عمران خان، آئی ایم سوری یار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج میں بہت خوش خوش اپنے گھر پہنچا، کیونکہ دوپہر آفس میں چند پٹواری قسم کے دوستوں سے بحث ہوئی تھی اور آپ کا بھائی کہاں ہارنے والا ہے۔ نہ ہمارا کپتان ہار مانتا ہے نہ ہم۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ جب تک آپ ہار نہ مانیں آپ ہارتے نہیں۔ خیر میں نے گھر کا دروازہ کھولا اورساتھ ہی منہ کھلے کا کھلا رہ گیا، جیت کی ساری خوشی غارت ہوگئی۔ سامنے تقریباً سارا سسرال ایک ساتھ نظر آیا۔ اتنے سارے سسرالی تو اکٹھے میں نے آخری بار پانچ برس پہلے اپنے ولیمے پہ دیکھے تھے، لیکن نہیں یہ تعداداُس سے بھی زیادہ ہے کیونکہ ہمارے آنگن میں تو ابھی تک پھول کھلا نہیں، لیکن سسرال کے تمام مالی اور زمینیں مسلسل مشقت کے داعی ہیں اور اکثر ان کے گھر دائی کا آنا جانا لگا رہتا ہے اور جب معاملہ انجام کو پہنچنے والا ہوتا ہے تو مذکورہ زمین کو مالی ہسپتال لے جاتا ہے اور پھول سے جھولی پھر کر واپس آجاتا ہے۔

اِن سسرال والوں کی لغت کا مسئلہ ہے انہوں نے بہبود سے مراد افزائش لے لیا جبکہ بہبودِ آبادی کہتی ہی رہ گئی بہبود کا مطلب فلاح ہے۔ ویسے یہ صرف میرے سسرال کا المیہ نہیں بلکہ پوری قوم کا ایشو ہے وہ خدا کے کاموں میں دخل نہیں دیتے، جبکہ دخل دیتے ہیں۔ خیر واقعہ تھا میرے گھر میں داخل ہونے کا، سامنے بیٹھی ساس اور سالی نے مجھے اوپر سے نیچے دیکھتے ہوئے سرگوشیاں شروع کردیں، یہاں سالی میں نے رشتہ بتانے کے لئے لکھا ہے۔

مجھے ان کی سرگوشیوں کی کوئی معقول وجہ معلوم نہیں ہوسکی کیونکہ میرا حلیہ ویسا ہی تھا جیسا کہ پرائیویٹ جاب سے واپسی پہ ہوتا ہے، یعنی شرٹ اور ماتھے ہیں شکنیں۔ میں نے ایک لمحے سوچا کہ صبح بیگم صاحبہ خوش تھیں، آخر میں نے ایسا کیا کردیا کہ دشمن فوج نے مورچہ سنبھالا ہوا ہے۔ شرٹ کا تو حل نہیں تھا البتہ میں نے ماتھے کی شکنیں غائب کیں اور آگے بڑھنے لگا۔ ایک جانب ڈائینگ ٹیبل پہ سالوں اور سالیوں کے کچھ بچے چڑھے ہوئے تھے۔

آپ کہیں گے کہ سجاد زیدی مغالطہ سے کام لیتا ہے ابھی تو بہبودِ آبادی پہ لفاظی کی تھی۔ تو اطلاعاً عرض ہے، کچھ میز پہ موجود تھے اور باقی میز کے نیچے۔ دونوں گروہ ایک دوسرے کو پکڑنے کی کوشش کررہے تھے لیکن ٹوٹل میدان یہ گول میز ہی تھا۔ میں نے سر کو جھٹکا اور آگے بڑھا تو میرے سسرعبدالقیوم صاحب ایسے اکڑ کرصوفے پہ بیٹھے تھے جیسے جسٹس ہوں۔ ناف تک آتی داڑھی اور ہاتھوں کے لمس سے لطف اندوز ہورہے تھے، سر پہ ٹوپی ذرا زیادہ ہی ترچھی ہوچکی تھی۔

