موازنۂ ڈار و عمر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکومتی کارکردگی جانچنے کے لئے سو دن کی بظاہر بے معنی حد معیّن کرنے کے پیچھے جو حکمت کارفرما تھی وہ یا تو وزیرِاعظم جانتے ہیں یا خدا۔ خاکسار نے تو اتنے قلیل عرصے میں صرف ٹی وی سکرینوں پر جلوہ افروز اینکر و تجزیہ نگاران کو محض اینکر یا تجزیہ نگار سے سینئر اینکر یا سینئر تجزیہ نگار بنتے دیکھا ہے۔ بظاہر ’سینئر‘ کی پخ بھی محض یہ بتانے کے لئے لگائی جاتی ہے کہ موصوف یا موصوفہ نے اس میدان میں چند ہفتے گذار لئے ہیں۔

یہ اس بات کی ہرگز ضمانت نہیں کہ ان خواتین و حضرات کی رائے کو سنجیدگی کی ساتھ لیا جا سکتا ہے۔ اب جب کہ حکومت کو اقتدار میں آئے آٹھ ماہ ہونے کو آئے ہیں، اس کی کاکردگی پر بحث جاری ہے۔ کس فریق کے دلائل میں کتنا وزن ہے اس کا دارومدار سننے والے کی فہم و فراست سے زیادہ اس کی سیاسی وابستگی پر ہے۔ راقم نہ تو صاحبِ فہم ہونے کا دعویدار ہے اور نہ ہی کسی خاص جماعت کا حامی (اگلے انتخابات میں ووٹ خریدنے کا ارادہ رکھنے والے خواتین و حضرات نوٹ فرما لیں ) لہذا اسے ان آٹھ ماہ میں مچائے گئے شوروغل میں سے محض تین باتیں سمجھ میں آئی ہیں۔

1۔ مملکتِ خداداد کو معاشی مسائل نہیں بلکہ باقاعدہ معاشی بحران کا سامنا ہے

2۔ اس معاشی بحران کی تمام تر ذمّہ داری گذشتہ حکومت پر ہے

3۔ اس بحران کا حل کم از کم اسد عمر صاحب کے پاس نہیں

اب جہاں گذشتہ حکومت کی معاشی کارکرگی کا ذکر آئے گا وہاں اسحاق ڈار صاحب کا ذکر ناگزیر ہے۔ راقم کو زندگی میں جن اشخاص پر ٹوٹ کر غصّہ آیا ہے ان میں ڈار صاحب کا مقام خاصا اونچا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ میاں صاحب نے اپنے دوسرے دورِ حکومت میں بھاری مینڈیٹ کے خمار، بلکہ بخار میں جہاں لاہور کو پیرس بنانے، کراچی کو نیویارک بنانے اور گوجرانوالہ کو گوجرانوالہ ہی رہنے دینے پر مصر تھے وہاں ترنگ میں آ کر فارن کرنسی اکاؤنٹ کھولنا بھی خاصا آسان کر دیا۔

جوابی ترنگ میں آ کر خاکسار نے بھی پانچ سو ڈالر کی خطیر رقم (جو خاکسار کی کل جمع پونجی سے بھی کچھ زیادہ ہی تھی) سے ایک عدد فارن کرنسی اکاؤنٹ کھول لیا۔ اس اکاؤنٹ کھولنے کے کچھ عرصے بعد ہی پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر ڈالے۔ ان دھماکوں کی گونج ابھی باقی تھی کہ حکومت نے ڈالر اکاؤنٹ منجمد کر ڈالے۔ اس وقت وزیرِخزانہ تو غالباً سرتاج عزیز صاحب تھے لیکن واقفانِ حال نے اس فیصلے کا سہرا ڈار صاحب کے سر باندھا۔

شکل و صورت سے سرتاج عزیز صاحب بیس برس قبل بھی آج ہی کی طرح معقول و بردبار لگتے تھے لہٰذا خاکسار کے نزدیک اس خبر کو صحیح تسلیم نہ کرنے کی وجہ نہ تب تھی نہ اب ہے۔ ڈالروں کے عوض جو پاکستانی روپے دیے گئے وہ بھی مارکیٹ میں ڈالر کے ریٹ سے دو چار روپے کم ہی تھے۔ پانچ سو ڈالر کے عوض ملنے والی رقم پر ہزار دو ہزار روپے کے مالی نقصان سے زیادہ خاکسار کو قلق اس بات کا تھا کہ اسے بیک جنبشِ قلم فارن کرنسی اکاؤنٹ ہولڈرز کی فہرست سے نکال کر مقامی کھاتہ داروں کی قطار میں شامل کر دیا گیا۔ نتیجتاً راقم کے دل میں اسحاق ڈار کے خلاف ایسی گرہ پڑی جو آج تک نہ کھل سکی۔

جلاوطنی کے دوران دیے گئے ایک انٹرویو میں میاں صاحب نے تسلیم کیا کہ فارن کرنسی اکاؤنٹ منجمد کرنا ان کی غلطی تھی۔ جہاں تک راقم کو علم ہے یہ وہ واحد غلطی ہے جسے میاں صاحب نے تسلیم کیا ہے (خیال رہے کہ موصوف تین بار معزول ہو چکے ہیں ) ۔ اس اعتراف کے بعد خاکسار نے یہ نتیجہ نکالا کہ اگر کبھی میاں صاحب کی حکومت بنی تو ڈار صاحب کو زیادہ اہمیت نہیں ملے گی (اگر آپ اس مقام پر ہنسنا چاہیں تو راقم معترض نہ ہو گا، البتّہ یہ نشاندہی ضرور کرے گا کہ اس قسم کے نتیجے ہمارے سٹار اینکر اور تجزیہ نگار روزانہ کی بنیاد پر نکالتے ہیں ) ۔

لیکن جب میاں صاحب کی تیسری حکومت بنی تو ڈار صاحب نہ صرف وزیرِخزانہ مقرّر ہوئے بلکہ خاکسار کے سینے پر مونگ دلنے کے لئے ہر قابلِ ذکر کمیٹی کی سربراہی بھی ڈار صاحب کو سونپ دی گئی۔ گویا ’جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے‘ والی کیفیت پیدا ہو گئی۔ ان دنوں راقم کو تو یہ بھی شک پیدا ہو گیا کہ اگر حکومتی جماعت میں سے کسی کے ہاں زچگی کا مرحلہ درپیش آیا تو پیدائش کے مراحل سے لے کر زچہ و بچہ کی ابتدائی نگہداشت کے لئے بھی ڈار صاحب کو ہی زحمت دی جائے گی اور وہ مان بھی جائیں گے۔

تاہم ایسا بھی نہیں تھا کہ ڈار صاحب کے لئے میدان خالی تھا۔ میڈیا میں راقم کے کئی ہمنوا تھے لہٰذا ’منشی‘ ، ’اکاؤنٹنٹ‘ ، ’سمدھی‘ ، ’ڈارونامکس‘ جیسی پھبتیاں کسی جاتی رہیں جس سے خاکسار کی تلملاہٹ اگرچہ مکمل طور پر ختم تو نہیں ہوئی لیکن خاصا افاقہ ہوا۔

ڈار صاحب کے برعکس اسد عمر کا تعارف بے داغ ماضی کے حامل ایک ایسے کاروباری عبقری کے طور پر کرایا گیا جس نے کم عمری میں اینگرو جیسے بڑے ادارے کی سربراہی سنبھالی اور کامیابی کے نئے جھنڈے گاڑ دیے۔ اگرچہ ان ہی کی سربراہی کے دوران اینگرو کو مصنوعی طور پر کھاد کے قیمتیں بڑھانے پر اربوں روپے کا جرمانہ بھی ہوا لیکن چونکہ ان دنوں میڈیا کا ایک بڑا حصّہ تبدیلی کے بخار میں مبتلا تھا اس لئے اس بات کا اتنا ذکر بھی نہیں ہوا جتنا ان دنوں لاہور میں بارش سے کھڑے ہونے والے پانی کا ہوتا تھا۔

خاکسار کے لئے بغضٍ ڈار کے علاوہ اسد عمر صاحب سے متاثر ہونے کی ایک وجہ ان کی سالانہ کروڑوں کی آمدن والی نوکری چھوڑ کر بظاہر ملک و قوم کی خدمت کے لئے سیاست میں آنے کا فیصلہ تھا کیونکہ اگر خاکسار کی آمدن کسی معجزے کے نتیجے میں کروڑوں تک جا پہنچے تو ملک و قوم کی خاطر اسے لات مارنے کا خیال چھو کر بھی نہ گزرے۔

پچھلی حکومت کے دور میں اسد عمر صاحب ٹاک شوز کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی کافی متحرّک تھے۔ معاشی اصولوں سے قطعی نابلد ہونے کی وجہ سے خاکسار کو ان بیانات و پیغامات سے یہ تاثر ملتا تھا کہ ڈار صاحب کو معیشیت کے بارے میں کچھ پتہ نہیں اور عمر صاحب کو اگر سب کچھ نہیں تو بہت کچھ پتہ ہے۔

اسد عمر صاحب کی بزرجمہری پر ہلکا سا شک اس وقت گزرا جب الیکشن کے بعد ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ فرمایا کہ وہ وزارت سنبھالنے کی تیاری موسیقی سن کر کر رہے ہیں۔ تاہم پھر خیال آیا کہ انسان چاہے کتنے ہی بلند کاررباری مناصب پر فائز رہے، وزارت کا بہر حال اپنا نشہ ہے اور تھوڑا بہت چھچھور پن گوارا کر لینا چاہیے۔ ویسے بھی پچھلے چند برسوں میں ٹی وی سکرینوں اور سوشل میڈیا پر عمر صاحب کی آنیاں جانیاں دیکھ کر خاکسار یہ گمان کر بیٹھا تھا کہ موصوف ڈار صاحب کی ’عوام دشمن‘ پالیسیوں کا تریاق تیّار کیے بیٹھے ہیں اور وزارت کا حلف اٹھانے کی دیر ہے کہ ’عوام دوست‘ پالیسیوں کا سنہرا دور شروع ہو جائے گا۔ آٹھ ماہ کی کارکردگی دیکھتے ہوئے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ نہ صرف پالیسی معاملات پر کوئی توجّہ نہیں تھی بلکہ موصوف نے وزارت کی تیّاری کے لئے گانا بھی غالباً غلط چنا تھا۔

معاشی اشاریے کچھ بھی کہیں حقیقتاً عوام پچھلے دورِ حکومت میں بھی مطمٔن نہیں تھے۔ مہنگائی کا ماتم اور گیس و بجلی پر بلبلاہٹ پہلے بھی تھی اور حکومت دعوؤں اور عمل میں فاصلہ پہلے بھی تھا۔ فرق یہ ہے کہ پہلے چیک کیش کرانے پر ٹیکس جیسے غیر مقبول فیصلوں اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مستحکم رکھنے جیسی متنازعہ پالیسی کا دفاع کرنے کے لئے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار آنکھوں میں سرمہ ڈالے ٹاک شوز اور پریس کانفرنسوں میں بذات خود آتے تھے اور دلائل کے وزنی یا بے وزن ہونے سے قطع نظر کم از کم یہ تاثّر دینے میں کامیاب رہتے کہ فیصلے صحیح ہوں یا غلط، فیصلہ ساز وہی ہیں۔

اس کے بر عکس ہمارے سابقہ کاروباری عبقری اور موجودہ وزیرِ خزانہ بظاہر فیصلے تو کر لیتے ہیں لیکن ان کا بوجھ اٹھانے سے شرماتے ہیں۔ اگر ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر گرے تو اس کا ملبہ سٹیٹ بینک پر ڈال کر معصوم بن جاتے ہیں۔ پٹرول کی قیمت بڑھے تو یہ اوگرا کی کارستانی ہے۔ کالے دھن کو سفید کرنے کی جس سکیم کا چرچا ہے وہ بھی مبیّنہ طور پر تاجر برادری کے پرزور اصرار بھی دی جا رہی ہے، کسی سوچی سمجھی مالیاتی پالیسی کے تحت نہیں۔

راقم کی شدید خواہش ہے کہ آنے والے چند ماہ میں عمر صاحب اپنی ساکھ اور ملکی معیشیت کو بحال کرنے کا کوئی راستہ تلاش کر لیں وگرنہ اس بات کا شدید اندیشہ ہے کہ ڈار صاحب کا پانچ سو ڈالر پر دیا گیا جو زخم مشرف صاحب کے دس سالہ دور اور اس کے بعد کے عشرۂ جمہوریت میں بھی ہرا رہا وہ نئے پاکستان کے پہلے ہی سال میں مندمل ہونا شروع ہو جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •