آخر مرد کیوں جلدی مرجاتے ہیں؟ اصل وجہ جانیے
برسوں پہلے کا وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب امی نے پہلی بار گھر میں نہاری بنانے کی کوشش کی۔ بڑے بھائی کھانے کے لیے بیٹھے تو پلیٹ ایک طرف کھسکا کر اٹھ گئے اور امی سے بولے کہ اب کبھی نہاری کھانے کا دل چاہے تو بتا دیجیے گا، میں بازار سے لے آؤں گا۔ اس کے بعد امی نے نہاری اس وقت بنائی جب بھائی لمبی اڑان بھر کے وطن کو خیر باد کہہ کر جا چکے تھے۔ اب وہ امریکا میں کنوارے پن کی بھرپور زندگی گزار تے ہوئے دل بھر کے ہوٹلنگ کرتے ہیں۔ میری بہن اپنے شوہر کی تعریف کرتے کرتے نہیں تھکتیں، شوہر سے راضی رہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اکثر بہنوئی ان کی ہم دردی میں کھانا باہر سے لانے کی پیشکش کر دیتے ہیں، جو بہن بنا کسی حجت کے مسکرا کے قبول کرلیتی ہیں۔ سو چپلی کباب، کبھی حلیم، کبھی نہاری، بروسٹ یا اور دیگر ریڈی میڈ کھانے آئے دن ان کے دسترخوان کی زینت میں اضافہ کرتے ہیں۔ یوں بہ حیثیت شوہر میرے بہنوئی کا کھاتا نیکیوں سے اور پیٹ من پسند ذائقوں سے بہ آسانی بھر تا رہتا ہے۔ مرحوم اباجان کو شوگر کی بیماری اپنے ساتھ لے گئی۔ جب تک زندہ رہے تمام پرہیز خود پر یہ کہہ کر حرام کیے رکھا کہ موت کا تو ایک دن معین ہے، سو زبان کو دنیا کی نعمتوں سے کیوں محروم رکھا جائے۔ اس قولِ زریں کو دہرانے کے لیے والد صاحب اڑتالیس سال سے زیادہ حیات نہ رہ سکے۔ جس حساب سے شوگر انہوں نے ساری زندگی کھائی، آخر میں وہ انہیں ہی کھا گئی۔
اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ گھر کی بھیدی لنکا ڈھانے پر تلی ہے، تو چلیے گھر سے باہر کی بات کرتے ہیں۔ گذشتہ سال کی بات ہے ہماری ایک جاننے والی جواں عمری میں بیوہ ہو گئیں۔ شوہر کی اچانک موت کا صدمہ جھیلنا کسی طور آسان نہیں، وہ اکثر روتے روتے بس یہی کہتیں، کتنے دن سے پائے کھانے کا کہہ رہے تھے، اور کھائے بھی بہت دل سے تھے، کھانا کھا کر وہ لیٹ گئے۔ میں باورچی خانہ سمیٹ کے واپس کمرے میں آئی تو سب ختم ہو چکا تھا۔ لوگ آج تک ان کی موت کہ وجہ تلاش کرنے میں ناکام ہیں لیکن میں سمجھتی ہوں پائے کھا کر پاؤں پھیلانے کی ادا ملک الموت کو بھائی نہیں، سو وہ عمر اور وقت کی پروا کیے بغیر ان کو ساتھ لیتا گیا۔ ایک اور صاحب ملٹی نیشنل کمپنی میں اچھے عہدے پر فائز ہیں۔ لنچ انہیں کمپنی کی طرف سے مہیا کیا جا تا ہے۔ پچھلے دنوں پیٹ کے کچھ امراض نے دامن پکڑا تو بیگم نے اصرار کیا کہ دوپہر کا کھانا گھر سے دفتر لے جایا کریں۔ اس تجویز کو خاوند نے فوراً مسترد کردیا۔ ان کے نزدیک کمپنی کے ہائی فائی مینیو کے سامنے گھر کا ٹفن کھولنا ایک بڑے افسر کے لیے سوائے بے عزتی کے اور کچھ نہیں۔ اب وہ دفتر سے چھٹی لے کر زیادہ تر وقت ڈاکٹروں کی سنگت میں گزارتے ہیں۔
یہ تو بس چند ہی واقعات ہیں۔ آپ سوچیں گے کہ ان واقعات کو بیان کرنے کی وجہ کیا ہے؟ وجہ میں آپ کو بتاتی ہوں۔ آپ نے عورتوں کے عیب گنوانے والے مردوں کے منہ سے ایک یہ شکوہ بھی اکثر سنا ہوگا کہ عورتیں تو مردوں کو زندہ بھی نہیں رہنے دیتیں، خود بڑھاپے تک جیتی ہیں، میاں کو اتنے دکھ دیتی ہیں کہ وہ بے چارہ جی بھی نہیں پاتا۔ ہائے، بے چاری عورت فرشتہ بھی قرار پائی تو موت کا! ویسے تو کہا جاتا ہے کہ عورت کا جنم ٹیڑھی پسلی سے ہوا ہے، اس کا خمیر عجیب مٹی سے اٹھایا گیا ہے کہ وہ سوائے سر درد کے کچھ ثابت نہیں ہوتی۔ اگر ایسا ہے تو پھر جاپانی عورتیں اس آفاقی اصول سے مستثنیٰ کیوں ہیں؟ وہاں تو مردوں کی اوسط عمر تیراسی سال یا اس سے بھی کچھ زیادہ ہے۔ چین سمیت بہت سے مغربی ممالک میں بوڑھی عورتوں کے ساتھ بوڑھے مردوں کی بھی کثیر تعداد موجود ہے۔ کیوں؟ وہاں کے مرد کیوں نہیں مرتے؟ ناگہانی موت کا عذاب یہاں کے مردوں پر ہی کیوں نازل ہوتا ہے؟
اس کا الزام عورت پر رکھنے کے بجائے اگر حقیقت پسندی سے جائزہ لیں تو ایک بات کا سب اعتراف کریں گے کہ گلی محلوں سے لے کر سڑکوں تک سب جگہ کھانے پینے کے جتنے ٹھیلے، ٹھیے، ڈھابے یا ریستوراں ہیں ان پر رونق لگانے والے مرد حضرات نہیں تو اور کون ہیں؟ شام کے وقت ٹھیلوں کے چاروں طرف مردوں کا ہجوم ہوتا ہے، جو غیرمعیاری اور کھلی اشیا کھلے عام اپنے پیٹوں میں اتارتے ہیں۔ ڈھابوں کے گندے برتنوں میں ڈنر تناول کرتے ہیں، خود ہی نہیں کھاتے بلکہ آس پاس بیٹھی بلیوں اور کتوں کے ندیدے پن کی بھی تسکین کرتے ہیں۔ ہر دو سو قدم کے فاصلے پر ایستادہ فرنچ فرائز اسٹالز سے لڑکے اور مرد حضرات اس وقت تک نہیں ہٹتے جب تک دکان دار ان کے ڈبوں کو کناروں تک کیچ اپ، چٹنی اور مایونیز سے بھر نہ دے۔ صرف یہی نہیں بلکہ تمباکو، پان، چھالیہ، گٹکے اور سگریٹ سے اپنی صحت برباد کرنے کی کافر لت میں مبتلا افراد کی تعداد میں کیا اکثریت مردوں کی نہیں؟ دوستوں کے ساتھ رات گئے تک ہوٹلوں پر لگنے والی بیٹھک اور اس میں کثرت سے پی جانے والی چائے اور کولڈ ڈرنک انسانی زندگی کو سوائے کم کرنے کے اور کیا کرتی ہیں؟ ایسے گھرانوں کی بھی کمی نہیں جہاں سبزیاں صرف اس لیے نہیں بنتیں کہ گھر کے مرد نہیں کھاتے۔ رات کا کھانا کھاتے ہی بستر پکڑ لینا مردوں کا عام معمول ہے، جو کہ دل کی بیماریوں کی بڑی وجہ ہے۔ غرض مردوں کی ایک بڑی تعداد بچپن سے ہی اپنی صحت برباد کرنے کے خطرناک ترین شوق میں مبتلا ہوتی ہے، جس کے اثرات بیماریوں کی صورت میں جلد ہی نمودار ہونے لگتے ہیں۔ یہ بیماریاں اکثر جان لیوا ثابت ہوتی ہیں، اور اگر قسمت سے بچ بھی جائیں تو کئی بمشکل زندگی کے دن پورے کرتے ہیں، اور اس کا ذمہ دار اٹھتے بیٹھتے بس ازدواجی رشتے اور عورت کے وجود کو قرار دیتے ہیں۔
سائنسی تحقیقات کے مطابق کسی بھی معاشرے میں لوگوں کے کھانے پینے کی عادات ان بہت سارے عوامل میں سے ایک ہیں جو اوسط عمر بڑھانے یا گھٹانے کا باعث بنتے ہیں۔ صحت مند اور طویل زندگی ایک حسین خواب ہے، لیکن خوابوں کو پانے کے لیے جو جتن آپ خود کر سکتے ہیں وہ کوئی دوسرا نہیں کرسکتا۔ اپنی صحت کے ساتھ کھلواڑ آپ خود کریں اور بدترین نتائج کا ذمہ دار عورت کو ٹھہرائیں یہ سوائے صنفی عداوت کے اور کچھ نہیں۔ خواتین کو طویل عمر کا طعنہ دینے کے بجائے اگر آپ مرد صاحبان کھانے پینے کے معمولات اور عادات ذرا سی تبدیل کرلیں تو یقیناً اچھی صحت کے ساتھ طویل عمر گزارنے والے خوش نصیبوں میں شمار ہو سکتے ہیں، ورنہ عورتوں سے یوں ہی بیر باندھے بیٹھے رہیے، کسی کا کیا جاتا ہے؟


