سیاسی موضوعات اور لکھاری کا مخمصہ


کسی بھی لکھاری کے لئے موضوع کاانتخاب ایک مرحلہ ہوتا ہے۔ اکثر گلہ کیا جاتا ہے کہ کرنٹ افئیرز یا سیاسی ماحول کو موضوعِ سخن کیوں نہیں بنایا۔ سیاست پر لکھنا بہت بور کام لگتا ہے۔ ایک تو آج کل کے دور میں معلومات کی فراوانی نے دلیل کو ارزاں کر دیا ہے۔ دوسرا انٹرنیٹ پر دستیاب پلیٹ فارمز کی وجہ سے لکھنے والوں کی بہتات ہے۔ بھانت بھانت کی آوازوں میں لکھے گئے لفظ کی وقعت معدوم ہوتی جا رہی ہے۔ تو ایسے میں کوشش ہوتی ہے کہ سماجی موضوعات کو ترجیح دی جائے۔

قارئین کی اکثریت یہ فرض کر لیتی ہے کہ لکھنے والا نیوٹرل نہیں ہو سکتا، بلکہ ہر لکھنے والا کوئی متوالا، جیالا یا کھلاڑی ہی ہو گا۔ اور اگر نہیں تو پھر لفافہ لے کر لکھتا ہو گا۔ پاکستان میں سیاسی اخلاقیات کی تاریخ کچھ اتنی روشن تو نہ تھی، لیکن گذشتہ ایک عشرے سے اخلاقی گراوٹ اور عدم برداشت اس انتہا کو پہنچ گئے ہے کہ جید لکھنے والوں کا دامن بھی محفوظ نہیں رہا تو ہم ایسے ہما شما کس شمار میں ہوں گے۔ مخالف نکتہ نظر کو برداشت کرنا اور دلیل کا دلیل سے موازنہ کرنا مطالعے کی پہلی شرط ہے۔

انٹرنیٹ پر معلومات کی فراوانی نے جہاں مواد کی بہتات کو جنم دیا ہے، وہیں عدم برداشت کو اخلاقی گراوٹ کے نئے معیارات سے بھی روشناس کروایا ہے۔ جس کے نکتہ نظر سے اتفاق نہیں اسے کافر، قادیانی، غدار، ننگِ ملت ننگِ وطن، لبرل انتہا پسند اور جس مرضی لقب سے پکار لیا جائے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مسلم لیگ کے خلاف کچھ لکھ دو تو برے ٹھہرے، پی ٹی آئی کی کسی بات پر تنقید کر دو تو پٹواری، لفافہ، جاہل اور جانے کن کن القابات سے نوازا جاتا ہے۔ پی ٹی آئی کے بارے میں کچھ لکھنا آ بیل مجھے مار کے مترادف ہے۔ دشنام طرازی، بہتان تراشی اور دروغ گوئی کے مستند ماہرین ہمہ وقت آپ کی عزت افزائی کے لئے موجود ہوتے ہیں۔ مذہب کے نام پر ہونے والے بیوپار پر تنقید کر دو تو فوراَ کافر، لبرل، قادیانی جیسے القابات آپ کی تواضع کے لئے تیار ہوں گے۔

 مجھے ایک عام شہری کی حیثیت سے ہمیشہ ن لیگ کے طرزِسیاست سے اختلاف رہا۔ ایک قاری اور طالبِ علم کی حیثیت سے میں نے ہمیشہ عرفان صدیقی صاحب کے کالم باقاعدگی سے پڑھے۔ حالانکہ مجھے ان کی شخصیت، ان کے غیر دانشمندانہ مشوروں اور سیاسی بالغ نظری پر شدید تحفظات ہیں، لیکن جب وہ ایک ممتاز روزنامے میں لکھا کرتے تھے، تو میں نے باقاعدگی سے انہیں پڑھا۔ میں آج بھی یہ سمجھتا ہوں کہ ان سے خوبصورت نثر اردو کالم نگاروں میں شائد ہی کوئی لکھتا ہو۔ فکری اختلاف اپنی جگہ، لیکن کئی دفعہ ان کے کالموں سے ہی نئی معلومات بھی ملیں اور بعض دفعہ اصلاح بھی ہوئی۔

اسی طرح بہت سے ایسے لکھنے والے جو حد سے زیادہ پی ٹی آئی کو سپورٹ کرتے ہیں، ان سے بھی بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ بہت سی باتوں سے اختلاف بھی ہوتا ہے۔ لیکن لکھنے والے کی رائے اور اس رائے کی بنیاد بننے والے دلائل کو جاننا بھی ضروری ہے۔ بسا اوقات دلیل کے دلیل سے موازنے میں مخالف نکتہ نظر آپ کو قائل کر سکتا ہے، یا آپ کا اپنے دلائل پر یقین مزید پختہ ہو سکتا ہے۔ لیکن دلیل اور مکالمے کے بغیر کوئی ایک پوزیشن لے کر اپنی سیاسی پارٹی کے ہر کام کا دفاع کرنا، فکری بالیدگی نہیں ذہنی غلامی کہی جا سکتی ہے۔

ایسے سیاسی ماحول میں سب سے آسان کام یہ ہے کہ کوئی ایک پوزیشن لے کر اس پر ڈٹ جائیں۔ اپنی پارٹی کے ہر اچھے برے کام کا دفاع کریں، مخالفوں سے گالیاں پڑتی ہیں تو پڑتی رہیں، دونوں طرف سے گالیاں کھانے سے تو بہتر ہے کہ ایک طرف سے پڑیں۔

چند مثالیں پیشِ خدمت ہیں۔ مثلاَ اگر میں نے مسلم لیگ کے کسی عمل یا فیصلے پر تنقید کی ہے، تو کیا ضروری ہے کہ میں پی ٹی آئی کی ہر جاہلانہ حرکت کا دفاع کروں؟ ہمارے خودساختہ ماہرِ معیشت اسد عمر صاحب روپے کی قدر گھٹا کر برآمدات کو زیادہ دکھائیں تو کیا ضروری ہے کہ میں واہ واہ کروں؟ عمران خان پنجاب جیسے بڑے صوبے کے لئے عثمان بزدار جیسا وزیراعلیٰ چنیں جس کی قابلیت ایک یونین کونسل چلانے کی بھی نہیں تو کیا ہر شخص کے لئے ضروری ہے کہ عثمان بزدار کو وسیم اکرم ثابت کرے؟ بصورت دیگر پٹواری کہلائے جانے کے لئے تیار ہو جائے؟

فیصل واڈا کے حالیہ دعوے کو سادہ سے سادہ لفظوں میں جہالت اور کم علمی کہا جا سکتا ہے۔ وفاقی حکومت نے ریکارڈ قرضے لئے ہیں۔ ایوانِ وزیراعظم میں یونیورسٹی کے نام پر ڈرامہ برپا کیا گیا۔ فرانسیسی صدر کی ٹیلیفون کال اور امریکی وزیر خارجہ سے وزیر اعظم کی ملاقات کے بعد کی پریس ریلیزوں سے پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی۔ حیدرآباد میں یونیورسٹی کے نام کی تبدیلی، جسے سنگِ بنیاد کہا گیا، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام کی تبدیلی، ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے لئے نئی وزارت کی تشکیل۔ حلال ایمنسٹی سکیم، ڈالر کی قیمت کنٹرول نہ کر سکنا، تجاری سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کر کے درآمدات کم کرنا جس سے معیشت کو فائدہ کم نقصان زیادہ ہو رہا ہے، لیکن آپ خوش ہوں کہ تجارتی خسارہ کم ہو گیا، سٹاک مارکیٹ کی تباہی، ترقیاتی بجٹ کا استعمال نہ ہونا۔ ایف بی آر کا ٹیکس وصولی کا ہدف پورا نہ کرسکنا اور ایسے کتنے ہی واقعات۔ تو کیا ان پر تنقید کرنے سے میں پٹواری اور جاہل ہو جاؤں گا؟

اسی طرح اگر میں ن لیگ کے شاہانہ طرزِسیاست پر بات کروں، موروثی سیاست پر بات کروں، کرپشن پر بات کروں، حمزہ شہباز کے اختیارات کے ناجائز استعمال کی نشاندہی کروں۔ آئی پی پیز کو چار سو ارب روپے کی غیر قانونی ادائیگی پر بات کروں یا ایسے کسی اور معاملے پر تنقید کروں تو کیا میں غیر جمہوری قوتوں کا نمائندہ بن جائوں گا؟

خادم رضوی جیسے نیم خواندہ اور بدتہذیب لوگوں کو مذہبی رہنما کہنے پر تنقید مجھے کافر بنا دیتی ہے۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو مسجدوں میں جانے اور مسلمانوں سے گلے ملنے کو سب سراہتے ہیں۔ میں اگر کہوں کہ ہمارے ملک میں گرجاگھروں، مندروں، درباروں اور قادیانی عبادت گاہوں پر حملے ہوئے، کاش ریاست کے سربراہ اور عوام ویسے ہی اقلیتوں کے دکھ بانٹتے جیسے نیوزی لینڈ والوں نے کیا، تو میں کافر اور قادیانی قرار دیا جاتا ہوں۔ اگر ہیرو پرستی کی شکار قوم میں ڈاکٹر عبدالقدیر اور ڈاکٹر عافیہ کے حوالے سے تصویر کا دوسرا رخ پیش کروں تو غدار، لبرل اور یہود و نصاریٰ کا ایجنٹ۔

عرض یہ ہے کہ لکھنے والا اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے جس کے حق میں دلائل بھی پیش کرتا ہے۔ آپ کی کسوٹی پر وہ پورا اترے تو ٹھیک، لیکن اگر اختلاف ہو تو اختلاف دلیل سے کیجئے۔ کون کتنا اچھا مسلمان یا پاکستانی ہے، اس کا آپ سے کوئی تعلق نہیں۔ جس موضوع پر بات ہو رہی ہے، اس پر تحقیق کیجئے اور اپنے دلائل سے مخالف فریق سے بات کیجئے۔ جن معاشروں میں دلیل اور مکالمہ زوال کا شکار ہو جائے، پھر وہاں ممتاز قادری اور خطیب حسین ہی پیدا ہو سکتے ہیں، ڈاکٹر عبدالسلام اور ارفع کریم نہیں۔

Facebook Comments HS