مختصر کہانی: بربادی کی وجہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ نیا نیا مسلماں ہوا تھا۔ اس نے اپنے تئیں مطالعہ کرکے اسلام کو دل سے اپنایا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ مسجد میں عبادت سرانجام دے۔ اسے بتایا گیا تھا کہ مسلمان اپنی عبادت مسجد میں کرتے ہیں اور مسجد اللہ کا گھر اور مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ وہ گزشتہ کئی دنوں سے سفر کررہا تھا۔ آج بھی عازم سفر تھا تبھی کسی خیال کے تحت وہ بس سے اترا اور راستے میں موجو دقریبی مسجد میں چلا گیا۔

لیکن اسے گیٹ پر ہی روک لیا گیا۔

مسجد پر ”اسلامی مسجد“ کے عنوان سے نصب شدہ بورڈنظر نہیں آرہا تھا، صرف فرقے کے نام کا ٹیگ تھا۔

حالات ٹھیک نہیں ہیں لہذا آپ اندر نہیں جاسکتے۔ پہلے اپنے بارے میں بتائیے۔ چوکیدار نے اسے روکتے ہوئے پوچھا۔

جی مذہب اسلام سے تعلق رکھتا ہوں۔ نو مسلم ہوں۔ نماز پڑھنے کے لیے آیا ہوں۔ اس کو یہی جواب سوجھا۔

مذاق مت کریں جناب! آپ کا فرقہ کون سا ہے۔ یعنی آپ کس طریقے سے نماز پڑھیں گے۔

میرا فرقہ اسلام ہے۔

گیٹ کیپر مسکرایا اور اسے امام مسجد کے پاس لے گیا۔

امام مسجد کوبتایا گیا کہ وہ نو مسلم ہے۔ انہوں نے جوش میں آکر اسے گلے لگایا اس کے لیے خصوصی جوس منگوایا گیا۔

اس کی خوب خاطر تواضع کی گئی۔ وہ ان کے اخلاق اور حسن سلوک سے بہت متا ثر ہوا۔

وہ اتنا متاثر ہوا کہ اس نے یہیں رہنے کا فیصلہ کیا۔

اگلے دن اسے پیار سے بہت ساری دعائیں اور اعمال سکھائے گئے جب کہ کچھ دیر بعد ایک صاحب اس کے پاس آکر کہنے لگے۔

اچھا دوست، ابھی آپ کو فرقے کا پتا نہیں لیکن ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ کون سا فرقہ سب سے بہترین ہے۔ دراصل ہمارا فرقہ ہی سب سے بہترین ہے۔

وہ کسی مارکیٹنگ منیجر کی طرح اپنے فرقے کی ایک سے بڑھ کر ایک خوبیاں بیان کرتے رہے لیکن ساتھ دوسرے فرقوں کو برا بھلا اور جہنمی کہنا ہرگز نہیں بھولے۔

وہ جلد ہی ان کی باتوں سے اکتا گیا تھا۔ تنگ آکر اس نے کسی کام کا بہانہ کیا اور جلد آنے کا وعدہ کرکے وہاں سے نکل گیا۔ مسجد سے نکلتے ہوئے وہ سوچ رہا تھا وہ مسلمان تو نہیں تھابس کسی فرقے کا کوئی کارندہ یا کارکن تھا یا شاید سب اسے یہی بنا نا چاہتے تھے۔

اس نے اگلے دن دوسری مسجد کا رخ کیا اس کا خیال تھا کہ شاید اس مسجد میں ایسا سلوک نہیں کیا جائے گا۔ وہاں بھی اس نے اپنے نومسلم ہونے کا بتایا اور چبکے سے بتایا کہ وہ ابھی صرف مسلمان ہوا ہے اور اسلامی تعلیمات سے قطعی آگاہ نہیں ہے لہذا اس کی اسی حوالے سے صرف رہنمائی کی جائے۔

وہا ں بھی اس کا پرتپا ک استقبال ہوا۔ اس کی ویسی ہی خاطر تواضع کی گئی جیسے پہلے کی گئی تھی اور جلد ہی غیر محسوس طریقے سے اسے وہی فرقے کی پیشکش کی گئی۔ اس نے بتایا کہ وہ سخت مالی مشکلات کا شکار ہے تب کچھ لوگوں کی طرف سے اسے پرکشش مراعات کی پیشکش بھی کی گئی جس میں کاروباری مدد، شادی اور دیگر دنیا وی امور شامل تھے۔

لیکن اس نے خود اسی فرقے کے لوگوں کو انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارتے دیکھا۔ وہ مسلسل سوچتا رہا کہ جیسی پیشکش اسے دی گئیں تھیں، خود کسمپرسی کے شکار لوگوں پر وہی پیسہ کیوں خرچ نہیں کیا جاتا تھا؟ اسی فرقے کے ماننے والوں پر وہی پیسہ جس کی اسے پیشکش کی جا رہی تھی کیوں خرچ نہیں ہو رہا تھا؟ کیوں وہ اتنے بدحال تھے اور لوگ اسے خو شحال کرنا چاہتے تھے؟

و ہ اسی کشمکش میں وہاں سے بھاگ کر تیسرے فرقے کی مسجد میں پہنچا۔

اس نے جاتے ہی اپنا انداز بدلا اور بتایا کہ وہ فرقہ بدلنا چاہتا ہے۔ وہ لوگوں کے روئے دیکھنا چاہتا تھا۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ فرقے کا ٹیگ لگائے لوگ دراصل اسلام پر کتنے عمل پیرا ہیں۔ اس نے انہیں بتایا کہ وہ اپنے فرقے سے تائب ہونا چاہتا ہے جس پر اس کی خوب آؤ بھگت کی گئی۔ اسے گلے لگایا گیا۔ تبھی وہ بولا۔

میں آپ کے فرقے میں شامل ہونا چاہتا ہوں کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ اس کے لیے مجھے کرنا کیا ہوگا۔

تبھی ایک صاحب مسکرائے اور کہنے لگے :

فرقہ نہیں بلکہ اسلام کہیے، ہم فرقوں پر یقین نہیں رکھتے۔

کافی وقت ان کے ساتھ گزارنے پر اسے معلوم ہوا کہ اس کا کا م دراصل مارکیٹنگ مینیجر والا ہی تھا۔

اس کے استقبال کے لیے باقاعدہ تقریب رکھی گئی تھی جہاں ایک کثیر تعداد میں علمی اور علاقے کی با اثر شخصیات شریک ہورہی تھیں۔

وہ لوگ جو صرٖٖف اسلام کی باتیں کر رہے تھے ان میں سے چند لوگ رات کو اس کے پاس پہنچے۔ تھوڑی دیر اس کے پاس بیٹھ کر اسے نصیحیتں کرتے رہے۔ بالاخر وہ گویا ہوئے۔

کل محفل میں مائیک پر آپ کو کچھ کہنا ہوگا۔

کیا؟

یہی کہ جس فرقے کو آپ نے چھوڑا وہ حق پر نہیں تھا اور اب آپ نے حق کو ڈھونڈلیا ہے۔

مگر میں کیسے کسی فرقے کو برا کہہ سکتا ہوں اور آپ خود کہہ رہے تھے کہ آپ فرقہ بندی پر یقین نہیں رکھتے۔

اس کی آنکھیں نم ہوچکی تھیں۔ تبھی ایک صاحب آگے بڑھے اور اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔

ہم فرقوں پر یقین نہیں رکھتے مگر آپ نے جس فرقے کو چھوڑا ہے وہ حق پر نہیں ہے اور لوگوں کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بدلے میں انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ آپ کی شادی بہترین جگہ کی جائے گی۔ آپ کو مکمل کاروباری مدد حاصل ہوگی اور آخرت میں جنت تو ملے گی دنیا بھی آپ کے لیے جنت بنے گی۔

وہ حیران ہوکر بس انہیں دیکھ رہا تھا جو کچھ عرصہ قبل کہہ رہے تھے کہ وہ کسی قسم کی فرقہ واریت پر قطعاً یقین نہیں رکھتے۔ جلد ہی وہ ان لوگوں سے تنگ آچکا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور لب پر صرف خاموش شکایت تھی۔

وہ سوچ رہا تھا کیا اس کا کام صرف یہی تھا کہ وہ مخالف فرقے کے خلا ف ثبوت جمع کرے۔ ان کے خلاف تقریریں کرے۔ جس فرقے میں وہ شامل ہے اس کی مارکیٹنگ کرے۔ دوسرے لوگوں کو اپنے فرقے کی طرف بلائے۔

تبھی اس نے رنجیدہ ہوکر اگلے دن فرقہ پرستی کی طرف بلاتے چند افراد میں سے ایک فرد سے سوال کیا۔

اس شہر میں کتنے لوگ بھوکے مررہے ہیں۔ آپ ان کے بارے میں نہیں سوچ سکتے تو ان لوگوں کے بارے میں سوچ لیجیے جو آپ کے فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے اپنے فرقے کے کتنے لوگ بھوک سے تنگ ہیں جن کودو وقت کا کھانا میسر نہیں، تعلیم میسر نہیں، علاج کے لیے ان کے پاس پیسے نہیں ہیں جیسا کہ بشیر چھ بیٹیوں کا باپ ہے۔ مسجد میں آتا ہے لیکن اس کے گھر میں فاقے چلتے ہیں میں نے یہی نوٹ کیا ہے پچھلے چند دنوں میں آپ کے فرقے کی دو لڑکیوں کے والدین جہیز کی خاطر رو رہے تھے مگر کسی نے ان کی مدد نہ کی۔

تبھی وہ صاحب مسکرائے اور بس ا تنا کہا:

کہ اس سے بڑھ کر کیا بات ہوگی کہ وہی بشیر صاحب بھی آپ کی مدد کرنے کو تیا رہیں۔ یہ ہے ایما نی جوش، جو آپ میں فی الحال نظر نہیں آرہا۔

وہ بالاخر تنگ آکروہاں سے بھاگ نکلا۔

اور اس کے بعد جتنی مسجدوں میں گیا اسے فرقہ ہی ملا۔

اسلام کہیں نہیں ملا۔

یہاں تو ہر فرقہ اپنی مارکیٹنگ کررہا تھا تاکہ وہ اپنی شے یعنی فرقے کو فروخت کرسکیں۔

اس نے یہ بھی دیکھا کہ اگر کوئی شخص مسلمان ہونے کی خواہش رکھتا تو اس کا استقبال کیا جاتا تھا لیکن اگر وہ فرقہ چھوڑ کر دوسرے فرقے میں جاتا تو اس کا استقبال شہنشاہ کی طرح کیا جاتا۔ اس کو مراعات بھی شہنشاہوں والی ملتی اور اس کے بدلے میں اسے مخالفے فرقے کو پچھاڑنا ہوتاتھا۔ ہر جگہ اس فرقے کی برائیاں کرنی ہوتی تھیں۔

اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خود دین کا مطالعہ کرے گا اور دین سیکھنے کی کوشش کرے گا۔

کچھ دنوں بعدوہ کمرے میں بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا تبھی چینل بدلتے ہوئے اس کے ہاتھ ریموٹ پر رک سے گئے۔ وہاں ایک پروگرام چل رہا تھا جہاں وہی صاحب، جنہوں نے اسے فرقے کے خلاف تقریر کرنے کو کہا تھا، چینل پر بیٹھے کہہ رہے تھے کہ وہ فرقے پر یقین نہیں رکھتے بلکہ امت پر پقین رکھتے ہیں اور امت کی بربادی کی وجہ فرقہ پرستی ہے۔

وہ ہنسا۔ کافی دیر ہنسنے کے بعد اس نے ٹی وی بند کیا۔ تبھی وہ کمرے سے اٹھ کر صحن کی طرف چلا گیا۔ آج اسے مسلمانوں کے زوال کی اصل وجہ سمجھ میں آگئی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •