ہزار گنجی نیوزی لینڈ کا علاقہ نہیں!

آمنہ مفتی - مصنفہ و کالم نگار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 27
  •  

جمعے کی صبح کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں واقع سبزی منڈی میں خود کش دھماکہ ہوتا ہے اور 20 سے زائد افراد ہلاک اور 48 کے قریب زخمی ہو جاتے ہیں۔ جمعے کا دن ہے اور یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں آٹھ ہزارہ افراد بھی شامل تھے۔ بظاہر یہ حملہ ایک بار پھر ہزارہ برادری ہی پہ کیا گیا ہے۔

ہزارہ برادری، کوئٹہ میں دوسری اینگلو افغان جنگ کے زمانے سے آباد ہے۔ وسطی افغانستان میں بسنے والے اس قبیلے پہ خطے کے سیاسی حالات کے باعث ایسی آفات آتی رہیں کہ یہ پہلے 1880 کی دہائی میں اپنے آبائی علاقے ہزارہ جات سے ہجرت کر کے کوئٹہ میں آباد ہوئے پھر آنے والے وقتوں میں جوں جوں حالات بگڑتے گئے ان مہاجروں کی تعداد بڑھتی گئی، آج اندازاً آٹھ لاکھ کے قریب ہزارہ کوئٹہ کے علاقہ ہزارہ ٹاؤن، مہر آباد اور علمدار روڈ پہ آباد ہیں۔

روس کے افغانستان پہ حملے سے پہلے اور سنہ 1971 کے قحط کے دوران بھی بہت سے ہزارہ پاکستان آئے۔ ستم تو یہ کہ، 1970 کی دہائی میں جب پختونستان تحریک کا غلغلہ اٹھا تو افغان ہزارہ پہ اس وقت کے افغان صدر داؤد خان کو پاکستان سے ہمدردی رکھنے کا غصہ تھا۔ سوویت افغان جنگ کے دوران ہزارہ برادری نے ہزارہ جات کو کمیونسٹوں سے آزاد کرایا لیکن بعد ازاں یہ علاقے بھی طالبان کے قبضے میں چلے گئے۔

11 ستمبر کے بعد افغانستان میں ہزارہ برادری کے لیے حالات خاصے ساز گار ہو گئے۔ اس دور میں ہمیں کئی سر کردہ ہزارہ نظر آتے ہیں۔ مگر اس دوران پاکستان میں ہزارہ شیعہ غیر محفوظ ہو گئے۔ فروری سنہ 2001 سے شروع ہونے والا یہ خونی سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

سوائے پھسپھسے مذمتی بیانات کے کوئی کیا کر سکتا ہے؟ یوں بھی سات لاکھ افراد کو جان سے مار دینا کیا ممکن ہے؟ اصل بات دہشت پھیلانا ہے اور اس پہ اگر کوئی آپ کو دہشت گرد قرار دے تو برا کیوں مانتے ہیں؟

ہزارہ، ایران میں بھی بستے ہیں اور شنید ہے کہ وہاں بھی ان کے حالات کچھ زیادہ اچھے نہیں ہیں۔ گویا کہ معاملہ شیعہ سنی کا نہیں۔ معاملہ کچھ اور ہے۔ اصل معاملہ کیا ہے؟ یہ تو معاملات بگاڑنے والے ہی جانتے ہیں۔ میں تو بس اتنا جانتی ہوں کہ یہ خون محنت کشوں کا خون تھا اور خونِ ناحق تھا۔

جاسنڈا آرڈرن

Getty Images

یہ ویسا ہی خون تھا جیسا نیوزی لینڈ میں بہا تو ہم تڑپ گئے اور جب اپنی زمین پہ بہا تو کیا ہوا؟ نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم جیسنڈا پہ لہلوٹ ہونے والوں کو اس موقعے پہ سانپ سونگھ گیا۔ مرنے والوں میں ان کے ہم مذہب، ہم وطن شامل تھے لیکن نہ کسی نے ہزارہ کی وضع اختیار کی اور نہ ہی کسی نے متأثرین کو گلے لگایا۔ طالبان نے مبینہ طور پہ دھماکے کی ذمہ داری قبول کی اور لشکرِ جھنگوی کے تعاون کا بھی ذکر کیا۔

ایسے ہی، جیسے ٹیلی ویژن پہ دکھائی جانے والی کسی تمثیل کے لیے تعاون کرنے والوں کا نام لیا جاتا ہے۔ اسی بے حسی سے یہ تماشا بھی دیکھ لیا گیا۔ ہزارہ احتجاج کریں گے، اربابِ حل و عقد مذاکرات بھی کریں گے۔ کچھ ہزارہ گھرانے خوفزدہ ہو کے یہاں سے نکلنے کی کوشش بھی کریں گے۔

ایسی ہی ایک کوشش سنہ 2001 میں کی گئی اور اگست کے اواخر میں 400 سے زائد لوگ کھلے سمندروں میں مدد مانگتے ہوئے پائے گئے۔ ان میں سے اکثریت ہزارہ کی تھی۔ ان بے چاروں کو مختلف ملکوں نے پناہ دی۔ 170 کے قریب افراد نیوزی لینڈ میں پناہ گزین ہوئے۔

کچھ عجب نہیں کہ جن مسلمانوں کے کرائسٹ چرچ سانحے میں مارے جانے پہ ہم رو رہے تھے ان میں کوئٹہ سے بھگائے گئے ہزارہ بھی شامل ہوں؟

خونِ ناحق رنگ لاتا ہے، بلوچستان کی سر زمین پہ جتنا خون بہہ چکا ہے اسے دیکھ کر دل کانپتا ہے۔ خدارا خون کی اس ہولی کو روکیے!

ہمیں معلوم ہے کہ پنڈورا کہ اس پٹارے کی چابی آ پ ہی کے پاس ہے۔ اسے بند کیجیے، اس سے پہلے کہ آپ چابی لیے اکیلے کودتے رہ جائیں، نہ منظر باقی رہے، نہ ناظر اور نہ ہی تعاون کرنے والے اور ہاں، اتنا تو بتا دیجیے کہ دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے والے اچھے طالبان تھے یا برے طالبان؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 27
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں