کیا آپ بے گھر ہیں؟


جب میں بچہ تھا تو ایک رات ہمارے گھر کی بجلی چلی گئی اور چاروں طرف تاریکی پھیل گئی۔ میری امی نے کہا ’جاؤ سہیل بیٹا کمرے سے موم بتی اور ماچس لے کر آؤ‘ میں نے اندھیرے میں بہت ٹامک ٹوئیاں ماریں لیکن کچھ نہ ملا۔ آخر میری امی اندر آئیں اور انہیں اندھیرے میں بھی فوراٌ دونوں چیزیں مل گئیں۔ میں بہت حیران ہوا۔ میں نے امی جان سے پوچھا ’آپ کو کیسے موم بتی بھی مل گئی اور ماچس بھی؟ ‘
کہنے لگیں۔ ’میں ان کے گھر گئی اور وہ وہاں موجود تھیں‘

پھر امی جان نے مجھے بتایا کہ بیٹا ہر چیز کا ایک گھر ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی چیز کو اس کے گھر میں رکھیں تو آپ کو اندھیرے میں بھی وہ چیز ملنے میں دشواری نہیں ہوتی۔ پھر امی جان نے بتایا
موم بتی اور ماچس کا گھر الماری کا دوسرا خانہ ہے،
چابیوں کا گھر ایک پیالہ ہے۔
کھانوں کا گھر نعمت خانہ ہے۔
جوتوں کا گھر ایک ڈبہ ہے
اور کپڑوں کا گھر کلوزٹ ہے۔
بعد میں مجھے پتہ چلا کہ کار کا بھی گھر ہوتا ہے جو گیراج کہلاتا ہے۔

اب میں سوچتا ہوں کہ اگر چیزوں کے گھر ہوتے ہیں تو انسانوں کے بھی گھر ہونے چاہئییں۔ کیا ہر انسان کا کوئی گھر ہوتا ہے؟
میں ایسے لوگوں سے بھی ملا ہوں جو اپنے گھر میں اجنبی محسوس کرتے ہیں اور ایسے مہاجروں سے بھی مل چکا ہوں جو بقولِ اشفاق حسین ؎ بے گھر ہوئے ایسے کہ کوئی گھر نہیں اپنا

ایک شام میں نے اپنے ماہرِ نفسیات دوست ڈاکٹر لکشمن فرننڈو سے پوچھا کہ وہ کہاں سفر پر جا رہے ہیں۔ کہنے لگے ’اپنے گھر سری لنکا جا رہا ہوں‘ میں نے کہا آپ کینیڈا میں تیس برس سے رہ رہے ہیں آپ پھر بھی سری لنکا کو اپنے گھر کہتے ہیں۔ آپ نے سری لنکا سے زیادہ زندگی کینیڈا میں گزاری ہے۔ اب اسی کو اپنا گھر سمجھیں۔

میں جب نیوفن لینڈ میں رہتا تھا ان دنوں میری ملاقات ایک کیوبن نوجوان ہولیو سے ہوئی کہنے لگا میں گینڈر کے ہوائی اڈے پر اتر کر ایک رفیوجی بن گیا ہوں اب میں کبھی کیوبا نہیں جا سکتا نہ ماں سے مل سکتا ہوں نہ دھرتی ماں سے۔
بعض مہاجر ڈبل نیشنیلیٹی لے لیتے ہیں اور دو گھر بنا لیتے ہیں۔ ماہرِ نفسیات شاعر سلمان اختر کے مجموعہِ کلام کا نام بھی ’دوسرا گھر‘ ہے۔

ایک دن میں نے گھر کے بارے میں ایک نظم نما غزل لکھی جو کچھ یوں تھی
؎ پڑاؤ جس جگہ ڈالا وہی ہے گھر اپنا
جہاں بھی قافلہ ٹھہرا وہی ہے گھر اپنا

تمام عمر ہی خانہ بدوش کہلائے
جہاں بھی شب کو گزارا وہی ہے گھر اپنا

ہم اپنے گھر میں بھی بے گھر رہیں ہیں بچپن سے
ہمیں سکوں ملے جس جا وہی ہے گھر اپنا

حقیقتوں سے جو مایوس ہو کے برسوں سے
ہمار خوابوں میں آیا وہی ہے گھر اپنا

زمین ساری ہے اپنی فضائیں اپنی ہیں
جسے بھی سمجھیں ہم اپنا وہی ہے گھر اپنا

بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو ساری عمر بے گھری کا عذاب سہتے ہیں۔ میں بنگلہ دیش کے ان کیمپوں کو دیکھ چکا ہوں جہاں سینکڑوں ہزار لوگ نجانے کب سے پاکستان جانے کا انتظار کر رہے ہیں۔ اسی طرح ہزاروں لاکھوں فلسطینی اس صبح کا انتطار کر رہے ہیں جب وہ واپس اپنے گھر جا سکیں گے۔

جب ہم ساری دنیا پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ہر ملک اور ہر شہر میں بے گھر لوگ پائے جاتے ہیں۔ بعض لوگ کینیڈا جیسے متمول ملک میں بے گھر لوگوں کو دیکھ کر حیران ہوتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ جب حکومت نے بے گھر لوگوں کے لیے شیلٹر بنا دیے ہیں تو پھر یہ بے گھر لوگ سردیوں کی راتوں میں کسی فٹ پاتھ پر یا کسی پل کے نیچے کیوں سوتے ہیں۔ ایسے لوگ شاید نہیں جانتے کہ بے گھر لوگوں میں سے بہت سے نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔

میرا ایک مریض سردیوں میں آدھی رات کو گرم گرم کافی اور چائے لے جا کر بے گھروں کو پلاتا ہے تا کہ وہ سردی کی شدت میں کہیں ٹھٹھر کر مر نہ جائیں۔

ہندوستان میں مدر ٹریسا قریب المرگ بے گھروں کو اپنے گھر لے آتی تھیں اور ان کی تیمارداری کرتی تھیں تا کہ کوئی شخص اکیلا نہ مرے۔ پاکستان میں ایدھی کی ایمبولنس والے بیمار بے گھروں کو ہسپتال لے جاتے ہیں۔

مجھے ایک سوشلسٹ دوست نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی لیڈروں نے نجانے کتنی دفعہ روٹی، کپڑا اور مکان کا وعدہ کیا لیکن پھر طوطا چشم ہو گئے۔ کہنے لگا پورے شہر میں نجانے کتنے غریبوں کو ایک گھر بھی میسر نہیں لیکن خدا کے ہر شہر میں بیسیوں گھر ہیں جو مسجد، گرجا، سناگاگ اور مندر کہلاتے ہیں۔

بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا ایک سرائے ہے اور وہ مسافر ہیں۔ ان کے لیے ان کی قبر ان کی آخری آرامگاہ اور ان کا آخری گھر ثابت ہوگی۔
مولانا رومی کہا کرتے تھے کہ مرنے کے بعد ہمیں قبروں میں مت تلاش کرنا ہمیں ہمارے دوستوں کے دلوں میں تلاش کرنا جہاں ہم نے مستقل گھر بنا رکھا ہے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail