میں ”کپتان“ ہوں میرا اعتبار مت کرنا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جج نے پھانسی کے مجرم سے اس کی آخری خواہش پوچھی۔ مجرم نے لجاجت سے جواب دیا کہ جج صاحب! وزیراعظم عمران خان کو عقل کی بات کرتے ہوئے دیکھنا اورسننا چاہتا ہوں۔ جج نے کہا کہ بڑے سیانے ہو ہمیشہ زندہ رہنا چاہتے ہو! ایک اور جج نے پھانسی ہی کے کسی دوسرے مجرم سے اس کی آخری خواہش پوچھی تو اس نے کہا کہ پشاور میٹرو بس پر سفر کرنا چاہتا ہوں۔ جج نے زیر لب مسکراتے ہوئے متذکرہ بالا جواب ہی دیا۔ یہ تو خیر ہلکے پھلکے لطیفے ہیں لیکن اگر غیر جانب داری اور دیانت داری سے ان کا تجزیہ کیا جائے تو عمران خان صاحب کے سابقہ اور حالیہ اقوال میں اتنا تضاد دکھائی دیتا ہے کہ الامان و الحفیظ۔ قول کے ساتھ فعل کے تضاد کا ذکر بے محل اور فضول ہے کیونکہ وزیر اعظم صاحب نے ابھی بجز بد فعلی کوئی فعل انجام ہی نہیں دیا۔

ابھی کل ہی کی تو بات ہے کہ کپتان صاحب بت گروں اور بت شکنوں کی طرف سے فراہم کیے گئے کنٹینر پر کھڑے ہو کر دھواں دار انداز میں قوم کو بھاشن دیا کرتے تھے۔ کنٹینر سے یاد آیا کہ کپتان صاحب کے ایک سو چھبیس دن کے دھرنے کے دوران میں ”مثبت“ والوں کی مہربانی سے ”خوددار اور اصول پرست“ میڈیا نے قومی وقار اور ملکی مفاد کی سر بلندی کے لیے تاریخی دھرنے کی جزئیات تک براہ راست دکھائی تھیں۔ خیر سر دست ہمارا موضوع یہ نہیں فی الحال تو ہم کپتان صاحب کی تضاد بیانیوں بلکہ الٹی قولی قلا بازیوں کی ایک جھلک دکھانا چاہتے ہیں۔

مثال کے طور پر کنٹینر پر کھڑے ہو کر کپتان صاحب فرمایا کرتے تے تھے کہ ہم تعلیم اور صحت پر پیسہ لگائیں گے مگر انہیں حکومت ملی تو آؤٹ ڈور میں مریضوں کو مفت دوائیوں کی فراہمی ختم کردی گئی۔ کل ان کا فرمان تھا کہ سرکاری دفاتر میں آگ لگوانے کا مقصد ریکارڈ کو جلانا ہوتا ہے مگر وزیراعظم سیکریٹریٹ میں آتش زنی کے واقعات پر کچھ اور مؤقف ہے۔ کل تک یہ فرماتے تھے کہ قرض کرپٹ اور لٹیرے حکمرانوں کی لوٹ کھسوٹ کا ایک منحوس حربہ ہے آج فرماتے ہیں کہ قرض اتارنے کے لیے قرض لینا ضروری ہوتا ہے۔

کپتان صاحب کی یہ باتیں تو سبھی نے کئی بار سنی ہوں گی کہ پاکستان سے روزانہ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے، عوام چور اور لٹیرے حکمرانوں کو ٹیکس نہیں دیتے، روپے کی قدر میں گراوٹ ملک دشمنی اور غداری ہے، ملک کے باہر دولت جمع کرنے والے سیاستدان اور حکمران کرپٹ اور ملکی مفاد کا سودا کرنے والے ہوتے ہیں۔ مگر آج مانگے تانگے اور لولے لنگڑے اقتدار کے بعد نہ ہزاروں ڈالرز کی یومیہ منی لانڈرنگ رکی نہ عوام نے صادق و امین حکمرانوں پر اعتماد کر کے انہیں ٹیکس سے مالا مال کیا۔ ڈالر کی پرواز رکی نہ روپے کی گراوٹ کو بریک لگی۔ جہانگیر ترین، علیم خان، فیصل واڈا اور کابینہ کے دوسرے درجنوں اراکین باہر پڑے ہوئے کھربوں ڈالرز کے اثاثے ملک میں واپس لائے نہ کپتان کی ہمشیر گان نے ایسا کیا۔

کل تک تو خان صاحب یہ قول زریں بھی دھراتے نہ تھکتے تھے کہ جس پر کرپشن کا الزام لگ جائے اسے مستعفی ہو جانا چاہیے مگر آج ان کی حکومت کے سیکڑوں وزرا و اراکین اور اتحادیوں پر کرپشن اور لوٹ کھسوٹ کے ہو شربا الزامات ہیں مگر مجال ہے خان صاحب انہیں یہ اصولی مشورہ دیں کہ دامن کی صفائی تک حکومت سے علاحدگی اختیار کر لیں۔ سب سے زیادہ مضحکہ خیز سلوک تو ان کے اس قول بے بدل سے ہو رہا ہے کہ عدالتی نا اہلی کے بعد نواز شریف کو سیاست اور سیاسی کردارسے تائب ہو کر ایک کونے میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرنا چاہیے۔

لیکن اس اصول کے عملی اطلاق کا موقع جب ان کی اے ٹی ایم مشین جہانگیر ترین کے حوالے سے آتا ہے تو ان کے سب اصول بدل جاتے ہیں۔ ایم کیو ایم کی کثافت اور غلاظت کو نفاست اور لطافت میں ڈھالنا تو خان صاحب کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے بلکہ جادو کی ”چھڑی“ کا کمال ہے۔ یہی کپتان صاحب تھے جو اپنے معاشی جادو گر جناب اسد عمر کی ہمنوائی میں بتایا کرتے تھے کہ ن لیگ کی حکومت پٹرولیم مصنوعات میں فی لٹر پینتالیس روپے سے زیادہ ٹیکس لیتی ہے مگر اپنے اقتدار میں یہ ٹیکس اس سے بھی تجاوز کرجاتا ہے تو معافی تو دور کی بات ہے ماتھے پر عرق ندامت کا ایک قطرہ بھی نمودار نہیں ہوتا۔

کل تک مہنگائی اور گرانی کا عذاب نا اہل اور کرپٹ حکمرانوں کی وجہ سے آتا تھا، آج اس کی وجہ معیشت کی بحالی بتائی جارہی ہے۔ کل فرماتے تھے کہ کپتان صادق و امین اور دیانت دار ہو تو ساری ٹیم ٹھیک ہو جاتی ہے، آج اپنی بد ترین کارکردگی اور نا اہلی پر یہ عذر لنگ تراشا جار ہا ہے کہ جب ساری ٹیم ہی نا اہل اور ناتجربہ کار ہو تو اکیلا کپتان کیا کر سکتا ہے؟ تبدیلی کو عملی طور پر تباہ دیلی میں بدلنے والے کپتان نے برسات میں اگنے والی کھمبیوں کی طرح اتنے ”اصولی“ یو ٹرن لیے ہیں کہ شمار محال ہے۔ آسان، عوامی اور خود کپتان کی زبان میں بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ کپتان صاحب نے بائیس سال کا تھوکا صرف آٹھ ماہ میں چاٹ لیا ہے۔ کسی شاعر نے شاید کپتان ہی کے لیے کہا ہے کہ

مری زبان کے موسم بدلتے رہتے ہیں

میں ”کپتان“ ہوں میرا اعتبار مت کرنا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •