بارے کاروں کا کچھ بیاں ہوجائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹرک کو دیکھ کر پتہ نہیں کیوں یہ خیال آتا ہے کہ جس نے ٹرک پہلی مرتبہ ڈیزائن کیا ہوگا اس کے ذہن میں ضرور مردان کے کسی پٹھان کا تصور تھا۔ اوپر سے پاکستانی ٹرک آرٹ نے اس ٹرک کو مزید پکا اور پختہ پٹھان بنا کر بے تحاشا مردانگی سے نواز دیا ہے۔

اسی طرح ٹریکٹر کو دیکھ کر تو کسی پنجابی زمیندار کا گمان گزرتا ہے جو عام حالت میں بھی صرف دھوتی اور بنیان پہن کر اپنے کھیتوں میں لت پت حالت میں گھومتا پایا جاتا ہے اوربعض ٹریکٹر جنھیں چاول کی کاشت کے لیے زمین ہموار کرنے کے لیے کیچڑ میں اتارنا مقصود ہو ان کی باڈی سے کچھ مزید حصے ایسے ہی الگ کردیے جاتے ہیں جیسے مذکورہ زمیندار نے بنیان بھی اتار کر ٹاہلی (شیشم کے درخت) پر ٹانک دی ہو اور صرف دھوتی پر اکتفا کررکھا ہو۔

ایف ایکس کو دیکھو تو اس کی معصوم صورت میں ایک جہاں دیدہ عمر رسیدہ مگر قناعت پسند بزرگ خاتون نظر آتی ہے جو ہانپتی کانپتی اور کھانستی کھونستی رہتی ہے مگر دھن کی اتنی پکی کہ گھٹنے رگڑتی اپنی منزل تک تو پہنچ جاتی ہے لیکن اپنے ”شریک سفر“ کو بھی سفر حیات میں اپنی بھرپور اور تھکاوٹ سے چور رفاقت کا پورا پورا احساس دلاتی ہے۔

کرولا ایکس ایل آئی یا ٹو ڈی کو دیکھیں یا ہنڈا سٹی کو تو لمبی زلفوں اور خوبصورت لباس والی کسی دراز قد اور نہایت سوبر مشرقی خاتون کا نقشہ ذہن میں ابھرتا ہے جو مہنگے زیورات (پٹرول کی کھپت) کی بھی شوقین ہے۔

مہران کار کو دیکھ کر کمسنی کی حدود سے نکل کر جوانی کی دہلیز پر پہلا پہلا قدم رکھتی شولڈر کٹ والی کسی فرسٹ ائیر کی طالبہ کا خیال آتا ہے جس کا گزارہ اس کی پاکٹ منی سے بھی با آسانی ہوجاتا ہے

معاملہ یہاں تک رہتا تو بات ٹھیک تھی کیونکہ یہ ساری صورتیں دیکھی بھالی اور جانی پہچانی لگتی تھیں۔ ان تمام تر غیرملکی دوشیزاؤں سے تو ہم نے اپنائیت کا کوئی نہ کوئی سامان تلاش کرتے ہوئے شناسائی پیدا کرہی لی تھی لیکن ظلم یہ ہوا کہ جاپانیوں نے ہمارے ذوق کو اپنی بدذوقی کے ایسے ایسے کوڑے لگانا شروع کردیے کہ الامان الاحفیظ

آج کل پاکستانی مارکیٹ میں جاپان کی جو ”پھینی پھینی“ گاڑیاں چل رہی ہیں وہ ہوبہو جاپانی دوشیزاؤں کی کوئی جڑواں بہنیں لگتی ہیں۔ ان کو دیکھ کر نہ تو اپنائیت کا احساس ہوتا ہے نہ ہی ذوق حسن کو کوئی تسکین پہنچتی ہے۔ اس کے برعکس یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہماری مشرقی لڑکیوں اور خواتین کی خوبصورت قطار کو چیرتی ہوئی کوئی چھوٹے سے ناک والی ”پھینی“ اور ”چُنھی“ سی آنکھوں والی ”ڈھاٹسو“ نامی جاپانی دوشیزہ بلکہ ”چار ٹائرہ“ اچانک سامنے آگئی ہو۔ یوں تصور حسن کی ساری خوابناک عمارت دھڑام سے نیچے آگرتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے آنکھوں سے کوئی حسین خواب چوری ہوگیا ہو
خواب چوری ہوئے تھے آنکھوں سے
اشک درباں بٹھا دیے میں نے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اکرام احساس کی دیگر تحریریں
اکرام احساس کی دیگر تحریریں