میٹرک بورڈ کی بے سُری اذان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہتے ہیں اگلے وقتوں میں ایک شہزادی کا گزر کسی جنگل سے ہوا۔ راستے میں شہزادی کے کانوں میں ایک سریلی و رس بھری آواز نے مٹھاس گھولدی۔ شہزادی نے قافلہ رکوا لیا۔ شہزادی نے سپاہیوں سے دریافت کیا کہ یہ آواز کہاں سے آرہی ہے۔ ایک سپاہی نے بتایا کہ مسلمان خدا کے حضور عبادت کے لیے پیش ہونے کے لیے اسی طرح دعوت دیتے ہیں۔ یہ اذان کی آواز ہے۔ شہزادی اس کی آواز کے سحر میں مبتلا ہوگئی۔ بعد ازاں اسلام کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرکے شہزادی نے مسلمان ہونے کا فیصلہ کرلیا۔

یہ خبر جب بادشاہ سلامت کے پاس پہنچی تو وہ حواس باختہ ہوگئے۔ بادشاہ کسی طور پر اپنی بیٹی کو مسلمان ہوتے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ بادشاہ نے ہر جتن کیا لیکن شہزادی اپنے فیصلے پر ڈٹی رہی۔ بادشاہ کو اپنی بیٹی سے بہت پیار تھا اس لیے کوئی سخت قدم اٹھانے سے باز رہا۔

قصہ مختصر ایک دن شہزادی صاحبہ ایک اور سفر کے لیے روانہ ہوئیں تو راہ میں ایک ایسی آواز ان کانوں میں پڑی جسے سن کر شہزادی کی طبیعت بوجھل ہوگئی۔ شہزادی نے اس بے سری و کرخت آواز کے بارے میں سپاہیوں سے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ یہ اذان کی آواز ہے۔ اب شہزادی ہکا بکا رہ گئی۔ شہزادی نے سپاہیوں سے پوچھا کہ کیا مسلمان ایسی بھونڈی آواز سے بھی خدا کی عبادت کی دعوت دیتے ہیں؟ سپاہی پہلے ہی تاک میں تھے کہ کسی طرح شہزادی کو اسلام سے بے زار کرکے بادشاہ سے انعام و اکرام حاصل کریں۔ سپاہیوں نے کہا کہ زیادہ تر مسلمان ایسی ہی بے سری آواز میں اذان دیتے ہیں۔ شہزادی نے یہ سن کر قبول اسلام کا ارادہ ترک کر دیا اور ایک بے سرے مؤذن نے وہ کام کر دکھایا جو بادشاہ بھی نہ کرسکا۔

یہ تو محض ایک حکایت تھی۔ لیکن کل حققیت میں ویسی ہی ایک بے سری اذان کراچی میٹرک بورڈ نے دسویں جماعت کے اسلامیات کے پرچے میں دی۔ دی نیوز انٹرنیشنل کے صحافی ارشد یوسفزئی نے اس سوال کی تصویر ٹوئٹر پر اپلوڈ کی جس میں امتحان دینے والوں سے پوچھا گیا کہ اللہ کے نزدیک ان میں بدترین جانور کون ہے۔ آپشنز ملاحظہ کیجیے : گدھا، خنزیر، کافر یا بندر۔

دراصل میٹرک کے کورس میں سورۂ انفال شامل ہے۔ اس سورہ میں آیت نمبر 22 اور 55 شَرَّ الدَّوَابِّ کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے۔

ہندوستان کے معروف عالم دین مولانا وحدید الدین خان نے آیت نمبر 22 کا ترجمہ اپنے ”ترجمۂ قرآن“ میں یوں کیا: ”یقینا اللہ کے نزدیک بدترین جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔ “

یعنی عقل سے کام نہ لینا دراصل اپنا انسانی شرف کھودینے کے مترادف ہے۔ کیونکہ انسان اور جانور میں بنیادی فرق عقل و شعور کا ہے۔

اسی طرح مولانا وحید الدین خان نے آیت نمبر 55 کا ترجمہ یوں کیا: ”بے شک سب جانداروں میں بدترین اللہ کے نزدیک وہ لوگ ہیں جنھوں نے انکار کیا اور وہ ایمان نہیں لاتے۔ “

لیکن اس مرتبہ شَرَّ الدَّوَابِّ کا ترجمہ مختلف انداز سے کیا کیونکہ قرآنی اصطلاحات کو موضوع اور context کے اعتبار سے ٹرانسلیٹ کیا جاتا ہے۔ جیسے کہ سورۂ آل عمران کی آیت نمبر 54 کا معاملہ ہے۔ آیت یوں ہے :

وَ مَکَرُوۡا وَ مَکَرَ اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ

اس کا ترجمہ احمد رضا خان بریلوی نے یوں کیا: ”اور کافروں نے مکر کیا اور اللہ نے ان کے ہلاک کی خفیہ تدبیر فرمائی اور اللہ سب سے بہتر چھپی تدبیر والا ہے۔ “

یعنی مکر کا لفظ جب خدا کے لیے عربی میں استعمال ہوا تو اسے ترجمے میں ”تدبیر“ کہا گیا۔

اردو تراجم میں سورۂ انفال کی اس آیت کا سب سے عمدہ ترجمہ میرے مطابق مولانا مودودی نے کیا ہے۔ مولانا لکھتے ہیں : ”یقیناً اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے والی مخلوق میں سب سے بدتر وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو ماننے سے انکار کر دیا پھر کسی طرح وہ اسے قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ “

دراصل آیت 55 کے ساتھ اگلی آیت پڑھنا بھی ضروری ہے۔ آیت 56 میں ارشاد ہوتا ہے : ﴿خصوصاً﴾ ان میں سے وہ لوگ جن کے ساتھ تو نے معاہدہ کیا پھر وہ ہر موقع پر اس کو توڑتے ہیں اور ذرا خدا کا خوف نہیں کرتے۔

تفسیر ابن کثیر میں آیت نمبر 55 کی شرح یوں بیان ہوئی ہے : ”زمیں کی بدترین مخلوق وعدہ خلاف کفار ہیں زمین پر جتنے بھی چلتے پھرتے ہیں ان سب سے بد تر اللہ کے نزدیک بے ایمان کافر ہیں جو عہد کر کے توڑ دیتے ہیں۔ ادھر قول و قرار کیا ادھر پھر گئے، ادھر قسمیں کھائیں ادھر توڑ دیں۔ “

یعنی یہاں شَرَّ الدَّوَابِّ جیسی سخت اصطلاح ان وعدہ خلاف لوگوں کے لیے استعمال ہوئی ہے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف طرح طرح کی منافقانہ چالیں چلی تھیں۔

آج کے زمانے میں ان لوگوں کو جانور سے بدتر کہا جاسکتا ہے (چاہے وہ اپنا تعلق کسی بھی مذہب یا نظریے سے بتائیں ) جو انسانی شرف سے گرے ہوئے سنگین جرائم میں مبتلا ہیں۔ جیسے کوئی قتل و غارتگری اور انسانی عزت و آبرو کو تار تار کرنے والا شخص۔

میں یہاں درست اور غلط تشریح و تفسیر کی بحث میں نہیں جانا چاہتا۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے بچوں کو انتہا پسندی کا بیانیہ دینا چاہتے ہیں یا اعتدال پسندی کا۔ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 143 کا ترجمہ مفتی تقی عثمانی صاحب یوں کرتے ہیں : ”اور ( مسلمانوں ) اسی طرح تو ہم نے تم کو ایک معتدل امت بنایا ہے تاکہ تم دوسرے لوگوں پر گواہ بنو۔ “

قرآن اور اس کے تراجم و تفاسیر تو داعش اور القاعدہ جیسی جماعتیں بھی پیش کرتی ہیں۔ کیا ہم اپنے بچوں کے ذہن میں ایسی گنجائش پیدا کرنا چاہتے جس سے ان کے لیے اشتعال انگیزی اور دہشت گردی کے بیانے کے لیے جگہ پیدا ہو؟ کیا ہم ان کے ذہن میں نفرت کا بیج بو کر انہیں کسی گروہ کو dehumanise کرنے کا جواز فراہم کرنا چاہتے ہیں؟

اسلامیات کا یہ امتحان کل میری چھوٹی بہن نے بھی دیا ہے۔ میں اپنی بہن سمیت تمام بچوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ سوال اسلامی تعلیمات کا عکاس نہیں۔ سورہ التین کی آیت نمبر 4 کا ترجمہ امین احسن اصلاحی یوں کرتے ہیں : ”بیشک ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر بنایا۔ “

کسی انسان کو بندر، خنزیر، گدھے یا کسی جانور سے نفرت و حقارت کے لیے ملانا درست عمل نہیں۔ یہ آیت ایک خاص گروہ کے لیے تھی جسے عامیانہ و جاہلانہ انداز سے پیش کرنا میڑک بورڈ کی حماقت ہے۔ یہ پرچہ بنانے والا بھی اسی بے سرے مؤذن کی طرح ہے جس کی بھونڈی آواز سن کر شہزادی نے اسلام ترک کردیا تھا۔ سورہ النحل آیت 125 میں ارشاد ہوتا ہے :

اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ۔

حکومت پاکستان سے میری درخواست ہے کہ اس ناقابلِ قبول واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے تاکہ آئندہ اس قسم کا بیانیہ ہمارے بچوں کے اذہان پراگندہ نہ کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نجم سہروردی

نجم سہروردی دی نیوز انٹرنیشنل، ایکپریس ٹریبیون اور انگریزی چینل ٹریبیون 24/7 میں بطور رپورٹر، سب ایڈیٹر اور نیوز پروڈیوسر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان دنوں لندن میں یونیورسٹی آف ویسٹ منسٹر سے ''مذہب، قانون اور معاشرے" کے موضوع پر ماسٹرز کر رہے ہیں

najam-soharwardi has 6 posts and counting.See all posts by najam-soharwardi