شاعر کا رکشہ اور ادھار کا کفن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا دوست کراچی کے ایک دلخراش منظر کی منظر کشی کر رہا تھا۔ علامہ اقبال کی کتاب “علم اقتصاد ” کے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے تھے۔ علامہ اقبال نے معیشت پر تحریر کردہ اپنی کتاب “علم اقتصاد” میں فرمایا تھا کہ “غریبی قویٰ انسانی پر بہت برا اثر ڈالتی ہے۔ بلکہ بسا اوقات انسانی روح کے مجلا آئینہ کو اس قدر زنگ آلود کر دیتی ہے کہ اخلاقی اور تمدنی لحاظ سے اس کا وجود و عدم برابر ہو جاتا ہے۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ گلی کوچوں میں چپکے چپکے کراہنے والوں کی دلخراش صدائیں ہمیشہ کے لئے خاموش ہو جائیں۔ اور ایک درد مند دل کو ہلا دینے والے افلاس کا درد ناک نظارہ ہمیشہ کے لئے صفحہ عالم سے حرف غلط کی طرح مٹ جائیں” میرے منہ سے دفعتاً نکلا کاش ایسا ہو جائے۔ تو سامنے بیٹھا میرا دوست جو کراچی کا مقیم تھا اور میری اس کی ملاقات زمانہ طالبعلمی کے بعد اب ہو رہی تھی چونک اٹھا اور بولا کیا ہو جائیں۔

میں نے بات کا رخ موڑتے ہوئے اس سے واقعہ کے بیان بلکہ مکمل کرنے کا مطالبہ داغ دیا۔ بیان وہ یہ کہ رہا تھا کہ آج سے کچھ عرصہ قبل رات کے وقت کراچی میں میری گاڑی نے دوران سفر اچانک جواب دے دیا۔ تمام حربے آزمائے مگر بے سود۔ میرے ساتھ میرا پالتو کتا جو میرے بیٹے کے ہاتھوں میں تھا موجود تھا۔ نا چار گاڑی کو وہی چھوڑا اور رکشہ تلاش کرنے لگا۔ چند منٹوں کے وقفے کے بعد ایک سمت سے رکشہ آتا دکھائی دیا۔ اشارہ دیا رکشہ رکا منزل بتائی کرایہ طے ہوا اور ہم رکشہ میں سوار ہو گئے۔ لیکن میں رکشہ والے سے چند لمحوں کی گفتگو میں ہی محسوس کر رہا تھا کہ آواز جانی پہچانی اور صورت شناسا معلوم ہو رہی ہے۔ آخر یہ کون ہے؟ یاد داشت پر زور دیتا رہا لیکن جواب ندارد۔ یہاں تک کہ ہم سہراب گوٹھ کے علاقے سے گزر رہے تھے کہ رکشہ میں فیول ختم ہونے کے آثار نمودار ہونا شروع ہو گئے۔

پٹرول پمپ کی روشنیاں کچھ دور ہی جگمگا رہی تھیں کہ رکشہ والے نے کہا کہ آپ کوئی اور رکشہ کر لیں۔ میرے رکشے میں پٹرول ختم ہو گیا ہے۔ میں بولا تو بھائی پٹرول پمپ سامنے ہے پٹرول بھروا لو۔ رکشہ والا بولا یہاں سے نہیں بھروا سکتا۔ لیکن آخر کیوں؟ بس ! میں رکشے سے نیچے اتر آیا اور بحث کرنے لگا کہ رکشہ والے کے آنسوﺅں کی چمک چاندنی میں چمکتی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ میں ٹھٹک گیا اور پہچان بھی گیا۔یہ تو ، یہ تو ، اردو کے معروف شاعر ہیں (بوجوہ شاعر کا اسم گرامی تحریر نہیں کر رہا)۔ سادات گھرانے کے معزز فرد کہ جن کے کلام سے محشر بپا ہو جاتا ہے۔ یہ رکشہ چلا رہے ہیں؟ ششدر رہ گیا۔ استفسار پر فرمانے لگے ۔ ادب کی قدر ناپید ہوئی اور بھلا مزدوری میں کیا عار۔ آپ رکشہ چلانے پر دم بخود ہے۔ میں ہوٹلوں میں بیرہ گری، پانی اور لیمن کی بوتلیں بھی بیچتا رہا ہوں۔ مونگ پھلیاں بیچی۔ رنگ و روغن کے کام سے وابستہ رہا۔ فن کی ناقدری سہی لیکن رزق حلال کے حصول کو عین عبادت سمجھا کہ جیسے بھی حاصل ہو۔

میں بت بنا کھڑا تھا کہ یکدم خیال آیا کہ آخر یہ اس پٹرول پمپ سے پٹرول لینے سے کیوں گریزاں ہے۔ سوال کر ڈالا کہنے لگے کہ آپ کو دیر ہو رہی ہے کوئی اور سواری تلاش کر لیں۔ اور منزل کی جانب روانہ ہوں۔ صاف محسوس ہو رہا تھا کہ جواب دینے سے اجتناب کر رہے ہیں۔ میں نے گمان کیا کہ شاید کبھی اس پٹرول پمپ پر کوئی بدمزگی ہو گئی ہو گی کہ جس کی تلخی ابھی باقی ہے۔ میرے اصرار پر کہ ماجرا کیا ہے ان کے آنسوﺅں کی جھڑی لگ گئی۔ کہ بیٹے کی قبر پر رکشہ کیسے دوڑا دوں۔ کیا مطلب؟ بولے عرصہ ہوا یہاں پٹرول پمپ کی جگہ معصوم بچوں کا قبرستان واقع تھا ۔ میرا بیٹا مرض کا شکار ہوا۔ جہاں ایک وقت کی روٹی پر سوالیہ نشان ہو۔ وہاں دوا دارو کی توقع عبث۔ بیٹا داغ مفارقت دے گیا۔

