میں مسلمان ہوتا جا رہا ہوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب سے اللہ تعالی نے یہ دنیا بنائی اور حضرت انسان کے اتارنے سے پہلے کروڑوں اقسام کے مخلوقات اس میں پیدا کیے ہیں۔ اُس کے پہلے سے انسان کا امتحان شروع ہوچکا ہے۔ سب سے پہلے تو جنت میں حضرت آدم علیہ السلام کا گندم کا پھل کھانا اور پھر ہابیل کے قتل سے لے کر ایک سے بڑھ کر خطائیں انسان سے ہونے لگی ہیں۔ اللہ تعالی نے جہاں ایک طرف انسان کو اشرف المخلوقات بنایا، اور باقی سب شے انسان کے فائدے کے لئے بنائے وہیں انسان کے لئے آزمائشوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔ عقل و شعور کے ساتھ ساتھ نفس کا اختیار اللہ تعالیٰ نے انسان کو دیا ہے اور پھر صحیح اور غلط کرنے میں فرق سکھایا، صحیح پر چلو گے یہ ہوگا غلط کا انجام یہ ہے۔ ہر ایک چیز سے انسان کو باخبر کردیا اور دنیا میں چھوڑ دیا اور میزان لگایا کہ واپس آنے پر حساب ہوگا۔

اللہ تعالیٰ کا دنیا میں انسان کو لانا ایک امتحان ہے۔ اس امتحان میں اللہ نے انسان پر حقوق اللہ سے پہلے حقوق العباد فرض کیا ہے اور ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا اور اس کے سکھائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی گزارنا۔ لاکھوں انبیاء کرام علیہ السلام بھیجے گئے، کتابیں اور صحیفیں نازل کیں تاکہ انسان کی رہنمائی اور بھلائی ہو سکے۔ انبیاءکرام علیہ السلام نے وقتاً بوقت انسان کو درست جانب لانے کی کوشش کی اور یاد دلایا کہ اللہ نے ہمیں دنیا میں ایک امتحان کے لیے بھیجا ہے۔

لیکن انسان نے لوگوں کو فرقوں میں بانٹ کر ان سے وہ حقوق چھین لیے جو اس کو اللہ نے دیے تھے۔ مختلف مذاہب بنائے، فرقوں میں لوگوں کو تقسیم کیا اور اپنی طرف سے صحیح اور غلط سمجھنے اور سمجھانے لگا۔ اسلام سب کو یہ درس دیتا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمدﷺ کے طریقوں کو اپنائے گا کامیاب لوٹے گا ورنہ تو ناکامی ہوگی۔

آج کا مجھ جیسا مسلمان جو کہ اس فانی دنیا کو اپنانے میں لگا ہے اور ہر وہ کام کرتا ہے جس سے ہمیں ہمارا دین منع کر رہا ہے۔ غلط راستہ چننے کے باوجود کامیابی کی تالاش میں دن رات ایک کر رہا ہے۔ نہ چین ہے نہ سکون، نہ دنیا نہ آخرت بس ایک دوڑ لگی ہے اور کوشش کی جارہی ہیں کہ کس طرح دنیا کو حاصل کیا جائے اور وہ سب کچھ اس کے لیے یہ دنیا بنائی گئی ہے، انسان پیدا کیا گیا ہے شاید دوسری یا تیسری ترجیح میں چلا گیا ہے۔

ہر ایک کو معلوم ہے کہ ہم نے غلط راستہ چنا ہے اس میں کامیابی نہیں ہے لیکن ہم ہیں کہ دھوکے کی آنکھ ہی نہیں بند کر رہے۔ ایک انسان کے بارے میں پہلے تو اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے اور دوسرا یہ انسان خود، کہ کیا اچھا کیا ہے؟ کیا برا، کیا کچھ دکھاوے کے لیے تھا اور کیا کچھ دل سے کیا ہیں۔ بس ان دونوں کو پتہ ہوتا ہے باقی ہمارا جسم اور یہ کائنات گواہ ہیں لیکن وہ ابھی نہیں دیں گے یہ گواہی وقت آنے پر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کئی خوبیاں عطا کی  ہیں جن میں سے ایک معاف کردینا سکھایا ہے اور ساتھ میں ایک خاصہ دیا ہے وہ ہے نہ بھول جانے کا۔ اچھا ہو یا بُرا۔ سالوں بعد ایک سیکنڈ سے کم وقت میں یاد آجاتا ہے۔

میں نے دنیا میں تقریباً اٹھائیس سال گزارے۔ بچپن سے لے کر ابھی تک اللہ تعالیٰ کے احکامات کی نافرمانی کرتے چلا آیا ہوں۔ لوگوں کو دھوکے دیے، دکھاوے کی نماز پڑھی، ہر گناہ کیا اور ضرورت کے لئے کبھی کبھی اللہ کو بھی یاد کیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے سب کچھ جاننے کے باوجود بھی مجھے سب کچھ دیا، کبھی میری سانس بند نہیں کی، کبھی میری برائی کسی کو ظاہر نہیں کی، وقت پر روٹی دی، لوگوں کی نظروں میں کبھی نہیں گرایا، جو میں نے چاہا وہی دیا اور اس کے علاوہ بے شمار احسانات کیے مجھ جیسے گنہگار اور برائے نام مسلمان پر، لیکن مجھے ہمیشہ سے ایک چیز کی کمی رہی اور وہ ہے سکون۔

کبھی میرا ضمیر مطمئن نہیں ہوا، کیونکہ غلط راستہ جو چنا ہے۔ سب کچھ ہونے کے باوجود پریشانی ہوتی ہیں، اور اس کی وجہ اللہ تعالیٰ سے دوری ہے۔ برائے نام مسلمانی کی ہے۔ لہٰذا اب سچے دل سے تمام گناہوں سے توبہ کرتا ہوں اور اللہ کے نزدیک جانا چاہتا ہوں کیونکہ وہی کامیابی ہے۔ اب میں صحیح مسلمان بننا چاہتا ہوں اپنے رب کو راضی کرنا چاہتا ہوں۔ والدین کو چاہیے کہ اولاد کو زمانہ جدید کے مطابق تعلیم دیں تاکہ رزق کما سکیں اور دین کا علم دیں تاکہ وہ برباد نہ ہو جائیں۔ کیونکہ بہت تھوڑا وقت لگتا ہے عمروں کے ڈھلنے میں، لذتوں کے ختم ہونے میں، لوگوں کے نظرون سے اوجھل ہونے میں اور چاہتوں کے ختم ہونے میں۔ اور یہ حقیقت ہے کہ ہم اچھا ہونے یا اچھا بننے کے باوجود کسی نہ کسی کی کہانی میں ضرور بُرے ہوتے ہیں۔

ہر انسان کے اندر دو بھیڑیے ہوتے ہیں ایک اچھائی کا دوسرا برائی کا، غالب وہی رہتا ہے جسے ہم کھلاتے پلاتے ہیں۔ اللہ کرے جو برائیاں مجھ میں ہیں کسی اور میں نہ ہو، لیکن پھر بھی اس تحریر میں ضرور کسی نہ کسی کو اپنا آپ نظر آتا ہوگا۔ کیونکہ ہرایک دھوکے میں لگا ہوا ہیں، جو انسان کسی کو استعمال کرکے اور اس کے ساتھ محبت دکھا کر پھر مجبوری کا بہانہ بناکر دھوکا دے کر اسے چھوڑتا ہے، وہ کبھی نہ کبھی خود سے بھی زیادہ دوسروں سے استعمال ہو کر زندگی میں دکھ سہتا ہے، بُرا وقت ہمیشہ گزر جاتا ہے چیزیں ٹھیک ہوجاتی ہیں، بس انسان کو آزمانا ہوتا ہے اللہ نے۔

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بے حد محبت کرتا ہے۔ اسی طرح شب معراج پر ایک ہی سوال سات سو بار دہرایا گیا میرے محبوب مانگو کیا مانگتے ہو، ایک ہی جواب آیا ”میری امت کی مغفرت“ تو یہ تھی میری نبی کی محبت اپنے امت کے ساتھ، اب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں اور خیال کہیں اور ہوتی ہے۔ کیا یہ محبت ہوتی ہیں؟ سر جھکانے سے نمازیں ادا نہیں ہوتی دل جھکانا پڑتا ہے عبادت کے لیے، جب ایک آواز ”اللہ اکبر“ اور لاکھوں سر سجدے میں جھک جاتے ہیں اسے کہتے ہیں محبت۔ اللہ کے لیے وقت نکالو اور وقت پر نماز ادا کرو اللہ تمھاری زندگی سے برا وقت نکال دے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •