ہوا باز کمپنیوں کا مقابلہ اور مسافروں کی بازی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ریڑھی پے پاپ کارن بیچنے والے فیاض کے ذہن میں ہوائی جہاز بنانے کا دھیان آتا ہے، بغیر کسی جمع تفریق اور کلیے کے وہ ہزار فٹ کی بلندی تک اڑنے والا طیارہ بنا ڈالتا ہے۔ یہ خیال راقم کے ذہن میں بھی کئی دفعہ آیا لیکن پھر سوچا کہ یہ اتنا سادہ کام نہیں فزکس، ریاضی اور کمپیوٹر سمیت کتنے علوم ملتے ہیں تو جہاز اڑتا ہے۔ اور ایسا جہاز بنانے کا فائدہ نہیں جو سو سال پہلے والے رائٹ برادران کے جہاز سے بھی گیا گزرا ہو۔ اس واقع کے بعد تھوڑا انٹرنیٹ پے ہوا بازی کے بارے میں جاننے کی کوشش کی۔ ہوابازی سے منسلک ایسے حیران کن انکشافات ہوئے کہ معمولی سی دلچسپی ایک شوق کی شکل اختیار کر گئی۔

قریب سات سو صفحات پے مبنی تین کتابوں کے ابواب، دو کیس سٹیڈیز اور آرٹیکلز پڑھ ڈالے۔ کاروبار زندگی کی دیگر مصروفیات کا دباؤ بڑھنے لگا ورنہ یہ موضوع ایک نشہ ہے۔ کس طرح انسان نے ہزاروں برس پرندوں کو اڑتے دیکھا اور اڑنے کا خواب سجا لیا۔ پھر کتنے سو سال پتنگیں اڑا کے تمنا کی تشنگی پوری کرتا رہا۔ بالآخر اڑا اور زمین کے مدار سے بھی نکل گیا۔ معلوم ہوا، اڑنا اتنا آسان تھا کہ رائٹ برادران نے بغیر کسی ڈگری اور رسمی تعلیم و مہارت کے جہاز بنا ڈالا۔

کامیابی کا سہرا انجن کی ایجاد کو جاتا ہے۔ پہلے کمرشل جہاز کی تیاری سے لے کر نوے کی دھائی تک ہوا بازی کی صنعت حیران کن حد تک Low Tech شعبہ رہی جس میں رینچ، پیچ کس اور ہتھوڑوں سے لیس مزدور وہی روٹین کے نٹ بولٹ کس دیتے اور جہاز تیار ہو جاتا۔ اس دوران بہت ساری کمپنیاں آئیں، طبع آزمائی کی لیکن بوئینگ اور ائربس نے سب کی چھٹی کروا دی۔

جس طرح انسان انسان کو مارتے ہیں اسی طرح کمپنیاں بھی دوسری کمپنیوں کو مارتی ہیں۔ بوئنگ کا تعلق امریکہ سے ہے اور ائربس یورپین کمپنی ہے۔ آج کمرشل ہوابازی کی صعنت پر ان کی اجارہ داری ہے۔ ان دونوں میں بھی مقابلہ اتنا تند ہے کہ یہ اگر ایک ذرا بھی پیچھے رہ گئی تو دوڑ سے ہمیشہ کے لئے آؤٹ ہو جائے گی۔ ایک جہاز کی قیمت چار ارب سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ آپ اندازہ لگائیں یہ کتنا بڑا کاروبار ہے۔ اس بڑے کاروبار میں پچھلے تیس سالوں میں اتنی ترقی اور ایجاد ہو چکی ہے کہ اب دونوں کمپنیوں کے جہازوں میں رنگ اور ڈیزائن کا فرق رہ گیا ہے۔ انجن کی کوالٹی اتنی بہتر ہو چکی ہے کہ مزید گنجائش نہیں اس لئے اب ہر ممکن کوشش ہو تی ہے کہ جہاز کا وزن کم کیا جائے تاکہ Fuel Efficiency بڑھے۔ مقابلہ ٹیکنالوجی کی بجائے تیل کی کم کھپت کا ہے۔ جہاز کے ڈھانچے میں کافی جگہ کاربن فائبر نے لے لی ہے جو کہ ایلمونیم سے بھی کم وزن رکھتا ہے۔

2010 میں جب ائر بس نے 320 Aلانچ کیا تو بوئنگ ہیڈکوارٹر میں کھلبلی مچ گئی۔ پیرس ائر شو پر 320 A نے اپنے جلوے دکھائے اور نئے گاہک بنائے۔ جنوری 2011 میں Boeing نے بھی اعلان کر دیا کہ کمپنی کامیاب ترین 737 میں تھوڑی تبدیلی کر کے ری لانچ کرنے جا رہی ہے جس کا بضاہر مقصد ائربس کا مقابلہ کرنا تھا کیونکہ ائربس امریکی مارکیٹ میں بوئنگ کی اجارہ داری چیلنچ کر چکی تھی۔ کسی بھی ائر لائنر کے لئے جہاز خریدنے کے فیصلے میں سب سے بڑی ترجیح فیول کی بچت کی ہوتی ہے۔

اب بوئنگ کو کسی نہ کسی طرح یہ ٹارگٹ حاصل کرنا تھا۔ مکینکل انجینئرز نے کم خرچ والا انجن تو تیار کر لیا لیکن اس کا سائز بڑا ہو گیا جس کی وجہ سے جہاز کے پروں کو وسط میں نصب نہیں کیا جا سکتا تھا۔ نتیجتا جہاز کے پر کاک پٹ کی طرف آگے کیے گئے، لیکن اب مسئلہ یہ تھا کہ وزن آگے کی طرف ہونے سے جہاز کا توازن بگڑنے کا آحتمال تھا۔ یعنی فضا میں ہوا کے دباؤ اور بہاؤ کے تناسب سے یا تو جہاز کا منہ اوپر اٹھ جانے کا یا بیٹھ جانے کا اندیشہ رہتا۔

اس مسئلے کے حل کے لئے جہاز کی دم میں MCAS سسٹم نصب کیا گیا جس کا کام اڑان کے دوران جہاز کی سمتوں میں توازن قائم کرنا تھا۔ یہ نظام ایک خودکار سافٹ وئر سے کنٹر ول ہوتا ہے۔ کاک پٹ کے باہر والی سائڈ پے نصب دو سنسرز سافٹ وئر کو جہاز کے جھکاؤ کے بارے میں معلومات مہیا کرتے ہیں جس کے بعد خود کار نظا م حرکت میں آجاتا ہے۔ 2017 میں 737 کا نیا ماڈل سب سے پہلے انڈونیشیا کی لیون ائر لائن کو ملا۔ فیول ایفیشینسی کے باعث سینکڑوں جہاز بک ہو گئے۔ لیکن لگاتار دو 737 حادثے کا شکار ہوئے تو دنیا بھر میں انہیں گراونڈ کر دیا گیا۔

سب سے پہلی غلطی جو اب تک انڈونیشین ائر لائن اور ایتھوپین ائرلائن کی تحقیقات کے بعد سامنے آئی ہے وہ خودکار نظام پر انسانی ذہانت سے زیادہ بھروسا کرنا ہے۔ کاک پٹ میں بیٹھا پائلٹ ایک دفعہ گڑبڑ کرنے پر تو MCAS کو سوئچ آف کر سکتا ہے لیکن اگر طیارے کا سنسر پھر غلط معلومات دے تو خودکار نظام پائلٹ کے اختیار سے آزاد ہے۔ یہی وجہ بنی۔ انڈونیشین طیارے کی تباہی سے پہلے کیبن کریو فلائٹ مینول سے سسٹم کو Disengage کرنے کا طریقہ ڈھونڈتا رہا لیکن وقت نے اتنی مہلت نہ دی۔ ایتھیوپیا کے طیارے کی تحقیقات بھی یہی بتاتی ہیں۔

دوسری غلطی بوئنگ کمپنی کے مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے فقدان کی ہے۔ سافٹ وئر بنانے والے لوگوں نے اپنا کام پرفیکٹ انداز میں کیا اور اس بات کا احاطہ نہیں کیا کہ اگر سنسرز نے ڈیٹا غلط دیا تو کیا حکمت عملی ہو گی، کیا جہاز جی پی ایس یا ریڈار سسٹم سے مدد لے گا۔ اس طرح دم میں نصب ایم کیس بنانے والے انجینرز نے یہ فرض کر لیا کے سافٹ وئر جو کچھ بتائے کا وہ پرفیکٹ ہو گا، لہذا ایک دفعہ تو ایم کیس پائلٹ کی بات مانے گا اگر سافٹ وئر نے دوسری دفعہ بھی وہی کرنے کو کہا تو سسٹم پائلٹ کو نظر انداز کر دے گا۔

تیسری غلطی، بوئنگ کمپنی نے اپنی کاسٹ کم رکھنے کے لئے پائلٹ کی ٹریننگ کے لئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔ محض ایک کتابچے میں نئے نظام کے بارے میں معلومات فراہم کر دیں۔ حالانکہ کمپنی کو چاہیے تھا کہ اتنی بڑی تبدیلی کے بعد ائرلائنز کو باقاعدہ آگاہی دی جاتی اور ضروری ٹریننگ کا انتظام کیا جاتا۔ بات لمبی چل نکلی قارئین۔ موضوع دلچسپ ہے، موقع اور فرصت ہو تو ضرور پڑھیے۔ ساری بات کا مقصد یہ تھا کہ چند چھوٹی چھوٹی غلطیوں سے چارارب کے جہاز اور اربوں ڈالر کی کمپنی کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ تو رہتا ہی ہے یہ غفلت بے گناہ لوگوں کی جان بھی لے لیتی ہے۔ اور اس جہاز کا کیا کہنا جس میں کمپنی والوں نے کروڑوں لوگوں کو مہنگے ٹکٹ کے عوض تو بٹھا دیا ہے لیکن پائلٹ ابھی ٹریننگ لے رہے ہیں، سیکھ رہے ہیں۔ اب کمپنی سے اتنا گلہ تو کیا جا سکتا ہے کہ لوگوں کی جان و مال کا نہ سہی، اپنی ساکھ کا ہی خیال کر لے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •