ان الله مع الصابرين

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پیٹرول، بجلی، گیس، ادویات اور روز مرا کی اشیاء خردنوش کی قیمتوں مں تیزی سے اضافہ ہونے کے بعد حکومت پاکستان کی جانب سے غریب عوام کو درخواست کی جارہی ہے کہ عوام پریشان مت ہوں، بس تھوڑا ’صبر‘ کریں۔

مگر نوکری پیشہ غریب پاکستانی، جن کی تعداد اکثریت میں ہے اور ان کا اپنی ماہانہ آمدنی میں گزارا کرنا ہر گزرتے دن کے ساتھ مشکل تر ہوتا جارہا ہے کیونکہ ان کی تنخواہ کے علاوہ ہر چیز کی قیمت میں واضح طور پر اضافہ ہوتا جارہا ہے کیونکہ تمام اشیاء ضرورت، روزآنہ کی ادویات، بجلی اور گیس کے بل میں اضافہ ہو چکا ہے۔

خودکشی حرام ہونے کی وجہ سے غریب کو آج کی دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے روزمرہ کی اشیاء خور و نوش، غذا اور ادویات کی بہت ضرورت ہے، اپنے بچوں کی تعلیم پوری کرنا اور اس کے لیے ماہانہ فیس ادا کرنا بھی بہت ضروری ہے اور اسی طرح ماہانہ بجلی اور گیس کا بل ادا کرنا بھی نہایت ہی ضروری ہے۔ مگر افسوس غریب کے لیے یہ تمام اخراجات برداشت کرنا بہت مشکل ہورہا ہے۔ اس لیے نوکری پیشہ غریب اپنے مالک کے پاس لاچار و بے بس شکل بنا کر درخواست لیے پہنچ چکا ہے، مالک سے درخواست کر رہا ہے کہ صاحب یہ میرے ماہانہ زندہ رہنے کے اخراجات ہیں، جس میں کوئی فضول خرچی شامل نہیں، فضول خرچیوں سے مراد سیر و تفریح اور دیگر ایسے کام جن سے خوشی ملتی ہے، وہ اخراجات شامل نہیں، صاحب یہ وہ تمام اخراجات ہیں جن کے بغیر آج کی دنیا میں سانس لینا مشکل ہی نہیں، ناممکن ہے۔ مالک نے غریب ملازم کی اپیل سن کر دو الفاظ میں کہانی ختم کردی، صبر کرو۔

اب غریب اپنے اہل خانہ کو بھی سمجھا رہا ہے کہ ہمارے پاس صبر کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں اور خدا سے دعا مانگ رہا ہے کہ اے خدا ہمیں مزید صبر کرنے کی طاقت عطا فرما تاکہ میں حکومت پاکستان کی ’صبر‘ کرنے کی درخواست پر عمل پیرا ہو سکوں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس بار حکومت پاکستان کی جانب سے پاکستانی غریب کو صبر کے میٹھے پھل سے نوازا جائے گا یا ہمیشہ کی طرح لوٹ مار کرنے والے شدت پسندوں کو ہی میٹھا پھل کھلایا جائے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>