بچوں کے تعلیمی مقابلے کا نقصان


مشہور زمانہ ہندوستانی فلم 3 ایڈیٹس کے کئی مکالمہ بہت مشہور ہوئے جیسا کہ آل از ویل، لائف از آ ریس رن ان ایٹ مگر اس کے ساتھ ساتھ میراپسندیدہ اگر کوئی مکالمہ ہے تو وہ یہ کہ باباجی کہتے تھے بیٹا قابل بنو! قابل! کامیابی خود جھک مار کر تمھارے پیچھے آئے گی۔ مگر افسوس اس مکالمہ کو ہمارے معاشرے میں کوئی سمجھنے کو تیار ہی نہیں۔

فی الوقت کچھ مائیں ایسی ہوں گی جن کے بچوں کے امتحانات ہورہے ہوں گے اور وہ ان کو دن، رات پڑھانے میں مصروف ہوں گی اور کچھ ایسی ہوں گی جن کے بچوں کا رزلٹ آگیا ہوگا اور وہ انھیں نئی کلاس میں بھیجنے کی تیاری کر رہی ہوں گی۔ مگر آج کے اس دور جسے ہم مقابلہ کا دور کہتے ہیں اور ہمیں ہر جگہ اسکول، کالج، یونیورسٹی، آفس، کاروباری مراکز میں مقابلہ بازی کا رجحان نظر آتا ہے اس نے کسی کو نقصان پہنچایا ہو یا نہیں بچوں کو ضرور پہنچایا ہے اور میں ایسا کیوں کہہ رہی ہو ں اس کی وجہ میں آپ کو بتاتی ہوں۔

آج ماہ نور کا رزلٹ آیا تھا اور اس کی تیسری پوزیشن آئی تھی اصولا اسے خوش ہونا چاہیے تھا مگر وہ بے حد اداس تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ جماعت میں بچوں کی کثیر تعداد اور شدید مقابلہ بازی کے باوجود وہ ہمیشہ فرسٹ آتی تھی مگر اس بار بیمار ہونے کے باعث اس کی تیاری اچھی نہیں ہوئی اور اس کی پوزیشن چلی گئی۔

یہ ہمارے معاشرہ کا المیہ ہے کہ جو بچے پوزیشن ہولڈر ز ہوتے ہیں ان کے لیے پوزیشن لانا اہم نہیں ہوتا بلکہ اسے قائم و دائم رکھنا زیادہ اہمیت کا حامل ہوتاہے۔ پوزیشن ہولڈرز بچوں کو والدین کی توجہ بھی زیادہ حاصل ہوتی ہے اور انھیں سراہا بھی جاتا ہے کیونکہ ان کی وجہ سے والدین کی بھی واہ! واہ! ہوتی ہے مگر والدین اس حقیقت سے منہ موڑ لیتے ہیں کہ ان کے بچہ کی اس کامیابی میں محنت کے ساتھ ساتھ اس میں موجود قدرتی صلاحیتوں کا بھی ہاتھ ہے۔

ایسے میں وہ بچے جو اوسط درجہ کے طالب علم ہوتے ہیں اور مائیں ان پر خوب محنت کرتی ہے اور اس کے بعد ان کی کوئی پوزیشن نہیں آتی بلکہ وہ امتیازی نمبروں سے پاس ہوجاتے ہیں تو ماؤں کا یہ رویہ ہوتا ہے صرف پاس ہوگئے کوئی پوزیشن آتی تو بات بھی تھی کون سا کارنامہ سرانجام دے دیا؟

آج میں سب ماؤں سے ایک سوال کرنا چاہتی ہوں کہ یوں تو آپ سب میڈیا فین ہوتی ہے پھر کیوں فلموں کے ان مکالموں کو بھول جاتی ہے جو زندگی کی حقیقتوں پر مبنی ہوتے ہیں کہ زندگی میں پوزیشن سے زیادہ قابل ہونا اہم ہوتا ہے اور کیا اس دنیا میں صرف پوزیشن ہولڈر ہی کامیاب ہو پاتے ہیں باقی لوگ ناکام؟ جب ایسا نہیں ہے تو پھر کیا ضرورت ہے اپنے بچے کو مشین سمجھنے کر مقابلہ بازی میں جھونکنے کی کیونکہ انسان تو اس حد تک ہی اپنا آؤٹ کم دے سکتا ہے جتنی صلاحیت اسے قدرتی طور پر عطا کی گئی ہو۔

اگر آپ کا بچہ ایک اوسط درجے کا طالب علم ہے مگر وہ پڑھائی میں دلچسپی رکھتا ہے امتحانات کی تیاری کرتا ہے امتحان دیتا ہے امتیازی نمبر حاصل کرتا ہے صرف پوزیشن سے محروم ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کے پاس ذہنی صلاحیت سے مالا مال اولاد ہے وہ محنت کرنے کو تیا ر ہے کیونکہ ایک مشہور قول ہے کہ ذہانت کا نعم البدل محنت ہے مگر محنت کا کوئی نعم البدل نہیں۔ محبت سے انسان خود کو اس قابل کرسکتا ہے کہ کامیابی خود جھک مار کر اس کے پیچھے آئے۔

Facebook Comments HS