بزرگ دانش فروش کا اعتراف جرم اور نیا پاکستان!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ارادہ تو نئے پاکستان کی جدید ترین علمی درسگاہ ”وزیراعظم ہاؤس“ یونیورسٹی کے متعلق لکھنے کا تھا کہ جہاں سنا ہے خیر سے کلاسز کا اجرا کردیا گیا ہے اور ارسطوئے زماں جناب عمران احمد خان نیازی نے ملکی اور غیر ملکی طلبہ کو اپنے لیکچروں سے مستفید کرنا شروع کردیا ہے مگر مقطعے میں سخن گسترانہ بات یہ آگئی کہ رنگین مزاج فکری رہبر و راہنما یعنی بزرگ کالم نویس، صحافی اور دانشور جناب ایاز امیر کا کالم نظر سے گزرا، جس میں انہوں نے گذشتہ دس سال سے سیاسی نابالغو ں کے قافلہء عمرانی کی غیر مشروط حمایت پر خود کو بری طرح لعن طعن کیا ہے۔ یہ صاحب بھی عمرانی لشکر کے اس ہراول دستے میں شامل تھے جنہوں نے چند دوسرے افلاطونوں کی زبردست ہمنوائی کرتے ہوئے بغض نواز میں تمام اخلاقی حدود و قیود عبور کر کے فی سبیل اللہ عمران کے ورلڈ کپ، نمل یونیورسٹی اور کینسر ہسپتال کا چورن بیچ بیچ کر معصوم و سا دہ قوم کو گمراہ کیا تھا۔

یہ کوئی پہلے دانشور اور دور اندیش بزرجمہر نہیں جن پر جلد ہی خلائی مخلوق کی بیساکھیوں کے سہارے پاکستانی سیاست میں لڑکھڑا کر بمشکل کھڑا ہونے والے کوتاہ بین اور خود پسند سیاسی اناڑی کی اصلیت منکشف ہوئی۔ اس سے پہلے بھی دانشوری اور مفکری کے نام پر اونچی مسندوں پر بیٹھنے والے خاکی جمہوروں کی دریوزہ گری کرنے والے ابن الوقت اور مفاد پرست کہیں دبی دبی زبان میں اور کہیں واشگاف الفاظ میں یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ انہوں نے بت گروں کے حکم پر جس کو عظیم کھلاڑی بنا کر پیش کیا وہ تو اناڑیوں کا بھی باوا آدم نکلا۔

جسے انہوں نے میدان سیاست کا شہسوار بنا کر داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے وہ تو اس جولاں گاہ کا طفل مکتب بھی نہیں تھا۔ جس کو سالار قافلہ مان کر پوری قوم کو اس کے تتبع کا پیغام دیا وہ تو اس راستے کا ادنٰی سا سپاہی بھی نہیں تھا۔ جسے خضر راہ بنا کر پیش کیا وہ رانما تو کیا ایک خام وعام راہی بھی نہیں تھا۔

ان میں وہ ارشاد بھٹی بھی شامل تھا جس کی آنکھوں پر ذاتی مفاد کی پٹی بندھی تھی۔ بزم ناؤ نوش کا مدہوش حسن نثار بھی شامل تھا جو بغض نواز اور حب عمران کے نشے میں سرشار تھا۔ جہاں گردی و پامردی کا دعویدار وہ ہارون الرشید بھی تھا جسے اپنے نرگسیت کے مارے دوست میں خضر خجستہ پا اور رجلِ رشید کی تمام صفات یکجا نظر آتی تھیں۔ وہ عارف حمید بھی تھا جسے اپنے خود سر اور منتقم مزاج ممدوح میں اوصافِ حمیدہ کا خوش رنگ پیکر دکھائی دیا۔

پلانٹڈ انٹرویو کا ماہر سوالی مبشر لقمان بھی تھا جو ہر پروگرام میں نت نئی بشارتیں سنا یا کرتا تھا۔ وہ ندیم ملک بھی شامل تھا جس نے پاناما کے ڈرامے پر ایک حشر اٹھا رکھا تھا اور آج ندامت و خجالت کی تصویر بن کر پاکستان کی معیشت کی تباہی کو عمرانی ٹولے کی کارستانیوں کو قرار دے رہا ہے۔ غرض رنگ بازوں اور ڈراما بازوں کے اس مشتعل اور وحشی ہجوم میں خلائی مخلوق کا پروردہ و دہن دریدہ اور نواز شریف سے لرزیدہ ہر وہ قلم فروش و منہ پھٹ صحافی شامل تھا جس نے نواز شریف کی کرپشن اور لوٹ مار کی فرضی داستانیں سنا سنا کر اسے اپنے وقت کا راجہ داھر ثابت کرنے کی کوشش کی۔

ہمارے ہر دل عزیز اور رنگین و سنگین مزاج کے حامل بزرگ جناب ایاز امیر بھی اس قافلے کے سرداروں میں شامل تھے جنہوں نے نواز شریف کے وجود کو پاکستان کے لیے ام المسائل و سراپا رزائل اور جناب عمران خان وجود اقدس کو سرتاپا منبعِ فضائل بنا کر پیش کیا۔ مگر آج آٹھ ماہ بعد انہوں نے بھی اپنے اور اپنے کرم فرماؤں کے حسن انتخاب اور اپنی کوتاہ نظری اور بے بصیرتی پر تین حرف بھیجنا شروع کر دیے ہیں۔ اب جناب کو کچھ کچھ اندازہ تو ہو گیا ہو گا کہ سیاست کے معرکہ کارزار میں جان کی سلامتی کے ساتھ ساتھ عزت سادات کو بچا کر ملک و قوم کو ترقی و خو شحالی کے راستے پر گامزن کرنا کس قدر کارِ محال ہے۔ ورلڈ کپ کی فتح کو حکمرانی کے لیے واحد اہلیت و قابلیت بتانے والے پاکستان اور پاکستان کی مظلوم قوم کو معاف کر کے آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے لیے رخت سفر باندھیں جن کے کپتانوں نے ایک نہیں دو دو ورلڈ کپ جیت رکھے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •