تصویر کہانی کہتی ہے!
کہتے ہیں ایک تصویر ہزارلفظوں پر مشتمل فکر انگیز مضمون پر بھاری ہوتی ہے۔ تاریخ میں بے شمار تصویریں نہ صرف دنیا کے جغرافیے اور تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کر چکی ہیں بلکہ بہت سے مشہور انقلابات کی بنیاد بھی رکھ چکی ہیں۔ مثلاً عرب بہار سے منسوب تیونس، لیبیا اور مصر وغیرہ جیسے عرب ممالک میں آنے والی انقلاب آفرین تبدیلیوں کے پسِ پردہ محمد بو عزیزی نامی ایک گریجویٹ نوجوان کی آتش بجاں تصویر کی دلخراش کہانی ہے۔ یہ ایک پڑھا لکھا نوجوان تھا۔ بے روزگاری کے ہاتھوں تنگ آکر پھل فروشی شروع کی۔ کچھ دن بعد پولیس نے اس سے یہ ذریعہ روزگار بھی چھین لیا۔ اس پر مشتعل ہو کر اس نے خود کو نذر آتش کر لیا۔ اس کے جسم سے بلند ہونے والے آگ کے ہولناک شعلوں میں آخر کار مطلق العنان اور جلاد صفت آمر زین العابدین کی ظلم پرور اور عدل کُش حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ بعد میں اس آگ کی تپش میں کچھ دوسرے عرب ممالک کے طالع آزماؤں اور سامراجی بادشاہوں کی بادشاہتیں بھی جل کر بھسم ہو گئیں۔
ترکی کے ساحل پر شامی بچے ایلان کردی کی معصوم اور ننھی لاش نے بھی اقوام عالم خاص طور پر یورپی ملکوں کے حکمرانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور ان ممالک نے شامی پناہ گزینوں کے لیے اپنے دل اور دروازے کھول دیے۔
پاکستان کی مختصر تاریخ میں بھی چند ایک تصاویر بڑی دلگیر، یادگار اور انمٹ نقوش کی حامل ہیں۔ مثال کے طور پر ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں جنرل امیر عبداللہ نیازی (ٹائیگر نیازی) اور بھارتی آرمی چیف جنرل اروڑا سنگھ کی تصویر یادگار ہونے کے علاوہ بڑی سبق آموز اور دل دوز بھی ہے۔ یہ تصویر اس مملکت خداداد کے ٹوٹنے کا جگر سوز نوحہ ہی نہیں بلکہ ہماری کمر، حوصلوں، دلوں اور رشتوں کے ٹوٹنے کی عبرت انگیز داستان بھی سناتی ہے۔
ایک بولتی تصویر قائد عوام اور انقلابی لیڈر جناب ذوالفقار علی بھٹو اور جمہوریت پر وار کرنے والے عابد و زاہد اور تہجد گزار اورنگ زیبِ ثانی جنرل ضیا الحق کی بھی ہے، جس میں جنرل صاحب بھٹو صاحب کے سامنے خمیدہ کمر مگر زہریلے ارادوں کے ساتھ اپنی سدا بہار اور دلآویز مسکراہٹ سے ان کا استقبال کر رہے ہیں۔ انتہائی ہوش مند، سیاسی فہم و فراست اور عالمی تاریخی شعور سے مالا مال قائد عوام کو شاید جنرل صاحب کے اسی عجز بھرے اور خاکسارانہ انداز نے متاثر کیا تھا اور انہوں نے جنرل صاحب کو آرمی چیف بنا کر اپنے اقتدار کے تابوت میں آخری کیل گاڑ لی تھی۔ اس کے بعد جو ہوا، وہ تاریخ کا حصہ ہے۔
اسی طرح ایک تصویرِ دل گیر و پر تاثیر سابق وزیراعظم جناب نواز شریف اور موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی بھی پاکستانی جمہوری تاریخ کی یادگار تصویر کے طور پر دیکھی جاتی رہے گی۔ اس تصویر کی خاص بات یہ ہے کہ نواز شریف صاحب نے جنرل صاحب کی تشریف آوری کے لیے جو نشست رکھی تھی وہ خلافِ روایت و توقع ایسی تھی کہ جس پر جنرل صاحب آرام سے ٹیک لگا کر نہیں بیٹھ سکتے تھے بلکہ انہیں منتخب وزیر اعظم کے سامنے ایک ماتحت افسر کی حیثیت سے مؤدب انداز میں بیٹھنا پڑا تھا۔ جنرل صاحب کا اس طرح کا بیٹھنا کچھ دن بعد نواز حکومت کو لے بیٹھا اور ان کی جگہ آنے والی کٹھ پتلیوں نے تو ملک کا بھٹہ ہی بٹھا دیا۔ بعد میں نواز شریف حیرت و استعجاب کی تصویرِ دلگیر بنے یہ شکوہ کرتے پھرتے تھے کہ
ایک پل میں وہاں سے ہم اٹھے
بیٹھنے میں جہاں زمانے لگے
یہ سب اور تاریخ کے حافظے میں جگمگاتی بہت سی تصویریں گذشتہ روز وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل باجوہ کی تصویر دیکھ کر ہماری یادوں کے کینوس پر دوڑنے لگی تھیں۔ سیاسی و عسکری قائدین کی یہ تصویر ان کی گذشتہ تمام تصویروں کے مقابلہ میں دل شکن، غیرمتوقع اور حوصلہ شکن تھی۔
عوام و خواص کی یادوں کے البم میں ان دونوں رانماؤں کی اس مسحور کن اور دل پذیر تصویر کا بھرپور اور معنی خیز تاثر ابھی تک تازہ ہے کہ جس میں جنرل صاحب جادو کی”چھڑی” ہاتھ میں لیے نامزد سوری نو منتخب (براہِ مہربانی اسے نامنتخب نہ پڑھا جائے) وزیر اعظم کے ساتھ کھڑے ہیں اور وزیر اعظم صاحب ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور سے گرم جوشی سے مصافحہ کر رہے ہیں۔ اس تصویر میں تینوں حضرات کے چہروں پر معنی خیز، بھرپور، تاثرات سے معمور اور قوم کے لیے مثبت پیغام سے مزیّن مسکراہٹ پھیلی ہے۔
تصویر شناس ماہرین اس تصویر کو دیکھ کر بڑی آسانی سے ماضی قریب کی تاریخی واردات، حال کی سوغات اور مستقبل کے منصوبوں سے معمور واضح اشارات کا تفصیلی نقشہ کھینچ رہے تھے۔ اس تصویر میں تینوں کے چہروں پر ایسا اطمینان، فاتحانہ مسکراہٹ اور قوس قزح کے سب رنگ سنگ سنگ تھے، گویا تصوف کی اصطلاح میں من و تُو کا وصال ہو گیا تھا۔
مگر گذشتہ روز والی تصویر کی کتھا تو کچھ اور ہی کہانی وہ بھی دونوں کی زبانی سنا رہی ہے۔ حال اور زبانِ حال دونوں ہی ناگفتہ بہ اور پُر ملال ہیں۔ دونوں کے چہروں پر تشنج کی سی کیفیت ہے۔ دونوں کے چہروں پر شکایت کی حکایت ایک دوسرے کے خلاف لکھی رکھی ہے۔ دونوں کی آنکھوں میں شکوہ سنجی اور شکر رنجی کی روداد ہے۔ ن لیگ کے معتوب و مغضوب ضمیر کے قیدیوں کی یکے بعد دیگرے رہائی کی دہائی بھی کپتان کے ملول چہرے سے عیاں ہے۔ دوسری طرف امیدوں کا خون ہونے پر اہلِ جنون سے بھی شکووں کا انبار اور شکایتوں کا طومار ہے۔ دونوں کی تصویریں گویا اس شعر کی چلتی پھرتی تصویر ہے
تری تصویر تو وعدے کے دن کھنچنے کے قابل ہے
کہ شرماتی ہوئی آنکھیں ہیں گھبرایا ہوا دل ہے
اس تازہ تصویر کو اگر مجموعی ملکی سیاسی پس منظر، حکمران پارٹی کی باہم لڑائیوں، وزارتوں کی بدترین کارکردگی، معیشت کی زبوں حالی، ن لیگ کے لیے عدالتوں میں گھومنے والا الٹا پہیا اور کچھ درباری دانش فروشوں کے بدلتے ہوئے بیانیے کو جانچا جائے تو لگتا ہے بچہ جمورا بہت پریشان اور جادوگر بہت پشیمان ہے۔ پریشانی اور پشیمانی کا یہ ملاپ حالیہ الیکشن ڈرامے کے فلاپ شو کا عندیہ دے رہا ہے۔ کیا نئے پاکستان کا ڈراپ سین ہونے والا ہے؟






