مذہبی جنونیت اور نظام تعلیم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گوکہ مذہبی جنونیت ہمارے معاشرے میں صدیوں سے پیوستہ ہے مگر جوں جوں معاشرے میں تعلیم کا رجحان بڑھتا جارہا ہے عدم برداشت، مذہبی جنونیت اور انتہا پسندی بھی اسی رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں، ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ انتہا پسندی میں ان پڑھ جاہل طبقے سے کئی گنا آگے ہیں۔ سماج کی مختلف پرتوں، اقتصادی عوامل، ذاتی خیالات ہر ایک کو محض مذہبی نقطہ نظر سے دیکھا اورپرکھا جارہا ہے، جس کی وجہ سے ان عوامل کی اصل حقیقت پر ہمہ وقت پردہ پڑا رہتا ہے۔

آخر کیا وجہ ہے کہ ہم ہر ایک معاملے کو مذہبی عینک لگا کے دیکھنے کے عادی ہوگئے ہیں۔ ؟ کیا سارے سماجی عوامل مذہبی تعصبات کی بنیا د پر پروان چڑھتے ہیں۔ ؟ اس کا جواب سراسر نفی میں ہے، دیکھا جائے تو سماجی مظاہر میں سے اکثریت اقتصادی مفادات کی نمائندگی کرتی ہے، مذہب ہمیشہ سے اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لئے بطور ٹول استعمال ہوا ہے اور اب بھی یہی کچھ ہورہا ہے۔

ہمارے تعلیم یافتہ طبقے میں پائی جانے والی انتہا پسندی کی سب سے بڑی وجہ ہمارا نصاب تعلیم ہی ہے، سکول سے لے کر کالجزاور یونیورسٹیز تک طالب علموں کو عقل پسندی اور تنقیدی سوچ سیکھانے کی بجائے مسخ شدہ تاریخ پڑھائی جا رہی ہے۔ ہمارے یہاں ہر مضمون میں مذہب کو لازما شامل کیا گیا ہے، آپ خالص سائنسز کے طالب علم ہے یا ادب کے، آپ سماجی علوم پڑھتے ہیں یا ہیومینیٹئرئینز ہر جگہ اصل توجہ مذہب کی جانب دی جاتی ہے، اور مذہب کو حب الوطنی کے ساتھ جوڑ کر پورے معاملے کو الجھا دیا گیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہمارے اعلی تعلیمی اداروں میں تحقیق کم اور تقلید زیادہ کروائی جاتی ہے۔ ادب کے نصاب میں مذہب سے لے کر حب الوطنی اور مسخ شدہ تاریخ تک سب موجود ہے مگر اس میں ادب کا عنصر شامل ناپید۔ اسی طرح سائنس کے مضامین کو بھی ان کے روح کے برخلاف مذہب کے تابغ بنایا گیا ہے آج ہر پڑھا لکھا شخص یہ سمجھتا ہے کہ شاید سائنس ان کے آباد و اجداد کی کاوشوں کے علاوہ اور کچھ ہے ہی نہیں۔ حالانکہ ماضی کے مسلمان سائنس دانوں ( جن کی سائنسی خدمات بلاشبہ ناقابل تردید ہے ) کی زندگیوں کا تنقیدی جائزہ لیا جائے تو اکثریت کے مذہبی خیالات ہم بہت زیادہ مختلف تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ جب تک نصابی تعلیم میں بنیادی اصلاحات نہ کی جائے تب تک معاشرے میں موجود مذہبی جنونیت اور انتہا پسندی کے ناسور کا خاتمہ ممکن نہیں۔ نصابی کتابوں سے ہر قسم کی نفرت و تعصبات کو ختم کرکے طالب علموں کو تنقیدی سوچ کی جانب راغب کرنا ناگزیر ہے وگرنہ انتہا پسندی کا موجودہ ناسور مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •