عراقی ادیب ”حسن بلاسِم“ : حُریت چوک کا مجنوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حسن بلاسم عراقی ادیب اور فلم ڈائریکٹر ہیں، فن لینڈ میں رہتے ہیں۔ بلاسم کے والد فوج میں ملازم تھے۔ سولہ سال کی عمر میں باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ جس کا اثر ان کی کہا نیوں میں نظر آتا ہے۔ اعلی تعلیم بغداد سے حاصل کی۔ یہاں انھوں نے فلم سازی کی تعلیم حاصل کی۔ یہاں ان کو اپنی سوچ اور باغیانہ خیالات کی وجہ سے کئی بار گرفتار کیا گیا۔ صدام حسین کی حکومت سے چھپتے چھپاتے بالآخر 2004 میں فن لینڈ پہنچے۔ یہاں انہوں نے متعدد چھوٹی اور دستاویزی فلمیں بنائیں۔

ان کی جلا وطنی کی داستان کافی دلچسپ و تکلیف دہ ہے۔ عراق میں جب پہلی فلم بنائی تب ان کو اپنی جان کا خطرہ محسوس ہوا تب وہ بھاگ کر کردستان پہنچ گئے، اپنا نام بھی تبدیل کر کے آزاد عثمان رکھ لیا۔ صدر صدام کے خلاف کئی آرٹیکل لکھے۔ یہاں سے پھر وہ بھاگ کر غیر قانونی طور پر یورپ کے لیے مافیا کے ہتھے چھڑ گئے۔ کردستان سے ایران پہنچے، وہاں سے بلغاریہ اور پھر کئی ممالک سے ہوتے ہوئے بالآخر فن لینڈ پہنچ گئے۔ ان کے ساتھ تارکین مین پاکستانی لوگ بھی تھے ے جو کہ غیر قانونی طور پر یورپ جا رہے ہوتے ہیں۔ کافی مسائل کا سامنا کیا جس میں سچ بولنے پران کو قتل کی دھمکیاں شامل ہیں۔ ان کے ایک دوست ہادی المہدی کوبھی حکومت کی کرپشن کے خلاف لکھنے اور بولنے پر عراق میں قتل کر دیا گیا۔ ڈکٹیٹر کے خلاف بولنا اپنی اور اپنے خاندان کی موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔

ان کے افسانوں کا اولین مجموعہ ”حریت چوک کا مجنوں“ 2009 میں برطانیہ سے شائع ہوا، دوسرا افسانوی مجموعہ ”عراقی مسیح“ کے نام سے شائع ہوا۔ ان دونوں مجموعوں کی منتخب کہانیوں کو ”لاش کی نمائش اور دیگر عراقی کہانیوں“ The corpse exhibition and other stories of Iraq ”کوامریکہ سے 2014 میں پینگوئن نے شائع کیا۔ ان کہانیوں کے اندر انہو ں نے خاص طور پر عراقیوں کی ذہنی و نفسیاتی کیفیت کو بیان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عراق کویت جنگ اور امریکہ کی عراق کے اندر دخل اندازی اور اس سب کے عراقی عوام پر پڑنے والے اثرات کو استعاراتی انداز میں بیاں کیا گیا ہے۔

ان کہانیوں کا اردو زبان کے اندر ترجمہ ارجمند آرا نے کیا ہے اور یہ رسالہ ”آج“ 104 میں شائع ہوئی ہیں۔ ان کے اس سے پہلے بھی کئی تراجم قاری تک میسر ہیں۔ ترجمہ نگاری پر ان کو خاص گرفت ہے۔ ایک ایسے خطہ کی کہانیاں جہاں جنگ اپنے نجس قدم گاڑ چکی ہے، ایک ایسا خطہ جہاں خاک اور خون آپس میں مل کر ایک ہو چکے ہیں، زندگی اور موت کی سفاکیاں آپس میں ہم آغوش ہوچکے ہیں۔ رومان اور تخیل کی کسی بھی قسم کی کوئی گنجائش نہ ہے۔

جنگ شروع کرنا آسان ہوتا ہے اس کے بر عکس اس کو نقطہ انجام تک پہنچانا بہت مشکل بلکہ کئی نسلوں کو اس کا قرض ادا کرنا پڑتا ہے۔ جنگ کے اثرات ایک لمبے عرصے کے لیے ہوتے ہیں۔ متاثرین کے علاوہ حکمران طبقہ ان اثرات کا اندازہ لگانے سے قاصرہوتا ہے۔ ادیب اپنے معاشرے کا حساس ترین طبقہ ہوتا ہے اور معاشرے میں پڑنے والے اثرات کو وہ اپنے قلم کے ذریعہ سے بیان کرتا جاتا ہے مگر افسوس کہ اس موقع پر بھی اس کے قلم کی آواز دبا جاتی ہے۔ حسن بلاسم کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا اور جلاوطن ہو کر غریب وطن ہونا پڑا۔ جس کا اندازہ قاری کو ان کی کہانیوں کا مطالعہ کرکے ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کس کرب اور تکلیف میں گزار رہے ہیں۔ ایک بہترین مترجم کی حیثیت سے ارجمند آرا نے وہ تمام لوازمات زیر غور رکھے ہیں، جن کا متقاضی فن پارہ ہوتا ہے۔

”لاش کی نمائش“ ایک ایسے عراقی کے کردار کا آئینہ ہے جو کہ کرائے کا قاتل ہے جنگ اس کے ذہن میں سرایت کر چکی ہے۔ وہ ایک اور عراقی کو قتل کی تربیت دے رہا ہے، قتل کی عجیب و غریب داستانیں سنا کر خنجر کے نہ لرزنے کا عندیہ دیتا ہے۔ وہ اپنے فن میں جس قدر ماہر ہو گا اس کی اہمیت اس قدر زیادہ ہو گی۔ آخر میں اس شخص کت پیٹ میں خنجر گھونپ کر اسے نہ لرزنے کا ہنر عطا کرتا ہے

”اوہ میرے رفیق! اجل سے بھی زیادہ عجیب ہے اس دنیا کو دیکھنا جو تم کو دیکھ رہی ہو، حرکت کیے بغیر، کچھ بھی سوچے بغیر بلکہ بلا مقصد، خاموشی اورتنہائی کی مانند ”

”قاتل اور قطب نما“ ایک ایسے فرد کی کہانی ہے جو کہ عراق، کویت کی جنگ کے بعد قائم ہونے والی حکومت کا ساتھ دینے کی بجائے حکومتی کارندوں کو موت کے گھاٹ اتارتا ہے۔ اس کہانی کے اندر ایسے کردار بھی سامنے آتے ہیں جن کو جہاد کی تربیت دے کر اپنے عزائم کی تکمیل کرواتے ہیں۔ ان میں شامل ایک پاکستانی بچہ بھی ہے جو کہ اپنے سہانے خواب جن میں جنت کا حصول اور حوروں کاملاپ شامل ہے کہ تحت عراق میں جہاد کروایا جاتا ہے۔ تب اس کے اپنے جہادی ساتھی اس کا ریپ کرتے ہیں۔ اس کے پاس موجود قطب نما جس کے بارے میں مشہور ہے کہ جس کے پاس یہ قطب نما ہو گا وہ اللہ کا محبوب بندہ ہو گا، سرخ ہو جاتا ہے اس کہانی کا انجام ایک حکومتی رکن کے قتل سے ہوتا ہے :

”ابو حدید نے کان میں سرگوشی کی کہ :اب تم خدا ہو گئے“

”گرین زون کا خرگوش“ بھی ایسے ہی دو نوجوانوں کی کہانی ہے یہ بھی پیشہ ور قاتل ہوتے ہیں۔ ان کو حکومتی ارکان کو قتل کرنے کا عوضانہ دیا جاتا ہے اور کام ختم کرنے کے بعد ان کا اپنا کا م تما م کر دیا جاتا ہے۔ فوج میں جبری بھرتیاں، مسلکی بنیادوں پر ایک دوسرے کا قتل عام، کساد بازاری اور عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی جیسے مسائل کو اس کہانی میں بیان کیا گیا ہے :

”میری پشت کی جانب دھماکہ ہوا اور کار نے آگ پکڑ لی جس میں خرگوش اور صلصال دونوں جل کر راکھ ہو گئے ”

”ایک فوجی اخبار“ اخبار کے اندر کام کرنے والے کی کہانی ہے اخبار کا مدیر میدان جنگ سے آنے والی کہانیوں کو اپنے نام کے ساتھ شائع کرتا ہے۔ ان کہانیوں کی مقبولیت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ ایک کہانی پر اس کو اعلی ترین ادبی ایوارڈ کے لیے منتخب کر لیا جاتا ہے۔ یہ ایک استعارتی کہانی ہے کیونکہ اس کے اندر بیان ہونے والے فوجیوں کے جذبات اور ان کی نامکمل خواہشات کا ان کے ساتھ ہی دفن ہو جانا، ماؤں کا اپنے جوان بیٹوں کے لیے چھاتیاں پیٹنا، جوان عورتوں کا اپنے شوہروں کے لیے انتظار کی سولی پر لٹکنا، یہ سب ایک نہ بجھنے والی بھٹی کا ایندھن ہیں۔ ایک ایسی بھٹی کہ جس کی آگ لوگوں کے جذبات ہیں

”جنگ تھم گئی یور آنر، لیکن ایک نئی جنگ پھوٹ پڑی واحد متبادل جو میرے پاس بچا تھا بھٹی کی آگ کا تھا مگر یہ کہانیاں ختم ہونے کا نام نہ لے رہی تھی ”

”کراس ورڈز“ ایک معمہ ساز کی کہانی ہے جو ایک اخبار میں کام کرتا ہے، وہ اپنے علاقے کے بچوں کے مشاغل بیان کرتا ہے جو کہ جنگ زدہ عراق کے ہر علاقہ کی کہانی ہے۔ ان بچوں کا واحد مشغلہ مرنے والوں کی میتیں لے کر آنے والی گاڑی کا تعاقب کرنا ہوتا ہے، مرنے والوں کے لواحقین کا ماتم و نوحہ کنا ں۔ جنگ کے بعد کا ماحول کس قدر بے چین کر دینے والا ہوتاہے۔ ایک طویل شورو غوغے کے بعد مکمل خاموشی لیکن مسلسل دماغ کو پریشان کرنے والا اندرونی طوفان

”خندق“ کا کردار دماغی طورپر تکلیف زدہ کردار ہے جو کہ جنگ سے ہلاک ہونے لوگوں کی لاشیں اٹھا اٹھا کر اس قدر مانوس ہو چکا ہے کہ اس کے لیے یہ ایک معمول کا کام لگتا ہے۔ لاش کا کھانا ایک استعارہ ہے کہ جس کے اندر اس طرف اشارہ کیا جاتا ہے کہ ہلاکتیں اس قدر ہو چکیں ہیں اب لشوں کو دفنانے کی جگہ نہ ہے اور گدھ ان لاشوں کو نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں جو کہ اس جنگ کے گڑھے میں گرائے گئے تھے، حکمران طبقہ نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے عام عوام کو اس جنگ کا ایندھن بنایا، اب یہ سب معمول کی بات لگتی ہے

”یہ معمول کی بات ہے اور پھر وہ رینگتا ہوا بوڑھے آدمی کی لاش کی جانب بڑھ گیا“

”حریت چوک کا مجنوں“ کہ جس کے اندر جنگ کے بعد اسلام پرست حکومت کا مجسموں کے خلاف کریک ڈاؤن اورایسے لوگوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنا بیان کیا گیا ہے جو کہ حکومتی اراکین کی نگاہ میں کافر ہیں۔ ظلمت بستی کا یہ مجنوں ان مجسموں کی حفاظت پرمامور ہے جسے اسلام پسند حکومت نے کفر کا فتوی لگا کر گرانے کا حکم دیا ہے اور آخر میں اس مجنوں کو خودکش حملہ آور کے روپ میں دکھایا گیا ہے جو کہ معصوم لوگوں کی جان لینے پرمجبورہے

”عراقی مسیح“ ایک غیر مسلم دانیال مسیح کی کہانی ہے وہ جنگ کے دوران ڈکٹیٹر کے لیے کام کرتا ہے، پوری فوج کے لیے وہ نیک شگون ہے اس کہانی کا انجام بھی المیاتی ہے کیوں کہ اس نوجوان کو اسلحہ کے زور پر خودکش جیکٹ پہنا دی جاتی ہے اور ایک کیفے کو اڑوا دیا جاتا ہے اپنی ماں سے محبت، دوسرے مذاہب سے محبت، ملک سے وفاداری یہ سب اس کی خصوصیات ہیں اور رواداری کا درس دیتی ہے۔

”ایک ہزار ایک چاقو“ ایک مکمل استعاراتی کہانی ہے۔ کہانی کے ہیرو کو اپنے ملک میں امن و محبت کی تلاش ہے۔ چاقو دراصل ملک عراق کے اندر پھیلی دہشت گردی اور بد امنی کا استعارہ ہیں کہانی کے اندر آنے والے کردار مکمل طور پر عراقی شہریوں کے عکاس ہیں جو کہ اس فرقہ وارانہ فسادات اور نام نہاد جہادی دہشت گردی سے بیزار اور اکتا چکے ہیں۔ امن وآشتی کے داعی یہ لوگ حکومتی اراکین سے بھی متنفرہیں۔ جنگ کا نقطہ آغاز معلوم ہوتا ہے مگر انجام سے سب ہی بے خبر ہوتے ہیں۔ جنگ کو عرصہ کے دوران جس کا بھی زور ہوتا ہے وہ اپنے تیئں خدا بن بیٹھتا ہے لوگ ایک دوسرے پر کفر کا فتوی لگا کر قتل عام کرتے چلے جاتے ہیں

”خدا ایک ایسی تلوار ہے جو لوگوں کے سر کاٹنے اور ان کو کافر قرار دینے کے کام آتا ہے“

نسل در نسل جنگ کے اثرات سامنے آتے ہیں۔ کہانی کے انجام میں آنے والا چھاٹا جعفر ایک نئی نسل کا نمائیندہ ہے۔ مگر چاقو سے کھیلنے کا فن اس کے اندر بھی سرایت کر گیا ہے اور وہ بھی اپنی قوم کی آزادی کے لیے سامنے آتا ہے

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>