دوائی کے واسطے ” سرمایہ” نہیں تو کفن کے لئے کہاں سے ہوتا۔ کفن کے واسطے ادھار لیا اور اپنے ہاتھوں سے اپنے بیٹے کی قبر تیار کی کہ گورکن کہاں سے آتا۔ اور اپنا سب کچھ تہہ خاک خود ہی چھپا ڈالا۔ آنسوﺅں کی جھڑی میری بھی لگ چکی تھی۔ ادھار کا کفن ۔ میرے بیٹے نے یکدم اپنے ہاتھوں میں چھوٹے سے کتے کو جنبش دی اور فیڈر اس کے منہ کو لگا دیا۔ روتے روتے طنزیہ مسکراہٹ ان کے چہرے پر رقس کرنے لگی۔ بولے آپ نے اتنا پوچھا، سنا، کہا ۔ کسی شاعر کا شعر بھی سماعت کر لیں۔ دوسرا رکشہ ہمارے برابر آ کھڑا موجود ہوا تھا۔ میں اس میں سوار ہونے لگا تو کہا ارشاد۔ میرے بیٹے کے ہاتھوں میں کھیلتے کتے کو دیکھتے ہوئے شعر پڑھا۔ ” تیرے کتوں کو جو میسر ہے ، میرے بچوں کا خواب ہے ساقی”

اب برداشت جواب دے چکی تھی۔ دوسرے رکشے والے کواشارہ کیا اور ان کی آنکھوں سے راہ فرار اختیار کر ڈالا۔ یہ سب بیان کرتے ہوئے میرے دوست کے چہرے پر کرب طوفان کی مانند موجود تھا کہ وطن عزیز میں بنیادی ضرورتوں کی ذمہ داری ریاست کب اپنی ذمہ داری تصور کرے گی۔ یہ درست ہے کہ پاکستان کے حالات سر دست اس قابل نہیں کہ یکدم سب حاصل ہو جائے لیکن اس سمت اقدامات کو برقی رفتار سے اٹھانے چاہیے۔ کینتھ گالبریتھ ہارورڈ یونیورسٹی میں اقتصادیات کے پروفیسر تھے۔ بھارت میں امریکہ کے سفیر رہے اور اس دوران بھارت کی یونیورسٹیوں میں اقتصادی ترقی کے حوالے سے پانچ لیکچر دیئے۔ یہ آزادی کی دوسری دہائی کا ذکر ہے۔ انہوں نے پاکستان اور بھارت کی اقتصادی ترقی کے لئے کچھ اصول بیان کیے تھے۔ جو آج پہلے سے زیادہ اہمیت رکھتے تھے۔

پروفیسر گالبریتھ نے اپنے لیکچروں میں کہا تھا کہ ترقی کے لئے صرف سرمایہ اور تربیت یافتہ کارکنوں کی موجودگی ہی کافی نہیں ہوتی۔ بلکہ اس سے قبل مضبوط انتظامیہ ، تعلیم عامہ اور ایک متوازن عدل پرور نظام کی موجودگی امر لازم ہے۔ بد قسمتی سے انتظامیہ کو آزادی کے بعد سے تھری ناٹ تھری سے شکار ہی کرتے رہے مگر ایسی انتظامیہ کی تشکیل کے واسطے جو حکمران اشرافیہ کی بجائے عوام کے لئے قائم ہو، کچھ نہیں ہوا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ فرسودہ قوانین کی جگہ ایسے قوانین متعارف کروا دیئے جائیں جو کہ انتظامیہ کو غیر قانونی اثر و رسوخ سے محفوظ رکھتے ہوئے قانون کا پابند کر ڈالے۔ ایک ایسا ملغوبہ جس میں منتخب نمائندے اور سرکاری انتظامیہ ایک دوسرے کے دست و بازو ہوں نہ کہ پچھاڑنے کی تراکیب تلاش کر رہے ہوں۔

تعلیم اور ایسی تعلیم جو عصر حاضر کی معاشی ضرورتوں کو پورا کر ڈالے جب تک معاشرے میں موجود نہیں ہو گی۔ اس وقت تک سماجی ترقی کا خواب صرف خواب ہی رہے گا۔ پروفیسر شولتز شگاگو یونیورسٹی میں پروفیسر تھے انہوں نے امریکہ کی گذشتہ صدی کے ابتدائی پچاس سالوں میں اقتصادی ترقی کی تاریخ کا جائزہ لیا تھا اور نتیجہ یہ دیا تھا کہ گذشتہ پچاس سالوں میں جو معاشی ترقی ہوئی ہے وہ زیادہ تر تعلیمی ترقی کی مرہون منت ہے۔ مگر ہمارے ہاں حالت یہ ہے کہ 1957ء میں تعلیم پر بجٹ کا 4 فیصد خرچ ہوتا تھا مگر اب؟

متوازن اور عدل پرور نظام کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی اور اقتصادی طاقت بالکل واضح ہو۔ ان دیکھی یا آئین سے ماورا حکومت کا تصور بھی قائم نہ ہو سکے۔ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو لازم ہے کہ اپنے دائرہ اختیار میں کم از کم موثر انتظامیہ کے لئے قانون سازی ہی کر ڈالے۔ ورنہ چپکے چپکے دلخراش صدائیں کبھی خاموش نہ ہونگی۔ اور ہمارے بچے ادھار کے کفن کے محتاج رہیں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان بچوں کو اپنا سمجھتے بھی ہیں کہ نہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •