عدالت ہے یا کوئی مندر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن سے ایک خواب تھا کے میرے نام کے ساتھ بیرسٹر لکھا ہو، انٹرمیڈییٹ کے بعد اپنی اس خواہش کا اظہار گھر میں کیا تو ابو جان نے کہا کہ وکالت نہیں پڑھو گی، اس میں بہت سے خطرات لاحق رہتے ہیں، کسی اور پروفیشن کا انتخاب کرو اپنے لیے۔

جان تو کہیں بھی جا سکتی ہے، میری موت اس سے منسلک تو نہیں، اس نے جہاں آنا ہے، آ کے رہنا، پتا نہیں کیسے خطرات اور کیوں اتنا ڈرتے یہ سب۔۔۔۔ پھر بی اے کیا اور یونیورسٹی میں ایڈمیشن تک یہی بات سوچتی تھی اب مجھے پرمیشن مل جائے اور میں قانون پڑھوں، بھائی کی خواہش پر میڈیا میں ایڈمیشن، میڈیا میں رہنے کے لیے نیوز سے وابستگی ضروری تھی، نیوز سے دل لگایا تو ایک بات کا بخوبی اندازہ ہو گیا کہ سیاست کو چمکانے کے لیے عدالت، اور عدالتی سانس رواں رکھنے کے لیے سیاسی ہلچل بہت ضروری ہے ۔۔۔ اب یہ معلوم نہیں کہ کس کو کس سے کتنا فائدہ ہوا لیکن میرے لیے اتنا کافی ہے کہ پچھلے چند سالوں سے جس کنفیوژن کا شکار تھی ان سے باہر تو آئی کہ ایسے کون سے خطرات ہیں جس بنا پر میں قانون نہیں پڑھ سکتی، اب سمجھ آئی وہ جان کا خطرہ نہیں تھا، ایمان کا تھا جو چند نوٹوں کی خوشبو سے کسی بھی وقت ڈگمگا سکتا ہے،

اور جب کوئی ادارہ یا قانون اپنی موت خود مارا جا چکا ہو، تو مردے سے زندہ جان کو کیسا خطرہ، ان اداروں کی موت کو اتنا وقت گزر چکا کہ گوشت پوست سب درندوں نے نوچ کر کھا لیا ہے، باقی بچنے والا ڈھانچہ بھی اندر سے کھوکھلا اور اپنی ساخت کھو چکا ہے، جسے نہ تو اب کسی وینٹیلیٹر پر رکھ کر بجلی کے جھٹکوں سے زندہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی کاریگر سے مرمت کروایا جا سکتا ہے، اس کی خستہ خالی ایسی ہے کہ کسی قیمتی نوادرات کی طرح اس کے بچے کچھے ملبے کو سمیٹ کر میوزیم میں رکھ دیا جائے،

عدالتوں کی موجودہ حالت اب مندروں جیسی ہے جہاں پر غریب اور مظلوم رکھی ہوئی مورتیوں کے سامنے اپنی فریاد لے کر جاتے ہیں اور money box میں اپنی جمع پونجی ڈال کر خالی ہاتھ اس امید پر لوٹ گھر لوٹتے ہیں کہ اگلی حاضری تک شاید کوئی معجزہ ہو اور مورتی میں جان آ جائے، اور انصاف کی آواز کہیں سے بلند ہو جائے، مگر انصاف کا متلاشی انسان کیا جانے کہ مندوں میں کالی اور نحوست زدہ چمگادڑوں کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ اور گھنٹیوں کے سوا کوئی اور آواز نہیں گونج سکتی، جب تک ان چمگادڑوں کو پالتو جانور کی طرح پالا جاتا رہے گا تب تک مظلوم کے لیے پھڑپھڑاہٹ کی آواز اس کے کانوں کے پردوں کو پھاڑ دے گی اور امیر کے کانوں میں مندر کی گھنٹیاں رس ۔گھولتی رہیں گی، پھر بھی لوگ قطار در قطار آتے رہیں گے اور مورتیاں ہمیشہ کے لیے بے جان رہیں گی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
مقدس ناز کی دیگر تحریریں
مقدس ناز کی دیگر تحریریں