میں ایک نظر میں ہی بھانپ گیا کہ ان کے تیوراچھے نہیں کیونکہ خاصی تن کے تیوری چڑھی ہوئی تھی۔ میں نے آگے بڑھ کر سعادتمندی سے سلام کیا، جواباً سسر صاحب نے صرف وعلیکم کہنا مناسب سمجھا، مجھے لگا وہ اس تین روزہ کے بعد مجھے دین سے مکمل خارج کرچکے ہیں۔ خیر میں نے ساس صاحبہ کے سامنے سر جھکایا کہ ماں کا پیار مل سکے لیکن ایسا بھی نہ ہوا، وہ کچن کا کہہ کر اُٹھ گئیں، آج پتہ چلا کہ مرد کی ساس ہی اصل ساس ہوتی ہے باقی تو بتنگڑ بنایا ہوا ہے۔

اتنے میں شاید ڈائینگ ٹیبل کے نیچے والے گروہ نے اوپر والے گروہ کا ایک رکن پکڑ لیا تھا اور عین ممکن ہے کھینچا ہو۔ بس ایک دھڑام کی آواز آئی اور فضا میں چیخ بلند ہوئی۔ میں لپکا اور متاثرہ مخلوق کو سنبھالا، باقی سیاروں کی مخلوق دانت نکالنے لگی۔ اتنے میں سالی صاحبہ آئیں اور بڑبڑاتے ہوئے اپنا بچہ مجھ سے وصول کرتے ہوئے کہا آپ سے اتنا نہیں ہوا کہ گھر میں آتے ہی بچوں کو دبکا لگا دیں، عجیب مرد ہیں آپ، میرے میاں گھر میں داخل ہوتے ہیں تو بچوں کا سانس خشک ہو جاتا ہے۔

میں نے دل میں کہا واقعی میری غلطی ہے، صرف دبکا کیا، ایک آدھ چانٹا لگانے میں بھی کوئی حرج نہیں تھا۔ اتنے میں ایک غیر مہذب لفظ میری سماعتوں سے ٹکرایا تو میں چونکا۔ سسر صاحب فرمارہے تھے یوتھیئے ادھر آو، لیکن انہوں نے ی واضح نہیں بولا یا پھر میں سُن نہیں سکا۔ میں نے اپنی سماعتوں کو الزام دیا اور سسر صاحب کے روبرو پیش ہوگیا۔ میں نے کہا آپ نے مجھے بُلایا؟ سسر صاحب نے کہا ایک توں ہی تو یوتھیا ہے، اس بار بھی انہوں نے ی کو دھیما کہا۔

عمر، رشتے اور اخلاقی بنیادوں پہ میں ضبط کرگیا۔ میں نے اخلاقاً پوچھا آپ لوگوں نے کچھ کھایا پیا؟ جل کر بولے عمران خان کے ہوتے ہوئے قوم لقمے لقمے کو ترس رہی ہے اور تم جلے پر نمک چھڑک رہے ہو۔ مجھے اپنے سسر کسی نیوز شو کے کروڑ پتی میز بان لگے جو چیخ چیخ کر قوم کی غربت بیان کررہا ہو۔ سسر صاحب مزید گویا ہوئے کہ یہ تمھارا عمران خان آخر کر کیا رہا ہے؟ میں نے گھڑی دیکھ کر کہا اس وقت وزیرِ اعظم ہاوس میں ہوگا، مزید مجھے نہیں معلوم۔

سسر صاحب سختی سے بولے بیٹھو۔ میں ان کی نورانی صورت دیکھنا نہیں چاہتا تھا، البتہ مجبوراً بیٹھنا پڑا۔ کہاں ہے میاں نواز شریف کا لوٹا ہوا پیسہ؟ میں نے کہا پاکستان کے علاوہ ساری دنیا میں۔ بولے بکواس نہ کرو ثبوت پیش کرو۔ میں نے کہا آپ مجھ پہ کیوں غصہ ہورہے ہیں؟ یہ اداروں کا کام ہے اور انہیں کرنے دیں۔ فرمانے لگے آٹھ مہینے ہوگئے ہیں، کیا کارکردگی ہے؟ انہوں آٹھ پہ اتنا زور دیا کہ مجھے لگا عمران خان کو وزیرِ اعظم بنے آٹھ سال یا آٹھ صدیاں ہو گئیں ہیں۔

میں نے کہا کچھ نہ کچھ ہوجائے گا۔ بولے تم اور تمھارا لیڈر ایک جیسے ہیں، تمھاری پانچ سال میں کارکردگی صفر ہے اور اُس کی آٹھ ماہ میں۔ مجھے آج اپنے سسر، اپنی ساس لگے، کہ کِس خوبصورتی سے مجھے بے اولادی کا طعنہ مارا ہے۔ میں نے پُر امید ہوکر کہا کہ خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں، انشاءاللہ جلد کچھ نہ کچھ بہتر ہو جائے گا۔ سسر صاحب چلائے کیا خاک بہتر ہوگا، کہاں ہیں پچاس لاکھ گھر؟ کہاں ہے وہ پیسہ جو روز ملک سے باہر جا رہا تھا؟

