دہشت گرد سے گوتم بدھ کی ملاقات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”انگلی مالا کی کہانی“ پالی زبان کی وہ کتھا ہے جسے آصف فرخی نے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔ یہ ایک ایسے فرد اور سماج کی کہانی ہے جو صرف اور صرف پاور (طاقت) کو مانتا ہے۔ ”انگلی مالا“ ایک چھوٹی ذات کا ایسا فرد ہے جو طاقت وروں اور استحصالی طبقے کے ظلم وستم اور استحصال کا شکار ہے۔ اس سارے نظام سے نفرت و بغاوت اسے ”انگلی مالا“ بنا دیتی ہے۔ وہ طاقت کا مقابلہ طاقت سے کرنے کا راز پاکر ہاتھ میں تلوار تھامے انسانیت کا قتل عام شروع کر دیتا ہے۔

یوں پورے سماج پر اس کے خوف اور دہشت کی دھاک بیٹھ جاتی ہے۔ وہ لوگوں کو قتل کرتا ہے اور ان کے ہاتھوں کی دسوں انگلیاں کاٹ کر اپنے گلے کی مالا میں پروتا ہے اور یوں اس کی نفسیاتی تسکین کا ساماں ہوتا رہتا ہے۔ اِس سبب اُس بدنام زمانہ دہشت گرد کا نام ”انگلی مالا“ پڑ جاتا ہے۔ سماج اور ریاست اپنی طاقت کے بل بوتے پر اس دہشت گرد کو پکڑ سکتے ہیں اور نہ ہی روک پاتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس دہشت گرد کی دہشت ناکی میں مزید اضافہ ہوتا جاتا ہے۔

سارا سماج اور ریاست مل کر بھی ”انگلی مالا“ ایسے دہشت گرد کو اپنی طاقت سے روک نہیں پاتے، جس سے عوام میں اس بے قابو شخص کا خوف بڑھتا جاتا ہے۔ مگر مہاتما بدھ اتنا بڑا کام اکیلے میں اس دہشت گرد سے مکالمہ کرکے اپنے پیار کے منتر سے سر انجام دینے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ وہی خونی دہشت گرد جس کی ہیبت سے زمانہ تھرا جاتا تھا، جس کے آگے ریاستی طاقتیں بے بس تھیں۔ وہ سمجھانے سے نہ صرف اپنے فعل سے باز آجاتا ہے بلکہ یکسر بدل کر ایک نارمل انسان سی زندگی پر آ جاتا ہے۔

اس کی زندگی بدھا کی تعلیمات کی روشنی میں تشدد سے عدم تشدد کے راہ پر گامزن ہو جاتی ہے۔ مگر پھر بھی سماج اور ریاست اس شخص کو کسی صورت معاف کرنے پر راضی نہیں۔ مہاتما ان سب کوبہت مشکل سے باور کرانے میں کامیاب ہو پاتا ہے کہ طاقت کا استعمال ہر معاملے کا حل نہیں۔ معاف کرنے، عدم تشدد، امن اور محبت سے ہی جرم پیشہ اور ابنارمل افراد کو نارمل انسان بنایا جا سکتا ہے۔

طاقت کا طاقت سے مقابلہ، اینٹ سے پتھر کا جواب، جرم کے بجائے مجرم سے نفرت، طاقت کے زور پر جرم اور مجرم کا خاتمہ، مجرم سے مکالمے کی راہیں مفقود کرنا اور معافی کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دینا، ایسے سماجی اور ریاستی رویوں میں یہ کتھا نیا بیانیہ جنم دیتی ہے۔ نفرت اور طاقت کے بجائے گیان (علم) ، اور۔ کالمے سے ہی حالات بدلے جاسکتے ہیں۔ ہر مسئلے کا حل طاقت نہیں ہوتی۔ اسی طاقت کے بے جا استعمال کے نتیجے میں آج ہم نفرتوں کا اور بدامنی کا شکار ہیں۔ جو لوگ طاقت کے استعمال پر یقین رکھتے ہیں ان کے لیے شاید یہ کتاب مشعل راہ بن سکے۔ وہ بدامنی اور دہشت گردی کے خاتمے کی صحیح راہ کو پاسکیں اور امن کی پالیسیوں پر نظر ثانی کر سکیں۔

اس کتاب کو سنگ میل پبلی کیشنز نے لاہور نے شائع کیا ہے۔ اصل کہانی کے ساتھ ”انتظار حسین“ کا لکھا دیباچہ۔ مترجم کا پیش لفظ اور ”ستیہ پال آنند“ کا تعارف اس کتاب کو چار چاند لگا دیتا ہے۔ ”ستیہ پال“۔ اور ”آصف فرخی“ نے اس کہانی کو موجودہ اکیسویں صدی کے بدامنی اور دہشت گردی کے تناظر میں پیش کیا ہے

” دہشت گرد پیدا نہیں ہوتے، برین واشنگ“ اذہان سازی ”سے بنائے جاتے ہیں، جو چین بنائی جا سکتی ہے، اس کی تجسیم میں تبدیلی بھی لائی جا سکتی ہے“

(دہشت گرد سے گوتم بدھ کی ملاقات۔ ص: 10 )

پیار کے منتر کی طاقت ہتھیار کی طاقت سے کہیں زیادہ ہے، بس برتنے کاگر آنا چاہیے۔ طاقت سے سماج کو جکڑا یا قابو تو کیا جا سکتا ہے مگر بدلا نہیں جا سکتا۔ محبت اور امن سے ہی اصل بدلاوا ممکن ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •