مدراس میں ملازمت، ادنیٰ اہل کاروں کی خباثت اور انگریز افسروں کی دیانت
جواب میں گویا ہوا کہ مجھے کسی اعلیٰ افسر کا حکم نہیں تھا اور قلی ریلوے کے ہیں نا کہ چیف انجینئرکے۔ نیز بیرے کا طرز گفتگو میرے لیے ناقابل برداشت تھا اس لیے میں نے انکار کر دیا۔ جب میں اور ایکسیئن صاحب بات کر رہے تھے تو چیف انجینئر بھی پاس آ گیا۔ چیف انجینئر کچھ عمر رسیدہ تھا اور بڑے رعب داب والا تھا۔ پوچھنے لگا کہ کیا معاملہ ہے۔ ایکسیئن نے جب میری اور بیرے کی گفتگو اور کش مکش اور سامان کے لے جانے میں دیر ہونے کا سارا قصہ بیان کر دیا، تب چیف انجینئر صاحب فرمانے لگے کہ قصور مستری کا نہیں تم افسروں کا ہے۔ کیا تم نے قلیوں کے لیے اسسٹنٹ انجینئرکو کہا اور اس نے اوورسئیر کو کہا تو پھر کیا اوورسئیر نے مستری کو کہا تو اس بارے میں سب نے سر پھیر دیا اور No، Noکی آواز سب کی زبان سے نکلی۔
تب چیف انجینئرخوب گرم ہوا اور مجھے کہنے لگا کہ تم اپنے کام اور فرض میں درست ہو۔ اس لیے اب مہربانی کرکے یہ قلی مجھے دے دو جو بیرے کے ساتھ سامان لے جائیں۔ تم ان سب قلیوں کی غیر حاضری اپنے رجسٹر میں لگا دینا۔ ان کی آج کی مزدوری میں اپنی جیب سے بیرے کے ہاتھ تم کو بھیج دوں گا، وہ تم ان کو بانٹ دینا۔ میں نے اسی وقت حکم کی تعمیل کی۔ قلی جو اس وقت آٹھ تھے اور ایک میٹ تھا، سب سامان اٹھا کر چل دیے۔ تیسرے یا چوتھے روز جب صاحب بہادر واپس آئے تو اسی بیرے نے ان قلیوں کی مزدوری لا کر مجھے دے دی اور پھر وہ بیرا مجھ سے معذرت کرنے لگا کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ آپ پنجابی ہیں، میں نے مدراسی سمجھ کر ڈانٹ پلا دی تھی۔ خیر میں نے پیسے یا روپے جو بھی تھے جیب میں داخل کیے اور قلیوں کی اس روز کی غیر حاضری لگا دی۔ بعد ازاں قلیوں کو رخصت دے کر ان کا حق بھی ادا کر دیا کیونکہ وہ روزانہ مزدوری پر ہوتے تھے۔
بابو صاحب کو جب تک قلیوں کی تنخواہ ادا نہیں ہو گئی فکر ہی لگی رہی کیونکہ بابو صاحب اپنی ڈیوٹی کے پابند اور افسروں سے ہمیشہ دب کر رہا کرتے تھے لیکن یہاں تو نہنگ ملنگ، ڈرنا بھی کس لیے۔ اس واقعہ کے بعد ایکسیئن نے مجھے دو آنہ کی ترقی دے دی۔ پس بعض اوقات حوصلہ مندی اور ضد بھی کام آ جاتی ہے۔ انسان کو سوائے خدا اور رسول کے کسی سے نہیں ڈرنا چاہیے۔ اللہ ہی سب کا رازق اور مالک ہے۔ اللہ کے رسول ہادی رہبر ہیں ان کی پیروی کرنا بھی فرض اولین ہے۔ باقی دنیا کے روزگار تو ایسے ہی چلتے رہتے ہیں۔
مدراس کے صوبے خاص کر اس علاقے میں، جہاں ہم لوگ رہتے تھے، سانپ اور بچھو بہت کثرت سے ہوتے تھے۔ بچھو کے کاٹنے کی تو ہر روز کوئی نہ کوئی چیخ پکار ضرور سنی جاتی تھی۔ اس سلسلے میں ایک دردناک کہانی بیان کرتا ہوں۔ بابو صاحب کا ایک خلاصی تھا جس کا نام حیدر تھا۔ وہ سانپ کو ہاتھ سے پکڑ کر مار ڈالتا تھا اور بالکل خوف زدہ نہیں ہوتا تھا۔ دس دس میل تک اس علاقہ کے لوگ سانپ کو پکڑنے یا مارنے کے لیے لے جایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ اس کا چھوٹا بھائی اپنے گاؤں بھتی پرول میں تاڑ کے درخت پر چڑھا ہوا تھا تو سانپ نے نیچے درخت کے گرد لپیٹ ڈال لیا۔ سانپ اس کو نیچے اترنے نہیں دیتا تھا۔ حیدر اس وقت پلی کونہ میں بھتی پرول سے تین میل کے فاصلے پر تھا۔ وہاں سے اس کو بلانے کے لیے ایک آدمی آیا کہ تیرے بھائی کو سانپ نے درخت پر روک رکھا ہے۔ پس وہ اسی وقت اس آدمی کے ہمراہ، بابو صاحب سے رخصت لے کر، چلا گیا اور اس نے جا کر سانپ کو فوراً مار دیا اور اپنے بھائی کو درخت سے اتارا۔ اسی طرح ہمارے بنگلے کے سامنے ایک روز دو سانپ لڑ رہے تھے یا کھیل رہے تھے۔ حیدر نے ہمارے ہر چند منع کرنے پر دونوں سانپوں کو جا کر پکڑ لیا اور گھما گھما کر مار دیے۔ آخر اس بے چارے کی موت بھی سانپ کے کاٹنے سے ہی واقع ہوئی۔
ایک رات چار خلاصی باہر برآمدے کے سامنے زمین پر سو رہے تھے اور میں بھی ا ن کے نزدیک ہی برآمدے میں سویا ہوا تھا۔ حیدر بھی ان چاروں آدمیوں کے درمیان سویا ہوا تھا۔ قریباً رات کے بارہ بجے ایک سانپ آیا، دوسرے سب آدمیوں کو چھوڑ کر حیدر کو ڈس لیا جو کہ بیدار ہو گیا اور کہنے لگا کہ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کیڑے نے مجھے کاٹا ہے۔ بابو صاحب کو آواز دی جو کہ اسی وقت لالٹین لے کر آئے۔ جب تلاش کیا تو سانپ کو سائیکل کے نیچے بیٹھا پایا۔ اسی وقت حیدر نے سانپ کو ہاتھ سے مارا۔ اس کو بطور آزمائش نمک کھلایا گیا جس کا ذائقہ اس نے کہا کہ نمک کا ہی ہے۔ کیونکہ سنا گیا ہے کہ سانپ کے کاٹے ہوئے کو اگر نمک کھلایا جائے تو ذائقہ میں فرق آ جاتا ہے۔ پس بے فکر ہو کر سو رہے لیکن جب تین چار بجے تو اس کو زہر چڑھنا شروع ہو گیا۔
پھر کیا تھا صبح ہوتے ہوتے وہ بہت تنگ ہو گیا۔ ہر چند دوا دارو کیا، جھاڑ پھونک والوں کو بلایا گیا لیکن کچھ افاقہ نہ ہوا۔ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ شام ہوتے تک اس کی ناک اور منہ سے خون بہنا شروع ہو گیا۔ جب بہت لاچار ہوئے اور دوائی وغیرہ سے کچھ آرام آتا نظر نہ آیا تو اس کے والدین کو اطلاع کی گئی جو کہ وہاں سے تین میل کے فاصلے پر بھتی پرول میں رہتے تھے۔ وہ بے چارے آ کر اس کو چارپائی پر ڈال کر ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔ تیسرے روز وہ اسی حادثہ سے فوت ہو گیا۔ بابو صاحب اور میں بھی اس کے مرنے کے چند گھنٹے بعد وہاں گئے۔ اس وقت بھی اس کے جسم، منہ اور آنکھوں سے خون جاری تھا۔ یہ ویسی ہی مثال ہے کہ شکاری کی موت بھی شکار سے ہی ہوا کرتی ہے۔ میں اور بابو صاحب اس وقت بہت روئے کیونکہ وہ لڑکا بابو صاحب کے سب آدمیوں سے خوبصورت، تابعدار اور محنتی تھا۔ اس کے والدین کی اس وقت گریہ و زاری سننے اور برداشت سے باہر تھی۔ پھر بابو صاحب نے اس کے چھوٹے بھائی کو، جس کا نام یوسف تھا، اپنی نوکری میں لے لیا جو کہ اخیر تک ہمارے ساتھ رہا۔
سنہ 1916 ء میں مدراس ریلوے سے ملازمت ختم ہو نے کے بعد مجھے پونا تک ریلوے پاس مل گیا تھا۔ میں براستہ دراوڑ پونا ہوتا ہوا بخیریت ریلوے سٹیشن شانکر [تحصیل نکودر، ضلع جالندھر] اتر کر گھر پہنچ گیا۔ ان دنوں جنگ خوب زوروں پر تھی۔