اگر روک لیا ہے تو ہے کہاں؟ میں نے وضاحت دی کہ ملک کا سسٹم خراب ہے، سب کچھ آہستہ آہستہ ٹھیک ہوگا اور جہاں تک پچاس لاکھ گھروں کا سوال ہے وہ ہم جیسوں کی وجہ سے ابھی محتاط انداز میں چل رہا ہے، ویسے میں، ہم کی جگہ صرف آپ کہنا چاہتا تھا۔ سسرصاحب نے پوچھا ہم نے کیا کیا ہے؟ میں آفس سے تھکا ہوا آیا تھا، میری برداشت جواب دے گئی۔ میں نے کہا وہی جو نوے کی دہائی میں کونسلر ہونے کا ناجائز فائدہ لیا تھا اور نواز شریف کی پیلی ٹیکسی سکیم میں کارستانی دکھائی تھی اور دو گاڑیاں نکلوا کر رنگ بدلوا لیا تھا، اب بھی ماشاءاللہ آپ کے اپنے ذاتی دو گھر ہیں لیکن گھروں والی سکیم کے لئے سارے خاندان کے شناختی کارڈ اکٹھے کیے بیٹھے ہیں، جبکہ یہ سکیم ضرورت مندوں کے لئے ہے۔

بولے ہم بھی ضرورت مند ہیں، غریب ہیں۔ کم ازکم جہانگیر ترین سے تو غریب ہی ہیں۔ میں نے کہا جہانگیر ترین سے تو خیر بہت سے غریب ہیں۔ آج سسر صاحب نے مجھے شاید فواد چوہدری سمجھ لیا تھا، ان کا خیال تھا کہ میں حکومت کا ترجمان ہوں، جبکہ میرا پورا چہرہ فواد چوہدری کے ایک گال کے برابر ہے۔ خیر کہنے لگے عمران خان دوغلا آدمی ہے، کہتا تھا بھیک نہیں مانگو گا لیکن اب کبھی ابوظہبی، کبھی جدہ اور کبھی چائینہ۔ میں نے کہا سسر جی ملک میں بڑی ڈکیتی ہوئی ہے گھر میں پیسہ نہیں وہ کہیں سے تو لانا ہے، یاد ہے جب چھ سال پہلے آپ کے گھر چوری ہوئی تھی اور چور آپ کو باندھ کر سارا گھر کھول کر لے گئے تھے یہاں تک آپ کی بیٹی کا جہیز بھی۔

وہ تو خیر میں دین دار آدمی تھا بنا جہیز کے آپ کی بیٹی سے شادی کرلی۔ فوراً بولے لیکن میں نے عربیوں سے بھیک تو نہیں مانگی تھی۔ میں نے مانا کہ یہ تو ہے لیکن آپ نے اپنے دوستوں عدنان شیخ، ریحان شیخ، سلمان شیخ اور پستہ قد اور چھوٹی آنکھوں والے دوست چنگیزی سے تو ادھار لیا تھا، وہی چنگیزی جسے سب چینہ کہتے تھے۔ سسر صاحب ہچکچائے اور بولے مجھے تم سے ایسی ہی پست بات کی توقع تھی۔ میں نے کہا ایسا نہیں، بس عمران خان کام کرنا چاہتا ہے اسے کرنے دیں۔

کہنے لگے میں نے کب روکا ہے، کرے کام۔ روکا تو صرف میاں صاحب کو جاتا ہے، اسٹیبلشمنٹ کو نجانے خدا واسطے کا بیر ہے معصوم صورت نواز شریف سے، پھر بھی مرتے مرتے ہر بار کچھ نہ کر ہی جاتا ہے جیسے ایٹمی دھماکے اور دہشت گردی کا خاتمہ۔ نہ جانے کیوں میری ہنسی چھوٹ گئی۔ کہنے لگے پاکستانیوں کے چہروں پہ یہ خوشیاں میاں صاحب کی دی ہوئی ہیں۔ میں نے کہانہیں یہ ہنسی اطمینان کی نہیں، میں تو اسٹیبلشمنٹ والی بات پہ ہنس رہا ہوں، جو میاں صاحب کو کام نہیں کرنے دیتی، ٹھیک ہوگیا، لیکن کیا کرپشن کرنے کا کہتی ہے؟

