بیساکھی: پنجاب کا سب سے بڑا موسمی تہوار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 21
  •  

یہ کتنی دلکش بات ہے کہ پنجاب کے جتنے بھی قومی تہوار ہیں سب کے سب خوشیوں اور شادمانیوں کے تہوار اور ثقافتی رنگوں سے لبریز ہیں۔ خوبصورت اور زرخیز پنجاب کے یہ حق ہے کہ اس کے ”لوہڑی“ یا ”بسنت“ یا پھر ”بیساکھی“ سب کے سب خوبصورت اور رنگین تہوار ہوں۔

پنجاب میں جس طرح سے کماند /گنے کی فصل اٹھاتے وقت لوہڑی کا تہوار منایا جاتا ہے اسی طرح پنجاب کی زمینوں میں جب گندم کا فصل پک کر سونا بن جاتا ہے اور فصل کی پہلی کٹائی شروع ہوتی ہے تب جو جشن منایا جاتا ہے اسے ”بیساکھی“ کہتے ہیں۔

”بیساکھی“ اصل میں رب کی شکریہ ادائیگی اور بہترین فصل کی صورت میں اس کے احسانات پر جشن کا دن ہے، پنجاب میں بسنے والے سب پنجابی کئی صدیوں سے یہ دن 13 یا 14 اپریل کو مناتے آئے ہیں۔ یہ دن رب کے آگے شکریہ ادائیگی کا دن اور ساتھ ہی جشن اور بھنگڑے کا دن ہوتا ہے۔

مسلمان اس دن مساجد میں جاکر شکرانے کی نمازیں ادا کرتے، سکھ صبح کو نہروں اور گردواروں کے تالاب میں نہا کر پاکی کر کے گردواروں میں عبادت کرتے، ہندو مندروں میں سر ٹیکتے اور عیسائی گرجا گھروں میں جا کر عبادت کرتے۔ پہلے سب کے سب پنجابی لوگ بھلے الگ الگ مذہبی رسومات ادا کرتے مگر بعد میں جشن ساتھ مناتے۔ بھنگڑا، لڈی، جھومر، موسیقی، رقص سے لے کر مٹھائیان کھانا اور بانٹنا ساتھ ساتھ ہوتا رہتا ہے۔

بھنگڑے کو خاص طور پر ”بیساکھی“ کا ڈانس مانا جاتا ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ پورے پنجاب کا رقص بالکل ایک جیسا ہے۔ خمیر جو ایک ہے۔

اس وقت بھارتی پنجاب میں بیساکھی کو قومی دن کی حیثیت حاصل ہے اور اس دن عام چھٹی کی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں جنرل ضیا کی ثقافت مخالف پالیسیوں کے وجھ سے پاکستان میں ”بیساکھی“ منانا بند ہی ہوگیا۔

بیساکھی کا دن سکھ ازم میں مذہبی طور پر بھی نہایت اہمیت کا حامل دن سمجھا جاتا ہے، کیوں کہ اسی دن سکھوں کے مہا ”گرو گوبند سنگھ“ نے سکھوں کو سردار بنانے کا فیصلہ کیا، انہوں نے اعلان کیا اب ”تمام سکھ چڑیا سے عقاب بن جائیں“ اور پنجاب پر حکمرانی حاصل کریں۔

وہ 13 اپریل 1699 ع کا دن تھا جب گرو گوبند سنگھ نے سکھ فوج کا بنیاد رکھا اور صوفی مزاج گرو نانک کے پیروکاروں نے پہلی بار تلوار ہاتھ میں اٹھائی اور طاقت کا مظاہرہ کیا۔

سکھ اس وقت بھی بیساکھی کے دن تلواروں کو ہاتھوں میں اٹھائے اس دن کو بھنگڑا پاتے نظر آئیں گے۔

موسمی تہواروں پر جب مذہبی رنگ اور واقعات کی قدغن لگ جاتی ہے تب وہ تہوار ثقافتی طور پر کمزور ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔

بیساکھی جیسے شاندار تہوار کو بھی پاکستانی پنجاب میں اپاہج کردیا گیا ہے، اب اس کو بھی اک عدد ”بیساکھی“ کی ضرورت ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 21
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں