئے چہرے دیکھنے کو ملے اور برسہا برس سے جو چہرے تقریبات کی نظامت کے امور انجام دیتے چلے آرہے ہیں ان کی مدد یا تو سرے سے لی ہی نہیں گئی یا پھر بہت کم لی گئی تاہم میں نے جن پروگراموں میں شرکت کی ان میں تو قطعی طور پر مجھے نئے چہروں سے ہی سابقہ پڑا۔

ویسے تو یہ سارا فیسٹیول ہی ممکن ہے لائق ستائش رہا ہو لیکن میں نے چونکہ چند پروگراموں میں ہی شرکت کی اس لیے میں انھی پر بات کرنا چاہوں گا۔ فیسٹیول کے انعقاد کا سہرا ثمینہ نزیر جو خود بھی ایک رائٹر ہیں اور ان کے ساتھ تھے طارق صدیقی ان دونوں شخصیات کے سر باندھا گیا ہے۔

Read more

ٹی وی ڈرامے کی موجیں اور فلم والوں کی بدحالی!

آج کل ٹی وی ڈراموں کی ریٹنگ جیسے آسمانوں کو چھو رہی ہے۔ نجی چینلز کی پوری تاریخ میں ایسی بلند بانگ ریٹنگز اس سے قبل کبھی کسی چینل کو یا کسی پروگرام کو یا کسی ڈرامے کونصیب نہیں ہوسکیں۔ ایسا ہوا تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اچانک پاکستان کے نجی ٹی وی چینلز عقل و فن کی کسی ایسی عظمت کو پہنچ چکے ہیں کہ راتوں رات انھوں نے ایسے غیر معمولی ڈرامے بنانا سیکھ لیے ہیں جنھیں دیکھے بغیر ناظرین کا گزارا ہی نہیں ہے اور اسی وجہ سے ان ڈراموں کی مقبولیت نے پاکستان میں ٹی وی ڈرامے کی تاریخ کو یکسر بدل کے رکھ دیا ہے۔

ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہے ٹی وی ڈراموں کے نہ تو موضوعات میں کوئی نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے نہ ہی کوئی ایسی تیکنیکس استعمال ہونا شروع ہوئی ہیں جو اس سے پہلے کبھی استعمال نہیں ہوئیں۔ سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا ہمیشہ سے تھا۔ تو پھرایسا کیا ہوا کہ الہٰ دین کے چراغ کی طرح کوئی جن تھا جسے بوتل میں بند کیا ہوا تھا اور اب اسے آزادی ملی ہے اور اب یہ اسی جن کا کمال ہے کہ اسے حکم دیا جاتا ہے اور وہ من چاہی ریٹنگزکسی بھی ڈرامے کے کھاتے میں ڈال دیتا ہے۔

Read more

پاکستانی ٹی وی ڈراما اور عورت!

جب سے پاکستان میں ٹیلی وژن کی نشریات کا آغاز ہوا ہے تب سے۔ ٹی وی ڈراما بھی ان کا لازمی حصہ رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ بھی رہی کہ ٹی وی سے پہلے ریڈیوکا عہد تھا۔ سامعین کی بہت بڑی تعداد ریڈیو سنا کرتی تھی اور ریڈیو کے مختلف النوع پروگراموں میں…

Read more