آپ لوگ کہتے ہیں پاکستان میں سب کچھ اسٹیبلشمنٹ اور فوج کرتی ہے، ٹھیک ہوگیا، لیکن ایٹمی دھماکے اور ملک میں امن جو خالصتاً سیکیورٹی اور فوج کا معاملہ وہ نواز شریف نے کیا، ایسا نہ کریں۔ انڈیا نے دھماکے کردیے تھے اب اگر پاکستان کے وزیرِ اعظم آپ بھی ہوتے، تب بھی فوج نے دھماکے کروانے ہی تھے۔ سسر صاحب تھوڑا لاجواب لیکن وزیرِ اعظم ہوسکنے کی بات پہ خوش ہوئے۔ شوہرِ نامدار کو پسپا ہوتا د یکھ کی ان کی شریکِ حیات یعنی ساس صاحبہ وارد ہوئیں۔

آتے ہوئے سسر صاحب سے کہنے لگیں حاجی صاحب، عمران خان ہے ہی یہودی ایجنٹ اس کی وجہ سے میں اس سال حج نہ کرسکی۔ میں پوچھا آنٹی جی پہلے دو حج ٹھیک نہیں ہوئے تھے؟ حج تو ایک دفعہ ہی فرض ہے وہ بھی اگر اخراجات کی طاقت ہو اور کوئی ذمہ داری باقی نہ رہ گئی ہو۔ ساس صاحبہ بولیں اب توں مجھے تبلیغ کرے گا؟ میں نے نفی میں سر ہلایا۔ سسر صاحب نے داڑھی سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے، کچھ سوچا اور اضافہ کیا اُس کا تو بس نہیں چل رہا، سارے اسلامی فرائض پہ بابندی لگا دے، اذانیں لاوڈ اسپیکر پہ نہ ہونے دے، روزے کا گھگو نہ بجنے دے، یہاں تک وضو اور غسل پہ بھی پابندی لگوا دے۔

میں نے دل میں سوچا سسر صاحب کو اس عمر غسل کی ضرورت پڑتی ہوگی؟ شاید غسلِ میت کی بات کررہے ہیں۔ خیر میں خیال سے باہر آیا تو سسر صاحب کا آخری جملہ سُنا وہ چاہتا ہے گلی گلی میں ڈانس کلب کھل جائیں۔ میں نے کہاآپ کو کسی مولوی نے غلط اطلاع دی ہے وہ کیوں چاہے گا کہ ڈانس کلب کھلیں؟ بولے بس وہ یہودی ایجنٹ ہے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ ڈانس کلب تو جدید مجرا ہی ہوتا ہے، کیوں حاجی صاحب؟ سسر صاحب نے میری آنکھوں میں دیکھا، تو مجھے یقین ہو گیا کہ میں انہیں بلیک میل کرچکا ہوں۔

میں نے ساری ہمت جمع کرکے کہا آپ لوگ تھوڑا صبر کریں، باقیوں کو برسوں دیکھا ہے اس کو بھی دیکھ لیں۔ ورنہ کیا آپشن ہے؟ پھر وہی پُرانے حکمران۔ اگر عمران خان بھی ٹھیک آدمی نہیں، تو کون سا ہمارے ساتھ پہلی دفعہ ہونا ہے، جہاں سارے لوٹ گئے وہاں یہ بھی ہمیں مار ڈالے، لیکن میں اس کے ساتھ ہوں۔ اتنے میں سالے (یہ بھی رشتہ بتایا ہے) کی آواز آئی کیا شور مچا رکھا ہے۔ سارے بچوں کا سانس خشک ہوگیا۔ میں نے سالے کو گھور کر دیکھا کہ یہ میرا گھر ہے اور میں اونچی آواز سے نہیں بولتا، لیکن ساری خدائی ایک طرف جورو کا بھائی ایک طرف۔

میں اُٹھ کر گلے ملنا چاہتا تھا لیکن اُس نے دور سے ہاتھ ہلا کر بیٹھے رہنے کا کہا۔ آج مجھے لگ رہا تھا کہ عمران خان اور اس کی کابینہ کے سارے کاموں کا ذمہ دار میں ہی ہوں۔ اتنے میں وہ حسین خاتون ڈرائینگ رو م میں آئیں جن کی وجہ سے میں اِن سب کو برداشت کررہا تھا، یعنی کہ بیگم صاحبہ۔ میں نے اُٹھ کر اپنے برابر جگہ بنائی لیکن وہ اپنی اماں کے برابر بیٹھ گئیں، بالکل ویسے ہی جیسے پانچ برس قبل ہم رشتہ لے کر گئے تھے اور بیگم صاحبہ آ بیٹھی تھیں، لیکن اُس وقت باقی سسرالیوں کے چہرے اتنے نورانی نہیں تھے۔

میں نے کہا بیگم کھانے کا کچھ کیا؟ کہنے لگیں کھانا بعد میں پہلے فیصلہ ہوگا۔ میں نے کہا کیسا فیصلہ؟ کہنے لگیں ہمارے ساتھ رہنے کا۔ میرا دل دھک سے رہ گیا۔ میں بیگم کے بغیر کیسے جی سکتا ہوں۔ میں نے پوچھا لیکن کیوں؟ ہوا کیا ہے؟ سرد اور اجنبی لہجے میں کہنے لگیں امی نے حج کرنا تھا، عمران خان نے مشکل کردیا، ابا نے پچاس لاکھ گھروں سے صرف ایک دو لینا تھے، لیکن انہیں موقع نہیں مل رہا، بھائی جان کو ایف بی آر والے تنگ کررہے ہیں اور آپی کے شوہر کے پورے شہر میں پھیلے کیبل نیٹ ورک کو بھارتی چینل چلانے پہ بند کردیا گیا ہے۔

میرے ذہن میں خیال آیا کہ میرے ہم زلف کا نیٹ ورک شاید جی ایچ کیو کے قریب تک پھیلا ہوا ہے، سو پوچھ لیا اداروں کو کیسے پتہ چلا؟ بیگم نے چیخ کرکہا کسی نے سیٹیزن پورٹل پہ شکایت کی تھی۔ میں نے کہا اوہ۔ بیگم نے کہا کہ میرا خاندان عمران خان سے تنگ آچکا ہے۔ اب آپ اپنا فیصلہ سُنائیں۔ آپ کو مجھ اور عمران خان میں سے ایک کو چننا ہوگا۔ بیگم کا یہ کہنا تھا کہ مجھے لگا کسی نے میرے سر پہ آسمان دے مارا ہے۔ ڈارائینگ روم میں ایک سناٹا تھا، جسے میں نے ہی توڑنا تھا۔

ساس، سسر، سالے، سالی، حتیٰ کہ دوسرے گولے کی مخلوق وہ بچے بھی خاموش تھے جبکہ سالے کی بیگم کچن کے دروازے میں کھڑی صافی سے ہاتھ پونچھ رہی تھی۔ سب مجھ پہ ایسے نظریں جمائے تھے جیسے میں مجرم ہوں۔ لیکن مجھے جس نظر کی آرزو تھی وہ ناراض ہوئے بیٹھی تھی۔ بیگم روزِ اول کی طرح معصوم لگ رہی تھیں، مجھے اُن پہ پیار بھی آرہا تھا اور اِن بھڑکانے والوں کو کچا چبانے کو دل کررہا تھا، مگر کیا کیا جائے، دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف، اپنی ہی اہلیہ سے ملاقات ہوگئی۔

بیگم میری طرف نہیں دیکھ رہیں تھیں، ورنہ ہم آنکھوں کی زبان میں کافی مہارت حاصل کرچکے تھے۔ خیر میں نے سوچا عمران خان تین تین شادیاں کرسکتا ہے اور میں اس کے پیچھے ایک بھی چھوڑ دوں، اس جملے سے مجھ میں اورعمران خان میں فاصلہ پیداہوا۔ میرا دل رویا کہ خان میرا ارادہ تھا کہ تمھارے ساتھ نیاپاکستان بنانے میں مدد کروں لیکن میں یہیں ساتھ چھوڑ رہا ہوں۔ سر اُٹھا کربیگم سے کہا میں تمھارے بغیر نہیں رہ سکتا، اُن لوگوں میں خوشی کی لہر دور گئی، بیگم مسکرائیں۔ میں نے موبائل سے کپتان کی تصویر نکالی اور کہا عمران خان آئی ایم سوری، یار۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •