جیسابیج ویسی فصل تو ماتم کیسا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عام طور پر ہمارے معاشرے میں بچوں کو قوم کے معمار کی حیثیت دی جاتی ہے۔ بد قسمتی سے یہ حیثیت صرف باتو ں کی حد تک ہی نظر آتی ہے۔ قوم کے معمار کا مطلب ہے قو م کو تعمیر کرنے والے لوگ! یعنی فی الحقیقت کسی بھی قوم کی تعمیر کا آغاز بچوں سے ہوتا ہے اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ قوم کی تعمیر بچوں کی مذہبی، ذہنی، معاشرتی اور سماجی تعلیم کے طریقوں پر منحصر ہوتی ہے۔ ہمارا معاشرہ تعلیم و تدریس کو لیکربے شمارپا ئیدار و ناپائیدارطبقات میں بٹا ہوا ہے۔

تعلیم کے یہ مختلف طبقات مدرسہ، گورنمنٹ اسکولز، درمیانے درجے کے پرائیویٹ اسکولز، ہائی کلاس پرائیویٹ اسکولز کی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہیں۔ اگر ہم اپنے بچوں کی تعلیمی زندگی کا گہرائی سے مشاہدہ کریں تو ہم اس نتیجے پر آسانی سے پہنچ سکتے ہیں کہ ہمارے بچے جن کے ہاتھوں میں ہمارے ملک وقوم کی تعمیری اُمید بندھی ہوئی ہے وہ بیک وقت تین طرح کے ماحول سے وابستہ ہوتے ہیں۔ پہلا ماحول جو سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے وہ بچے کو ملنے والا گھریلو ماحول ہوتا ہے۔

اس کے بعد دوسرا اہم ترین ماحول بچوں کو تعلیم و تدریس کے ادارے مہیا کر رہے ہوتے ہیں۔ اہمیت سے بھرپور تیسرا ماحول بچے کو کھیل کود کے میدانوں سے گلی کوچوں اور بازاروں سے مل رہا ہوتا ہے۔ بچے کی تعمیر میں تینوں ماحول برابری کی سطح پر ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اگر ان میں سے ایک بھی غیر معیاری اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کی پٹٹری پر چڑھ جائے تو معاشرے کو تعمیر کرنے والا معمار ہی غیر تعمیری رحجان پر تیار ہوگا۔ اور اس غیر تعمیری رحجان میں تیار ہونے والے بچے معاشرے اور قوم کے معمار بننے کی بجائے معاشرے کو مسمار کرنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

مہذب معاشروں میں بچہ ایک نہایت اہم ترین چیز سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس کی تعمیر کے ذریعے ترقی یافتہ معاشرہ وجود میں لا چکے ہیں۔ آیئے غور کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں معمار کس طرح تیار ہو رہے ہیں۔ بچوں کو صبح سویرے اٹھا کر کھلا پلا کر یونیفارم پہنا کر اسکول بھیج دیا جاتا ہے صرف اسی عمل کو بہت بڑا معرکہ سمجھ لیاجاتا ہے۔ بس اتنا کرنے کے بعد ہم اپنے آپ کو بری الذمہ سمجھ لیتے ہیں اور مطمئن ہو جاتے ہیں۔

دوسری جانب ملک میں موجود مختلف تدریسی ادارے اپنی مرضی کا سلیبس پڑھانے میں مصروفِ عمل ہیں۔ کچھ ا نگلش میڈیم ہیں کچھ اردو میڈیم ہیں زبان کے فرق کے ساتھ ساتھ سب سے اہم اور سنگین مسئلہ ا ایک ہی کلاس کے لیے سلیبس کا مختلف صورتوں اور درجوں میں پڑھایا جانا ہے۔ کسی بھی ملک میں بچوں کے سلیبس کا مختلف ہونا کبھی بھی قوم کے معماروں کو برابری کی سطح پر تیار نہیں کر سکتا اس طرح کے غیر متوازی تعلیمی نظام سے بچوں کی ذہنی تعمیر ایک قوم کی حیثیت سے ہرگز نہیں ہو سکتی ہاں البتہ اس کے بر عکس جتنی طرز کے سلیبس بچوں کے ذہنوں میں اتارے جائیں گے مستقبل قریب میں ہمیں ایک ہی ملک میں ایک نہیں بلکہ سلیبس کی قسموں کے برابر یا اس سے بھی زیادہ قومیں تیار ملیں گی۔

ایک کھیت میں مختلف اقسام کے بیج بونے کے بعد اگر ہم اس کھیت سے ایک جیسی فصل حاصل کرنے کے طلبگار ہیں تو یہ ہماری جاہلیت اور فکری زوال کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے سوا ء اور کچھ نہیں۔ جس طرح قدآور نظر آنے والے درخت کی بنیاد ایک چھوٹے سے بیج پر قائم ہوتی ہے۔ جس طرح بلندوبالا افلاک بوس عمارتوں کی بنیاد ایک اینٹ سے شروع ہوتی ہے۔ بالکل اِسی طرح کسی بھی بشری معاشرے میں قوم کی صحت مند تعمیر کا منیادی اور سب سے اہم ترین عنصر اُس قوم کے بچے ہوتے ہیں۔

جس طرح ایک جیسے بیج سے ایک جیسی فصل پروان چڑھتی ہے بالکل اِسی فطری اصول کے تحت ایک قوم کو وجود میں لانے کے لیے ہمیں شروع دن سے ہی اپنے بچوں کو ایک جیسی مذہبی، فکری، سماجی، معاشرتی اور تعلیمی بنیاد کی فراہمی کو آخری درجہ تک یقینی بنانا ہوگا۔ لیکن اس کے برعکس ہمارے معاشرے میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے ساتھ ظلم یہ ہے ہے کہ اِن معماروں کی تعمیر روزِاوّل سے ہی مختلف بنیادوں پر استوار کی جاتی ہے۔ جس کا نتیجہ یقینی طور پر اختلافی معاشرے کی صورت میں برآمد ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

اور پھر جب یہ کونپلیں طویل المدت سفر طے کرنے کے بعد ایک مضبوط درخت کا روپ دھار لیتی ہیں تو اس وقت ہمارے مذہبی پیشوا بڑی بڑی مساجد میں تقریریں کر رہے ہوتے ہیں۔ ہماری دنیاوی تعلیم کے رہنما کالجز اور یونیورسٹیز میں لیکچر دیتے نظر آتے ہیں۔ ہمارے سیاسی اور حکومتی طبقات ٹی وی اسکرینوں پر بحث ومباحثے کرتے نہیں تھکتے! اِن سب کا موضوعِ بحث صرف ایک ہی سوال ہوتا ہے۔ کہ ہماری قوم ایک بکھری ہوئی قوم کیوں ہے؟ ہمارے اندر دراڑیں کیوں پیدا ہو چکی ہیں؟ ہماری جمعیت کیوں ٹوٹ چکی ہے؟ ہم ایک دوسرے کے دشمن کیوں بن گئے ہیں؟ ہمارے درمیان نفرتیں کیوں پروان چڑھ رہی ہیں؟ ہم ایک قوم کیسے بن سکتے ہیں؟ افسوس در افسوس! یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے؟ اِس کو نادانی نہ کہیں تو پھر کیا کہیں؟ اِس کو حد درجہ فکری تنزلی نہ کہیں تو اور کیا کہیں؟ پہلے مرحلے میں اپنے ہی ہاتھوں بیج کی آبیاری پھر دوسرے مرحلے میں اس کے نتائج پر ماتم۔ ”ہم کیسے لوگ ہیں“

ہم اپنے ہاتھوں سے مختلف بیجوں کو بو کر ایک جیسی فصل حاصل کرنے کی خواہش کیسے کر سکتے ہیں؟ حل کیا ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ سب سے پہلے ہمیں قوم کے معماروں کی تعمیر کے طریقوں اور بنیادوں کو برابری کی سطح پر بہتر بنانا ہوگا۔ اِن کے تعلیمی اور تہذیبی معیاروں کی آبیاری ایک جیسے بیج سے کرنی ہوگی۔ یہی ایک ایسا واحد طریقہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنے بچوں کو قوم کے معمار کی بہترین عملی حیثیت دے سکتے ہیں۔ جس دن ہم یہ کر لیں گے تو اس دن کے بعد ہمارے بچے خودبخود معاشرے کی ایسی فلک شگاف عمارت کھڑی کر دیں گے جس کی تسخیر کبھی ممکن نہ ہوسکے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •