مدراس میں ملازمت، ادنیٰ اہل کاروں کی خباثت اور انگریز افسروں کی دیانت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے دادا جان ( 1892۔ 1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس کا چپہ چپہ دیکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک (کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ) میں ان کا قیام رہا تھا۔ افریقا میں قیام کے دوران ہی ( 1938۔ 46 ) انہوں نے اپنی سوانح لکھنا شروع کی تھی جس کا نام ”سفری زندگی“ رکھا تھا۔ ”سفری زندگی“ کے کچھ اقتباسات ”ہم سب“ میں شائع ہو چکے ہیں۔ زیر نظر اقتباس میں دادا جان نے مدراس ریلوے میں اپنی ملازمت کے ابتدائی مشاہدات بیان کیے ہیں۔

سنہ 1914 ء میں مدراس کے علاقہ کی طرف گنڈر شالی۔ رائے پلی ریلوے کنسٹرکشن سے بابو شرف الدین صاحب کو نوکری کی چٹھی آ گئی۔ تنخواہ بھی معقول تھی۔ بابو صاحب مجھے ساتھ لے کر مدراس کی طرف چل دیے۔ اس ریلوے کنسٹرکشن کا ایگزیکٹو انجینئر مقام تنالی میں رہتا تھا۔ میں نے بھی یہاں پہنچ کر ملازمت کے لیے درخواست دے دی۔ جب وہ دورے پر آیا تو اس نے مجھے ملاقات کے لیے بلایا اور بابو صاحب کو کہہ کر چلا گیا کہ اسسٹنٹ انجینئر تمہارے بھائی کو بطور مستری رکھ لے گا۔ خیر چند روز بعد ایگزیکٹو انجینئر نے مجھے نوکری کی چٹھی بھیج دی لیکن تنخواہ مقرر نہ کی۔ یہ کام اسسٹنٹ انجینئر پر چھوڑ دیا۔ مجھے ڈیوٹی پر ایک نصف انگریز یعنی اینگلو انڈین کے ماتحت لگایا گیا جو کہ اپر سبارڈینیٹ کے عہدہ سے موسوم تھا۔ مجھے کنسٹرکشن کے اخیر یعنی Terminus سٹیشن پر لگایا گیا۔ خود اپر سبارڈینیٹ بھتی پرول میں رہتا تھا حالانکہ اس کا ہیڈ کواٹر وہاں سے تین میل دور پلی کونہ میں تھا۔ چونکہ وہ خود بھی انگریزوں میں پاؤں رکھتا تھا اس لیے چھوٹے گاؤں میں رہنا پسند نہیں کرتا تھا۔

خیر کام کاج شروع ہوا۔ یہاں پر اسسٹنٹ انجینئر اور اپر سبارڈینیٹ خوب مل کر رہتے اور عیش کرتے تھے۔ کام وغیرہ کی بہت کم پروا کرتے تھے۔ میں چونکہ نیا تھا اور ٹھیکے داروں کے ساتھ مل ملا کر رہنے سے ناواقف تھا لہٰذا میں نے پتھر کی چنائی کا کام specifications کے مطابق ٹھیکے داروں سے لینا شروع کر دیا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ ٹھیکے دار، جو کہ مدراسی تھا، اسسٹنٹ انجینئر کا دوست اور چہیتا تھا۔ پس ٹھیکے دار نے میری شکایت کر دی۔ ابھی میری تنخواہ مقرر نہیں ہوئی تھی۔ اسسٹنٹ انجینئرنے میری تنخواہ صرف دس آنے یومیہ مقرر کی۔ وہاں پر مستری کی تنخواہ دس آنے سے لے کر ایک روپیہ تک بھی تھی۔

میں نے سوچا کہ چلو کام کا تجربہ تو ہو گا۔ اس وقت زمانہ بھی بہت سستا تھا۔ صرف دو تین روپیہ ماہانہ میں گزر ہو جاتی تھی۔ میں نے چند ماہ بعد ڈائریکٹ درخواست اپنے ہیڈ کواٹر ایگزیکٹو انجینئرکو بھیج دی جس سے اسسٹنٹ انجینئر ناراض تو ہوا لیکن ایگزیکٹو انجینئرنے مجھے دو آنے یومیہ ترقی دے دی۔ وجہ یہ تھی کہ اسے معلوم ہو گیا تھا کہ اپر سبارڈینیٹ صاحب خود کچھ نہیں کرتے اور سارا کام مستری سے کرواتے ہیں۔ اس لیے وہ ناراض رہنے لگا تھا۔

ایگزیکٹو انجینئرنے اپر سبارڈینیٹ کو کہا کہ اپنے اصلی ہیڈ کواٹر پلی کونہ میں جا کر رہو لیکن اس کو یہ پسند نہیں تھا جس سے ایکسیئن صاحب اور اپر سبارڈینیٹ میں جھگڑا ہو گیا۔ اسسٹنٹ انجینئر اپر سبارڈینیٹ کی حمایت میں تھا اس لیے اسسٹنٹ انجینئر نے استعفا دے دیا۔ اپر سبارڈینیٹ صاحب بھی اس کے بعد استعفا دے کر چل دیے۔ اس کش مکش کے دوران میں ایک دفعہ ایگزیکٹو انجینئرصاحب دورے پر آئے تو میں نے بھی اسسٹنٹ انجینئراور اپر سبارڈینیٹ صاحب کی چند لاپرواہیاں، جو کہ کام کے متعلق تھیں، بتلا دیں جس سے وہ بہت خفا ہوا۔ ان ہر دو صاحبان کو بھاگنا ہی پڑا کیونکہ ایگزیکٹو انجینئر بہت سخت اور فرائض اور ڈیوٹی کا نہایت پابند تھا۔ اس وجہ سے اس کو عام ٹھیکہ دار اور اوورسیئر وغیرہ دی ٹائیگر کہہ کر پکارتے تھے۔ اس کا لائن کے لیے معائنہ کا پروگرام ایسا پکا ہوتا تھا جیسے کسی وائسرائے یا گورنر کا ہوتا ہے۔

بہت خوبصورت فوجی افسر تھا؛ ہاتھ میں ہنٹر رکھتا تھا۔ مہینہ میں ایک بار یا دو ماہ بعد انسپکشن کے لیے آتا تھا۔ کام کا ایسا پابند تھا کہ اپنے پروگرام سے ایک منٹ بھی ادھر ادھر نہیں ہوتا تھا۔ اپرسبارڈینیٹ کے جانے کے بعد بابو صاحب کو اس کی جگہ پلی کونہ بھیج دیا گیا اور مجھے بھی رائے پلی سے بابو صاحب کے ماتحت ہی بھیج دیا۔ اب مجھے بابو صاحب کے ماتحت رہ کر کام میں تجربہ حاصل کرنے کا اچھا موقع مل گیا۔ ہم ہر دو اکٹھے رہنے لگ گئے اور کنسٹرکشن کا کام، پلوں وغیرہ کا، خوب زورشور سے شروع ہو گیا۔ پلوں کا کام پتھر کا تھا جو کہ دیسی چونا، ریت و سرخی سے کیا جاتا تھا جس کے لیے باقاعدہ ایگزیکٹو انجینئرکی جانب سے specifications بنے ہوئے تھے۔

مجھے اب انگریزی کی کافی مہارت اور کام کا اچھا تجربہ ہو گیا تھا۔ مدراسی زبان سے، جو کہ ہندوستانی سے بالکل الگ ہے، خوب واقفیت پیدا کر لی تھی اور اکثر لباس بھی مدراسیوں کی طرح ہی پہنا کرتا تھا۔

ایک دفعہ ایسا ہوا کہ چیف انجینئر صاحب دورہ پر آئے۔ ان کے رہنے کے لیے تنبو وغیرہ جو کہ سٹیشن، یعنی رائے پلی میں، جا کر نصب کرنے تھے، قریباً دو بجے دوپہر صاحب بہادر کے بیروں اور خانسامے کے ساتھ آ گئے۔ چیف انجینئر، ایکسیئن اور دیگر عملہ نے ابھی پیچھے سے انسپکشن کرتے ہوئے آنا تھا۔ میں اس وقت بڑے پل کے پاس چند قلیوں کے ساتھ لائن کی جڑائی کرا رہا تھا۔ ایک بیرا، جو کہ پنجابی تھا، مجھے ڈانٹ کر کہنے لگا کہ اے مستری جلدی کرو ہم کو آدمی دو، بڑے صاحب کا سامان یہاں سے تین میل کے فاصلے پر لے جانا ہے۔ مجھے کیونکہ ایکسیئن یا اسسٹنٹ انجینئراور اوورسئیر کا حکم نہیں تھا، دوسرا اس بیرے کا طرز تکلم ایسا تھا کہ مجھے بھی غصہ آ گیا۔ آخر میں بھی پنجابی تھا۔ میں نے آدمی دینے سے انکار کر دیا کہ بڑے صاحب کو سفر کا بھتہ ( TA) ملتا ہے اس لیے گاؤں سے مزدوروں کو اپنے پیسے دے کر لاؤ اور سامان لے جاؤ۔ یہ ریلوے کے قلی ہیں، اس لیے میں نہیں دیتا۔ میری یہ بات سن کر بیرا تو آگ بگولا ہو گیا اور کہنے لگا واہ! کہاں مستری اور کہاں چیف انجینئر۔ جیسے مثال ہے کہ کہاں راجہ بھوج اور کہاں گنگو تیلی۔ خیر میں بھی اپنی ضد پر قائم رہا اور بیرا بھی اپنے سامان پر اکڑ کر بیٹھا رہا۔

جب شام کے چار بجے تو چیف انجینئر صاحب بھی مع ایکسیئن کے آ گئے۔ چند منٹ بعد اسسٹنٹ انجینئراور بابو شرف الدین بھی آ گئے۔ جب ایکسیئن صاحب نے سامان وہا ں پڑا دیکھا تو لال پیلا ہو کر بیرے کو پوچھنے لگا کہ سامان ابھی تک کیوں پڑا ہے۔ بیرے نے، جیسا کہ ا ن لوگوں کا دستور ہوتا ہے، سب نزلہ میرے اوپر ہی گرانا شروع کر دیا۔ جب یہ جھگڑا ہو رہا تھا تو بابو صاحب دور کھڑے مجھے پنجابی میں کوس رہے تھے۔ میں نے کہا آپ فکر نہ کرو بارہ آنے یومیہ ہیں، اگر کھو بھی گئے تو پروا نہیں۔ خیر ایکسیئن جب بیرے سے شکایتیں سن چکا تو میری طرف رجوع ہوا اور ہنٹر کو ذرا حرکت دی۔ میں خوب ڈٹ کر کھڑا رہا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •