بدقسمتی تو دیکھیں !

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارت میں عام انتخابات کا مرحلہ وار آغاز ہوچکا ہے تقریباً نوے کروڑ سے زائد رجسٹرڈ وٹرز ہیں اور اکیس مئی کو عام انتخابات سات مرحلے طے کرکے مکمل ہوگا۔ تئیس مئی کو حتمی نتائج سامنے آئے گے۔ دنیا کی تاریخ میں یہ سب سے بڑا انتخاب ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان نے بیان دیا کہ اگر بی جے پی جیت جاتی ہے تو امید ہے کہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حوالے سے کوئی بات چیت ہوسکے۔

وزیراعظم عمران خان کا بیان سرحد کے دونوں طرف اہل علم کے لیے حیران کن تھا کیونکہ بھارتی جنتاپارٹی کی ساری الیکشن کمپین پاکستان مخالف تھی۔ بھارتی وزیراعظم اپنے ہر جلسے میں یہی راگ الا پتے رہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ بھارت، پاکستان کے اندر گھس کر دہشت گردوں کو مارے تو بھارتی جنتا پارٹی کو ووٹ دو۔ ایسے میں پاکستانی وزیراعظم کا بیان بی جے پی کی فیور میں آنا، بدقسمتی نہیں تو کیا ہے۔

یہ بدقسمتی کیسے ہے؟

بھارتی جنتا پارٹی دائیں بازو کی جماعت ہے.

اس پارٹی کے کچھ پریشر گروپس ہیں، ہندو انتہا پسندوں کے گروپس ان کے ساتھ ہیں جس کو بی جے پی ہمیشہ اپنے سیاسی مقاصد اور مسلمانوں کے خلاف استعمال کرتی ہے۔ دوسری جانب کانگریس بائیں بازو کی جماعت ہے۔ ان دونوں سیاسی جماعتوں کے دور حکومتوں کی بات کریں، تو پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکر ات کانگریس کی بجائے بی جے پی کے دور حکومت میں زیادہ آگے بڑھے، یہی تو بدقسمتی ہے، اگر تاریخ پہ نظر دوڑائیں تو بی جے پی کے دور حکومت میں بھارتی وزراعظم نے پاکستانی ہم منصبوں سے نہ صرف مذاکرات کیے بلکہ پاکستان کے دورے بھی کیے۔

سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے فروری 1999 میں دہلی سے لاہور تک سفر بس سے کیا اور حالات بڑے نارمل تھے پھر چند مہینوں کے بعد کارگل کا واقع ہوگیا اور سرحد کی دونوں طرف ٹینشن بڑھ گئیں۔ اور پھر اس واقع کے بعد پاکستان کے اندرونی حالات خراب ہوگئے اور ملک کا سربراہ جنرل پرویز مشرف بن گیا۔

اپریل دو ہزارہ دو میں کھٹمنڈو میں ہونے والی سارک سمٹ میں سابق صدر پاکستان نے واجپائی سے اپنی تقریر کے بعد ہاتھ ملایا اور حالات پھر کچھ بہتری کی جانب بڑھے۔ بھارتی وزیراعظم واجپائی نے 2004 میں پاکستان کا دورہ کیا اور پرویز مشرف سے ملاقات ہوئی۔ گوکہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ملاقاتیں ہوئیں، کوئی بڑی پیشرفت نہ ہوسکی۔

لیکن! بھارتی وزیر اعظم کے تقریباً پانچ سالوں میں دو دوروں کے دوران کوئی خاص تنقید نہ ہوئی، کیونکہ بنیادی وجہ یہ تھی، کہ دونوں ملکوں کی اسٹیبلیشمنٹ اور پریشر گروپس کی من مرضی سے یہ دورے ہوئے۔ بدقسمتی تو دیکھیں، کہ ایک طرف بھارتی وزیراعظم واجپائی اور اعلی حکام ملاقاتیں کررہے تھے تو دوسری طرف موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی اُس وقت بھارتی صوبہ گجرات کے وزیراعلی تھے اور ہندو مسلم فساد برپا ہوگئے، اور دو ہزار سے زائد مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔ خیر! 2004 سے لے کر 2014 تک کانگریس اور اتحادیوں کی حکومت رہی۔ دونوں ملکوں کے سربراہان کی ملاقاتیں ہوئیں۔ جب بھی کوئی مثبت پیش رفت ہونے لگتی تو بی جے پی اور دیگر انتہاپسند تنظیمیں حالات خراب کردیتیں۔

کانگریس کے دور حکومت میں ممبئی اٹیک ہوا، جس کے بعد ٹینشن اور بڑھ گئیں، یہاں تک کھیل، تجارت وغیرہ کے دروازے بند ہوگئے۔ وقت کے ساتھ کے ساتھ سر حدوں کے دونوں طرف تناؤ کم ہوا۔ لیکن نہ ہونے کے برابر تھا۔ 2014 میں بھارتی چناؤ میں بے جے پی کی حکومت بنی اور گجرات کا قصائی وزیر اعظم بن گیا، سابق وزیراعظم نواز شریف کو اپنی تقریب حلف برادری میں دعوت دی۔ ایک امید قائم ہوئی کہ شاید مسئلہ کشمیر کا کوئی پرامن حل نکل سکے گا۔

اس وقت بھی کچھ اہل عقل نے کہا کہ مودی اپنی مسلم مخالف نفرت اور دشمنی کو کم نہیں کرے گا۔ وہی ہوا، جس کا ڈر تھا۔ اپنی آزادی کا حق مانگنے والے کشمیریوں پر گزشتہ چار دہایوں سے ظلم ہورہا ہے۔ لیکن جومودی کے دور حکومت میں ہوا اس کی نظیر نہیں ملتی۔ معصوم بچوں کی بینائی چھینی گئی، پائلٹ گنز سے سیینکڑوں شہادتیں ہوئیں، ہزاروں کشمیری مردوخواتین کو زندگی بھر کے لئے اپاہج کیا گیا۔

اس سب کے باوجود وزیر عمران خان کا بیان صرف بدقسمتی ہے۔ اس بیان کا بھارتی الیکشن اور سیاست پہ بہت گہرا اثر پڑا ہے۔ کیونکہ بھارتی ہندوں کا ایک طبقہ کانگریس کو پاکستان کی آئی ایس آئی کا ایجنٹ سمجھتا ہے۔ اس بیان کے بعد کانگریس بھی بی جے پی کو لتاڑ رہی ہے۔ کشمیری عوام کسی صورت مودی کو دوبارہ وزیراعظم نہیں دیکھنا چاہتی۔ چاہے مسئلہ کشمیر حل ہو یا نہ۔
آخر میں یہی کہوں گا، قدرت کشمیریوں کو مودی کے رحم وکرم پہ چھوڑنے سے بچائے !

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>