رفال دفاعی سودا: ‘مودی معافی مانگیں، وزیر دفاع استعفی دیں’

مرزا اے بی بیگ - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سپریم کورٹ

Getty Images

انڈیا کے متنازع دفاعی سودے رفال معاملے میں بی جے پی کی مرکزی حکومت کو انڈیا کی عدالت عظمی سے جھٹکا لگا ہے جبکہ انڈیا کے ایک اہم رہنما نے وزیر اعظم سے معافی اور وزیر دفاع سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

حکومت اس معاملے پر ایک عرصے سے یہ کہتی رہی ہے کہ سپریم کورٹ نے انھیں اس سودے میں ‘کلین چٹ’ دے رکھی ہے کیونکہ عدالت نے اپنے سابقہ فیصلے میں اس متنازع دفاعی سودے پر جانچ کی اپیل کو مسترد کر دیا تھا۔

جس وقت سے نظر ثانی کرنے کے حق میں فیصلہ آیا ہے اس وقت سے سوشل میڈیا پر ‘رفال ڈیل’ اور ‘سپریم کورٹ’ ہیش ٹیگ ٹاپ پر گردش کر رہا ہے جبکہ ماہرین انڈیا کی سیاست میں گرما گرمی کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔

جانچ کی اپیل مسترد کیے جانے کے بعد انڈیا کی چند معروف شخصیتوں جن میں بی جے پی کے رہنما اور معروف صحافی ارون شوری، سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا (اب انھوں نے بی جے پی چھوڑ دی ہے) اور معروف وکیل پرشانت بھوشن نے سپریم کورٹ میں فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر کی تھی جس کی بدھ کے روز سماعت تھی۔

یہ بھی پڑھیے

رفال دفاعی سودے میں کسی بدعنوانی کا ثبوت نہیں ملا: سپریم کورٹ

اندرا کی طرح مودی کو بھی جنگی حالات کا فائدہ ہو گا؟

انڈیا میں رفال جیٹ پر سیاسی طوفان کیوں؟

اس سماعت کے بارے میں ہم نے صحافی اور ماہر دفاع سوشانت سنگھ سے بات کی تو انھوں نے بتایا: ‘سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد دی ہندو اخبار نے کئی نئے دستاویزات شائع کیے جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس میں بہت گڑبڑ ہوئی ہے، وزیر اعظم مودی کے دفتر نے اس میں دخل دیا ہے اور وزارت دفاع نے اس کی مخالفت کی تھی۔

اس طرح کے تین چار پانچ بڑے شواہد سامنے آئے اور اس کے بعد پرشانت بھوشن، ارون شوری اور یشونت سنہا نے ایک ریویو پیٹیشن داخل کی جس میں کہا گیا کہ حکومت نے آپ کو دھوکہ دیا ہے اور آپ نئے شواہد کی روشنی میں اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں کیونکہ پہلا فیصلہ غلط بنیادوں پر مبنی تھا۔’

سوشانت سنگھ نے کہا: ‘اس کے خلاف حکومت کے اٹارنی جنرل نے یہ دلیل دی کہ یہ دستاویزات چوری کے ہیں، حکومت نے انھیں جاری نہیں کیا ہے جسے دی ہندو کے مدیر این رام نے شائع کیا ہے، یہ چوری کے ہیں اور اس لیے سپریم کورٹ کو انھیں تسلیم نہیں کرنا چاہیے اور ان دستاویزات کی بنیاد پر اپنے فیصلے پر نظر ثانی نہیں کرنا چاہیے۔’

حکومت کا نظر ثانی کے خلاف یہ بھی موقف تھا کہ دستاویزات رازداری کے ہیں اور ان پر کھلے عام بحث و مباحثے سے قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا: ‘اسی مقدمے پر آج فیصلہ آیا ہے جس میں عدالت عظمی نے کہا ہے کہ دستاویزات چوری کے ہوں یا کسی دوسرے ذرا‏ئع سے حاصل کیے گئے ہوں چونکہ یہ دستاویزات سرکاری ہیں اور ان کا دفا‏عی سودے سے تعلق ہے اس لیے سپریم کورٹ ان دستاویزات پر غور کرے گی اور اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے گی۔’

جب ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا اس فیصلے کا انتخابات پر کوئی اثر ہوگا تو انھوں نے کہا: ‘جی ہاں، بالکل اثر پڑے گا۔ دیکھیے جس طرح وزیر اعظم مودی اور ان کے وزرا نے یہ کہنے کی بہت کوشش کی ہے کہ سپریم کورٹ نے انھیں ایک طرح سے کلین چٹ دی ہے اور ان پر کوئی الزام نہیں ہے اور سودے میں کوئی غلط بات نہیں ہوئی ہے۔

اب جبکہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کرے گی تو لازمی بات ہے کہ کانگریس پارٹی، راہل گاندھی اور بائیں بازو کی پارٹیاں جنھوں نے اس دفاعی سودے کے معاملے کو زور شور سے اٹھایا وہ پھر سے اس پر سرگرم ہوں گے اور سیاسی طور پر یہ معاملہ گرمائے گا تو حکومت کا تیور نرم پڑے گا اور حکومت کو اس بارے میں جواب دینا پڑے گا کہ آپ تو کہتے تھے کہ سپریم کورٹ نے کلین چٹ دی ہے لیکن سپریم کورٹ تو اب اس معاملے کو دوبارہ کھول رہی ہے۔’

https://twitter.com/rssurjewala/status/1115850324156256256

کانگریس پارٹی کے ترجمان رندیپ سنگھ سورجے والا نے ٹوئٹر پر لکھا: ‘مودی جی آپ جتنا چاہیں بھاگ لیں یا جھوٹ بول لیں لیکن جلد یا بہ دیر سچ سامنے آئے گا۔ رفال سکیم کا جن ایک ایک کرکے باہر آ رہا ہے اور اب چھپنے کے لیے کوئی سرکاری رازداری ایکٹ بھی نہیں۔’

جبکہ کانگریس پارٹی نے سپریم کورٹ کے نظر ثانی کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

https://twitter.com/Mayawati/status/1115851458229018625

دہلی کے وزیر اعلی اور عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال نے ٹویٹ کیا: ‘مودی جی ہر جگہ کہہ رہے تھے کہ انھیں سپریم کورٹ سے کلین چٹ ملی ہے۔ آج سپریم کورٹ کے فیصلے سے ثابت ہو گیا ہے کہ مودی جی نے رفال میں چوری کی ہے۔ ملک کی فوج سے دھوکہ کیا ہے اور اپنا جرم چھپانے کے لیے سپریم کورٹ کو گمراہ کیا ہے۔’

انڈیا میں دلتوں کی سب سے بڑی رہنما اور اترپردیش کی سابق وزیر اعلی مایاوتی نے ٹویٹ کیا: ‘قومی سلامتی کی آڑ میں رفال سودے میں بڑی گڑبڑی/ بدعنوانی کو چھپانے کی وزیر اعظم مودی حکومت کی کوشش ناکام۔ سپریم کورٹ میں بی جے پی حکومت پوری طرح گھری۔ پارلیمان کے اندر اور باہر بار بار جھوٹ بول کر ملک کو گمراہ کرنے کے لیے مودی معافی مانگیں اور وزیر دفاع استعفی دیں۔’

سابق انڈین سفیر اور دفاعی امور کے ماہر کے سی سنگھ نے ٹوئٹر پر لکھا: ‘واہ، بہت مزا آئے گا۔ بی جے پی کو صاف طور پر دھچکہ لگا ہے۔ وہ مہینوں سے چیخ رہے تھے کہ سپریم کورٹ نے انھیں رفال معاملے میں کلین چٹ دے رکھی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کپڑے کے داغ کی دوبارہ جانچ کے لیے کپڑے لانڈری والے کے پاس آ گئے ہیں۔’

https://twitter.com/ArvindKejriwal/status/1115845672241119232

رفال معاہدہ: شروع سے آخر تک

2001: فضائیہ کو مضبوط کرنے کے لیے انڈیا نے 126 جیٹ طیارے خریدنے کا فیصلہ کیا۔

2007: ٹینڈر جاری کیے گئے۔

2008: بوئنگ، روس کی یونائیٹڈ ایئر کرافٹ کارپوریشن، سویڈن کی ساب اور فرانس کی ڈسالٹ ایوی ایشن نے دلچسپی ظاہر کی۔

2012: ڈسالٹ کی بولی سب سے کم تھی اور اس کو شارٹ لسٹ کیا گیا۔

2014: جیٹ طیارے خریدنے کے فیصلے کو مؤخر کر دیا گیا جب نریندر مودی وزیر اعظم منتخب ہوئے۔

2015: فرانس کے دورے پر مودی نے 36 رفال جیٹ خریدنے کا اعلان کیا۔

مودی اور اولاندے

Getty Images

اس معاہدے سے انڈیا سوویت زمانے کے اپنے جیٹ طیارے تبدیل کرنا چاہ رہا ہے۔ رفال جیٹ طیارہ طویل فاصلے کے مشن بشمول انتہائی درست سمندری اور بری اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

رفال جیٹ طیارے کی پہلی کھیپ 2019 میں انڈیا کے حوالے کیے جانے کی توقع ہے اور انڈیا کو تمام 36 جیٹ طیارے چھ سال میں مل جائیں گے۔

مودی نے اس معاہدے کا اعلان پیرس میں فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند کے ہمراہ کیا تھا۔ انڈین حکومت کا کہنا تھا کہ اس نے فضائیہ کی صلاحیت بڑھانے کے لیے بہترین معاہدہ کیا ہے۔

وہ معاہدہ جسے دونوں رہنماؤں نے دو برس قبل اہم معاہدہ قرار دیا تھا، اب اس کے بارے میں ان دونوں رہنماؤں کے موقف مختلف ہو گئے ہیں۔

انڈیا میں یہ معاملہ اس وقت طول پکڑ گیا جب یہ ڈیل انیل امبانی کی بالکل نئی کمپنی کو دی گئی جس پر کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے زور شور سے آواز اٹھائی اور براہ راست وزیر اعظم پر اس معاملے میں سودے بازی کا الزام لگایا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10402 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp