ایفیڈرین اور ذہنی مریض
گزشتہ شب اپنے ایک پیارے دوست اور کولیگ کے ساتھ ڈاکٹر صاحب سے مشورے کے سلسلہ میں جانا ہوا۔ ڈاکٹر صاحب جنرل فزیشن کے ساتھ سائیکاٹرسٹ بھی ہیں۔ چیک اپ کے بعد گپ شپ میں ڈاکٹر صاحب نے میری گزشتہ لکھی ہوئی تحریر کا ذکر کیا اور ساتھ میں درخواست کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا لکھنے سے تعلق ہے۔ تو ایک موضوع میرے مطابق بھی لکھ دیں۔ شاید کہیں حکومتی سطح پہ کوئی شنوائی ہوجائے اور مریضوں کا فائدہ ہو جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی سیاست اپنی جگہ خاص اہمیت رکھتی ہے۔ چونکہ وہ بھی جمہوریت پسند اور ترقی پسند سوچ کے حامل انسان ہیں۔ اس لئے سیاست کو پسند بھی کرتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان کا کہنا تھا کہ فائدے کی چیزوں پہ سیاست کی چھاپ چڑھا کے انسانوں کو کیوں تکلیف دی جائے۔ اس ملک میں پہلے ہی عام انسان درجنوں مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ جس میں اس کی بنیاری ضروریات زندگی سے لے اس کے بچوں کے محفوظ مستقبل تک کے کئی طرح کے مسائل ہیں۔ اور دن بدن اس کی حالت پتلی ہوتی جا رہی ہے۔
اصل موضوع یہ ہے کہ حنیف عباسی اور مونس الہٰی کے حوالہ سے ایک کیس ایفیڈرین جانا جاتا ہے۔ اور اس کیس کی زد میں حنیف عباسی کو الیکشن 2018 لڑنے سے بھی ہاتھ دھونا پڑا تھا۔ لیکن جو ہاتھ اس کے بعد ان مریضوں سے ہو رہا ہے۔ جنہیں اس سالٹ کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی خطرناک ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے ایک مریض کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مرگی کے مریض کا تین سال کا مکمل کورس ہوتا ہے۔ اور اگر اس کو استعمال کروائی جانے والی دوا میں ناغہ آجائے تو ساری محنت رائیگاں چلی جاتی ہے۔
جہاں مریض کے ساتھ اس کے معالج کوبھی کوفت اٹھانا پڑتی ہے۔ ایفیڈرین والے معاملہ کے بعد اب اس پہ درآمدی کوٹہ مختص کر دیا گیا ہے۔ جس کا نتیجہ اس کی کم مقدار کی صورت میں نکلاہے۔ لہٰذا کم مقدار کی موجودگی سے تمام ایسے مریض جواس سے تیار کی گئی ادویات مختلف ناموں سے استعمال کرتے ہیں۔ انہیں بہت تکلیف کا سامناہے۔ کم مقدار میں ہونے کی وجہ سے تمام مریض متاثر ہو رہے ہیں۔ جو بہت خطرناک صورت حال ہے۔
اگر اس بابت حکومت توجہ نہیں دیتی تو مرگی اور اس سے متعلقہ بیماریوں میں گھرے لوگ مزید تکالیف اٹھائیں گے۔ ریاست تو ماں کے جیسی ہوتی ہے۔ پھر اس ماں کو اپنے بچوں کے مسائل کی سمجھ کیوں نہیں آتی ہے اور ان کی تکالیف پہ ترس کیوں نہیں آتا ہے۔ ڈالرکی پرواز کے چکر میں ادویات ساز کمپنیوں نے چندہی دنوں میں قیمتوں کو ایک ماہ میں دو سے تین بار اضافہ کیاتھا۔ اور دنوں میں ہی ان کمپنیوں نے بے تحاشا منافع اپنے نام کر لیاتھا۔
شکر ہے حکومتی عہدیداروں کو خیال آگیا اورچھاپوں کا ایک سلسلہ شروع ہوتے ہی ادویات ساز کمپنیوں کی سرزنش بھی ہوئی اور اضافی قیمتوں والی ادویات کو حکومت نے قبضہ میں بھی لے لیا ہے۔ یہ تو اچھی خبر ہے۔ لیکن اور بھی دکھ زمانے میں اس کے سوا، اب اس جانب توجہ مبذول ہونا ضروری ہے۔ تا کہ ذہنی اذیت میں مبتلا مریض جو پہلے ہی شدید تکلیف کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔ انہیں مزید پریشانی سے بچایا جا سکے۔ ایک عام مریض جو کسی جسمانی بیماری میں مبتلا ہو تو اس کی بیماری اور تکلیف اس انسان تک ہی رہتی ہے۔ جب کہ ذہنی مریض نہ صرف خود مصیبت میں ہوتا ہے، بلکہ سارا گھرانہ اس کی وجہ سے اذیت میں مبتلا رہتا ہے۔
ایک خاص طبقہ کی حرکت کا خمیازہ دوسرا عام طبقہ بھگتنے پہ مجبور ہو گیا ہے۔ ان اہم شخصیات کے تو شاید سیاسی کیرئیر کو ہی نقصان پہنچے، جب کہ دوسروں کو اپنی نارمل زندگی میں آنے میں بہت انتظار کرنا پڑے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ادویات کی مناسب مقدار نہ ملنے یا اس کی کمیابی کی وجہ سے اپنی زندگی سے ہی ہاتھ دھونا پڑیں۔


