میں، چھپکلی اور خوف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن میں بلکہ چند سال پہلے تک، میں بھی پاکستانی اسٹینڈرڈ نسوانی رویے کے تحت چھپکلیوں سے ڈرتی رہی ہوں۔ یہ ڈر کب اور کیسے بیٹھا اس کا اندازہ کبھی نہیں ہو پایا مگر کچھ دھندلی سی یاد یہ بھی ہے کہ بالکل بچپن میں چھپکلیوں سے یہ چھتیس کا آکڑہ نہیں تھا۔ چھپکلی بچاری زندگی میں گن کے چند بار ہی حملہ آور ہوئی ہوگی اور اس حملے کا مطلب یہ کہ جب وہ بچاری ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی کوشش میں اپنا توازن کھو بیٹھتی ہے اور چھت سے ٹپ سے کسی پہ بھی آن گرتی ہے۔

چھپکلی دیکھنے میں جتنی کراہت آمیز لگتی ہے اس کا لمس اتنا ہی ملائم ہوتا ہے۔ یہ میرا تجربہ ہے۔ اس کے باوجود اس مخلوق کے بارے میں بہت سی ”لیجنڈز“ مشہور ہیں جو ہم آپ جیسی کئی سادہ دل خواتین اور شاید بہت سے حضرات کے بھی خوف کی بنیادی وجہ ہیں۔ ان لیجنڈز میں چھپکلی کا نوبیاہتا دلہن کے کپڑوں میں موجود ہونا اور شادی کی رات بچاری کا اس کے قاتل زہر سے دارِفانی سے کوچ کرجانا ایک پر اثر کہانی ہے جو تھوڑی بہت علاقائی تبدیلیوں کے ساتھ تقریباً سب نے ہی سن رکھی ہے۔

اس خوف کے باعث ہمارا چھپکلی کو پروٹوکول دینے کا انداز یہی تھا کہ دور سے اس کی دم بھی کسی سوراخ سے نظر آجائے تو ہم خطرے کا سائرن بجا دیا کرتے تھے۔ اب بھائی یا امی کی ذمہ داری تھی کہ علاقہ کلئیر کروایا جائے ورنہ ہم وہاں قدم رنجہ نہیں فرمائیں گے۔ ہمارے پرانے گھر میں لیٹرین کی لکڑی کی چھت تھی جہاں ان انڈرکور کوپس کے چھپنے کی لاتعداد جگہیں تھیں۔ اور ہمارا ”فراغت“ کا سارا وقت چھت کے کونوں کھدروں سے ممکنہ جھانکتی دم، پنجہ یا منہ کی تلاش میں گزرتا کہ کب کچھ نظر آئے اور ہم باہر دوڑ لگائیں۔

ان سے این کاونٹر بھی ہولناک ہوتا تھا جو اب دلچسپ لگتا ہے۔ چونکہ دونوں طرف آگ برابر لگی ہوتی تھی اس لیے ہم اسے دیکھ کے بھاگتے وہ ہمیں دیکھ کے۔ اب کسی جگہ ہمیں کام ہے اسے بھی کام ہے۔ چٹکی بجا کے یا بجوا کے کسی کونے میں چھپایا اب کام شروع کیا تو محترمہ لہکتی مٹکتی باہر آجائیں گی جیسے پتا ہی نہیں کہ ہم باہر موجود ہیں اور یوں گھبرائیں گی جیسے مشرقی دوشیزہ نامحرم کو دیکھ کر گھبرا جاتی ہیں۔ کوئی پوچھے کہ بہنا جب پتا ہے کہ ہم باہر کام کر رہے ہیں مانا کہ آپ کا کام بھی اہم ہوگا مگر گھڑی بھر کو دم لے لو تو کیا قباحت ہے؟ مگر نا۔ پھر گھبراہٹ میں وہ سوراخ بھی بھول جائیں گی جہاں سے نمودار ہوئی تھیں اور پورے کمرے بلکہ عموماً باورچی خانے میں ہر ہر پتیلی، بھگونے، مصالحے کے ڈبے، کنستر اور ہماری ٹانگوں کے گرد اچھی طرح ناچ کر ہی مطلوبہ جائے عافیت تک پہنچیں گی۔

نویں جماعت میں پہلی بار ایک حیرت کا عظیم جھٹکا تب لگا جب پتا چلا کہ چھپکلی کاٹ نہیں سکتی۔ مطلب واقعی؟ یعنی زندگی کے چودہ سال اتنی بڑی غلط فہمی میں گزارے۔ ہمیں تو لگتا تھا کہ یہ حملہ کردے تو گاڈزیلا کی طرح چیر پھاڑ کے کھاجاتی ہوگی۔ پھر ادراک ہوا کہ منطقی طور پہ اس جسامت پہ ایسا حملہ ممکن ہی نہیں۔ نہ ہی اس میں کامک ہیرو ہلک کی کوئی خصوصیت کبھی نظر آئی کہ غصہ آنے پہ چھپکلی مگرمچھ بن گئی ہو۔ مگر پھر بھی زہر تو ہوتا ہے۔

یہ تو انہی دلہن والے لیجنڈز سے ثابت ہے۔ خیر چند سال اسی شش و پنچ اور اچھل کود میں گزرے اور نفسیات پڑھنا شروع کی جب فوبیاز کے بارے می‍ں پڑھا تو سوچا کہ ہمیں بھی تو اندازہ ہو کہ ہمارا چھپکلی سے خوف کس حد تک منطقی ہے۔ کیوں کہ بہرحال یہ ہمارے روز مرہ کے کاموں میں تھوڑا بہت نہیں بلکہ کافی خلل ڈالتا ہے۔ کبھی کبھی ”چھپکلی نا آجائے“ کے خوف سے راتیں جاگ کر گزارنی پڑتی ہیں۔ پھر سب سے پہلے اپنا فوبیا ٹھیک کرنے کا بیڑا اٹھایا۔

رات کو سونے سے پہلے ایک تفصیلی امیجینیشن ہوتی کہ چھپکلی دور بیٹھی ہے اور پیار سے مجھے دیکھ رہی ہے۔ تب تو اس کی یہ نظر التفات بھی جسم میں سرد لہر دوڑانے کو کافی تھی۔ پھر تصور کیا جاتا کہ وہ مٹکتی لہکتی کچھ قریب آگئی۔ دل کی دھڑکن بڑھتی مگر تب تک وہ محترمہ وہیں بیٹھی رہتیں جب تک یہ دھڑکن معمول پہ نہ آجائے یا نسبتاً بہتر نہ ہوجائے۔ پھر کچھ دن کے بعد یہ مرحلہ بھی آگیا جب تصور میں وہ میرے ہاتھ پہ آکر بیٹھ جاتی۔

رفتہ رفتہ اس سے مشکل فیصلہ کرنے کی ہمت بھی کرلی اور کئی بار باورچی خانے کے جالی دار دروزے پہ دوسری طرف بیٹھی چھپکلی کو بہت احتیاط سے چھوا اوپر سے چھونے کی ہمت تب بھی نہیں تھی۔ اتنی محنت کے باوجود خاطر خواہ نتیجہ نہیں ملا تھا۔ پھر اس خوف کی مزید منطقی بنیادوں کو ہلانے کا عزم کیا اور چھپکلیوں کے بارے میں روز کئی آرٹیکلز سرچ کرکے پڑھے۔ جس سے سب سے پہلی یہ غلط رفع ہوئی کہ چھپکلی چوں کہ غذا ثابت نگلتی ہے اس لیے کاٹ نہیں سکتی۔

اس کے دانت بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور غذا کو منہ میں روکے رکھنے کے کام آتے ہیں۔ دوسری غلط فہمی اس کے زہر کے متعلق تھی۔ پاکستان میں موجود گھریلو چھپکلیاں جن کو گیکو کہا جاتا ہے کیوں کہ یہ اس سے مشابہہ آواز پیدا کرتی رہتی ہے جو ہلکی ہلکی ٹرچ ٹرچ جیسی ہوتی ہے جس سے آپ کو اندازہ ہوجاتا ہے کہ آپ کے اردگرد کہیں یہ ”انڈر کور کوپ“ چھپا بیٹھا ہے۔ تو گیکو عموماً بالکل بے ضرر ہوتی ہیں اور نا تو یہ کاٹ کے جسم میں زہر داخل کرسکتی ہیں نا ان کی کھال میں زہر ہوتا ہے۔

صحرا میں موجود چھپکلیوں کی کچھ اسپیشیز زہریلی ہوسکتی ہیں۔ کموڈو ڈریگن دنیا کی سب سے بڑی اور خطرناک چھپکلی ہے جو کہ انڈونیشیا کے کموڈو جزائر پہ پائی جاتی ہیں۔ چھپکلیوں کے حوالے سے ایک دلچسپ معلومات یہ بھی ہے کہ ان میں سے کچھ اسپیشیز میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ کسی وجہ سے ان کی مادہ اکیلی رہ جائے تو یہ اے سیکشوئیل ریپروڈکشن کے اصول کے تحت بغیر نر اپنی نسل بڑھا سکتی ہیں یا اگر کسی جگہ صرف مادائیں بچیں تو ان میں سے کچھ مادائیں نر بن جاتی ہیں۔

وہپ ٹیل نامی چھپکلی میں ساری مادائیں ہوتی ہیں اور یہ غیر جنسی تولیدی عمل کے ذریعے نسل بڑھاتی ہیں مگر اس کے باوجود ان میں سے کئی آپس میں جنسی تعلق بھی رکھتی ہیں اور شاید کسی بھی مخلوق میں سب سے زیادہ ہم جنسیت رکھنے والی مخلوق ہیں۔ گرگٹ بھی چھپکلی کی ہی نسل ہے۔

یہ ساری معلومات وقتاً فوقتاً پڑھ پڑھ کر اپنا خوف اتنا کم کرنے میں مدد ملی کہ اب یہ روزمرہ کی زندگی کو متاثر نہیں کرتا۔ ساتھ ہی جب یہ اندازہ ہوا کہ یہ نا کاٹ سکتی ہے نا اس میں زہر ہوتا ہے تو پھر اس کے بہت شدید بے ضرر ہونے کا احساس بھی ہوا کہ انسان کی اس سے جسامت کا فرق کہیں زیادہ ہے اور اسے مارنا چوہے سے بھی زہادہ آسان ہے ایسے میں اس سے خوف کھاتے رہنا کسی بھی صورت منطقی نہیں۔ ایک اور اہم نکتہ جو مشاہدہ کرنے پہ سمجھ آیا وہ یہ کہ اگر گھر میں پائی جانے والی چھپکلیاں کسی بھی حوالے سے نقصان دہ ہوتیں تو اس سے متعلق حادثات کی شرح اتنی ہی زیادہ ہوتی جبکہ چھپکلی کے کھانے میں گرجانے کی وجہ سے لوگوں کے ہاسپٹلائز ہونے کے واقعات تو پھر بھی کبھی کبھی سننے میں آجاتے ہیں مگر اس کے کاٹنے سے مرنے یا اس کو کھا لینے کی وجہ سے مرنے کے واقعات بہت کم ہیں اور جو ہیں اس میں عموماً راوی نے خود بھی کسی اور سے اور اس نے کسی اور سے سنا ہوتا ہے۔ جب کہ حقیقتاً نقصان پہنچانے والے جاندار جن میں مچھر میاں سرفہرست ہیں وہ جہاں بھی پائے جاتے ہیں ان سے ہونے والے متاثرین واضح نظر آتے ہیں اور آپ بیتی سنانے کے لیے بھی موجود ہوتے ہیں۔

اس سے مجھے ایک حقیقت کا احساس اور بھی ہوا وہ یہ کہ غیر منطقی خوف یا فوبیاز کی عموماً سب سے بڑی وجہ غلط فہمی اور متعلقہ چیز یا جانور کے بارے میں معلومات کی کمی ہے۔ جب ہم کسی چیز شخص یا جانور کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں تو اس کی تصویر، وڈیو اور تذکرہ بار بار دیکھتے اور سنتے ہیں جو کہ ڈی سینسیٹائزیشن میں مدد کرتا ہے اور ہمارے خوف کا جسمانی ردعمل بھی ہمارے کنٹرول میں آجاتا ہے۔ کسی بھی خوف کو ختم کرنے کے لیے اہم ہے کہ ہمارے شعور کے ساتھ ساتھ ہمارے لاشعور کو بھی یقین ہوجائے کہ وہ چیز یا تو بے ضرر ہے یا پھر اگر خطرناک ہے بھی تو اس سے ہمارا واسطہ پڑنے کا کس حد تک امکان ہے اور ہم اس صورت میں اس سے نپٹنے کے لیے کتنے تیار ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ پیشے کے اعتبار سے ماہر نفسیات ہیں۔ ان کا تعلق سندھ کے شہر سکھر سے ہے۔ نفسیاتی اور معاشرتی مسائل پہ آرٹیکلز اور کہانیاں لکھتی ہیں۔ ”ینگ ویمن رائٹرز فورم اسلام آباد چیپٹر“ کی کمیٹی اورگنائزر ہیں۔ سوشل میڈیا پہ سائنس کی اردو میں ترویج کے سب سے بڑے پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سےبھی منسلک ہیں۔

absar-fatima has 43 posts and counting.See all posts by absar-fatima