اورحان پاموک کی دی ریڈ ہیرڈ وومن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخ کے گرد گھما پھرا کر داستان کہنا یا پھر کسی گھمبیر کلاسک تھیم کو لے کر اس کے گرد ایک نئی کہانی بننا نئے زمانے میں اپنی جڑیں گہری کرتا جا رہا ہے پھر چاہے ایلف شفق کی فورٹی رولز آف لو ہو یا اورحان پاموک کی ریڈ ہیرڈ ویمن۔ اورحان پاموک نے بھی اپنے اس نئے ناول میں اسی فارمولے کو اپنایا ہے اور دو مشہور زمانہ کلاسک ایڈیپس ریکس اور شہنشاہ نامہ میں رستم و سہراب کی حکایت پر پرکار کا سرا رکھ کر دوسرے سرے سے اس کے گرد دائرہ بنا ڈالا ہے۔

ایک انتہائی عام سے ینگ نوجوان سیم کی کہانی جس کے شعور سنبھلتے ہی اس کے کندھے پر زندگی کی ذمہ داریاں اپنا بوجھ ڈالنے لگیں اور اسے اپنے خوابوں کی تعبیر کے لئے ایک کنویں کھودنے والے محمد کے ساتھ مزدوری کرنی پڑی تا کہ وہ اپنی پڑھائی کے لئے مطلوبہ رقم حاصل کر سکے۔ باپ کے بغیر پلنے والے نوجوان کو کنواں کھودنے والے مالک کے روپ میں ایک باپ ملتا ہے جو اس کو بصیرت اور بصارت دینے کی حتی المقدور کوشش کرتا ہے۔ ایک ایسا روایتی باپ جو جوان اولاد کے تقاضوں کو سمجھ نہیں پاتا پھر بھی کبھی ڈانٹ سے کبھی پیار سے اسے سیدھے رستے پر چلنے کی ترغیب دیتا ہے۔ سیم جو ساری عمر باپ کی موجودگی کی اہمیت کو سمجھنے اور اس کی تلافی کی کوشش کرتا رہا مگر جب خود باپ بن کر اس جگہ کھڑا ہوا تو عین وہی ردعمل دکھاتا ہے جو اس کے باپ نے اپنے وقت میں دکھایا۔ سیم جو ساری عمر رستم و سہراب اور ایڈیپس ریکس جیسے انجام سے ڈرتا رہا بلآخر ایسے ہی انجام سے دوچار ہوتا ہے۔

”اپنے لئے ایک باپ تلاش کرو! اس ملک میں ہمارے بہت سارے باپ ہوتے ہیں۔ خدا، ریاست، فوج، مافیا وغیرہ۔ یہاں پر کوئی باپ کے بغیر کیسے رہ سکتا ہے۔ “

یہی باپ سیم نے کنواں کھودنے والے محمد میں پایا اور پھر سالوں بعد یہی کوشش اس کے بیٹے کو اپنی بقا کی خاطر کرنی پڑی۔ باپ اور بیٹے کے سروائیول کی جنگ میں شاید لازماً کسی ایک کو ہارنا ہی پڑتا ہے پھر چاہے وہ باپ ہو، کہ ریاست ہو کہ اتھارٹی ہو، کبھی باپ کی جیت تو کبھی بیٹے کی۔ ساتھ ساتھ دونوں کا پنپنا مشکل ہے۔

انیسویں صدی کے بدلتے ہوئے ترکی کے دگر گوں حالات جہاں مشرق اور مغرب، دائیں اور بائیں ایک دوسرے کو پچھاڑنے کی جنگ میں مبتلا تھے وہاں اس ٹکراؤ نے بہت سے افراد کو یتیم و لاوارث کر دیا۔ گھر ٹوٹ گئے، خاندان بکھر کر رہ گئے، اور بچے اور نوجوانوں کے سروں پر سے باپوں کی سرپرستی کی بجائے چمکتے سورج کی تپتی روشنی کا پہرا ہونے لگا۔ گھروں میں خاندان ایک دوسرے کے مقابل ہونے لگے حتی کہ گھروں کی اکائی کے اندر بھی لبرلزم اور کنزرویٹو میں واضح طور پر لکیر کھینچ دی گئی جس نے کثیر تعداد میں خاندانوں کے پرخچے اڑا دیے اور جو بچے وہ بھی ادھڑے ہوئے بکھرے ہوے بچے۔

ایسی صورتحال میں انسان خصوصاً جب وہ کم عمر بھی ہو اور کم علم بھی، اور حاسد اور منتقم بھی تو رستے میں دکھتے ہر سائے کو شجر سمجھنا لگتا ہے اور ہر دھویں کو بادل۔

سیم کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ بائیں باذو سے تعلق رکھنے کی پاداش میں جب اس کے سر سے باپ کا سایہ چھن گیا۔ تو زندگی کا سرا ڈھونڈنے اسے باہر نکلنا پڑا یہاں تک کہ ایک دن اسی دائرے میں سفر کرتا وہ اپنے بیٹے کے ساتھ خود وہیں جا پہنچا جہاں ایک بار وہ اپنے باپ سے بچھڑا تھا۔ اور اس بار باپ کے نام کا خسارا اس کے بیٹے کے حصے میں آیا۔

رستم اور سہراب ہو یا ایڈیپس ریکس، مشرق اور مغرب میں کچھ حدود ہیں جن کا پار کرنا گناہ کبیرہ تصور کیا جاتا ہے۔ مگر حالات کے چکر میں پھنسا ہوا انسان جانے انجانے میں اسی غیر فطری عمل کا حصہ بن جانے پر مجبور ہو جاتا ہے جن میں سے کبھی ایڈیپس ریکس کو گزرنا پڑا کبھی رستم و سہراب کو۔ اور کبھی سیم اور اس کے باپ کو۔ دو عظیم کلاسیکل ادب کے شہہ پاروں کے سائے میں پنپنے والی یہ کہانی اگرچہ اتنایونیورسل خوف و ہراس پیدا نہیں کر سکی جتنا رستم و سہراب نے اپنے زمانوں مں پیدا کیا یا جتنا ایڈپس ریکیس نے انگلش ادب کے شائقین پر ڈھایا۔

مگر بہرحال یہ آج کے زمانے کے ایک عام قاری کو اس تاثر تک کسی حد تک لیجانے میں کامیاب رہا جہاں سے انساں یہ سمجھ سکے کہ کس طرح مقدر اور تقدیر کے ہاتھوں انسان ایک چکی کے پاٹوں کی طرح پستا چلا جاتا ہے، ایسے کہ آنکھیں بھی ہوتی ہیں، رستے بھی دکھائی دیتے ہیں مگر پستی کے کنویں میں گرنے کا مقدر ہے کہ کھینچے لیے چلا جاتا ہے کسی شوق، کسی طلب، کسی آرزو کا شکار ہو کر انسان کھلی آنکھوں سے ظلمت کے اس کنویں میں گر جانے پر مجبور ہو جاتا ہے جس سے واپسی کا کوئی رستہ نہیں۔ یہاں تک کہ پھر آنکھیں پھوڑ لینی پڑتی ہیں یا اپنے ہی سینے میں خنجر گھونپنا پڑ جاتا ہے۔

کہانی در کہانی اس ناول میں کئی پرتیں ہیں ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے دائرے میں گھومتے تہہ در تہہ کئی معانی ہیں جو ایک ہی مدار میں گھومتے ہیں پھر بھی ایک دوجے سے صدیوں کے فاصلے پر ہیں۔ ہر کردار اپنے مرکز کا ہیرو ہے اور ہر کردار ایک کہانی کا بہت اہم حصہ بھی ہے۔ پھر وہ کہانی سیم کی ہو، کنویں کھودنے والے باپ نما محمد کی، ماں کی عمر جیسی لال بالوں والی عورت کی، ۔ سیم کی بیوی کی یا باپ کی، ایک بیابان ویران علاقے میں رات کے اندھیرے میں آدھ کھدے کنویں کے سرہانے لیٹے خوف پیدا کرنے والے ایڈیپس ریکس کی یا تھیٹر کے خیمے میں محشر کا سماں برپا کر دینے والی رستم و سہراب کی۔

مرکزی خیال ایک ہی ہے کردار مختلف۔ مرکزی خیال ہے زماں اور مقام کا مقدر اور اور کردار وہ تمام انسان جو مختلف کرداروں کی صورت دنیا کے اس کھیل میں ایسے گول دائروں میں گھومنے پر مجبور ہیں جیسے سورج کے گرد چھوٹے، کم طاقتور ستارے لپکتے اور گول گول گھومتے، جل جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ شاید دنیا کی ہر کہکشاں کے بیچ ایک بلیک ہول موجود ہے جو انسان کو جلد یا بدیر بے بس کر کے اپنی سمت کھینچ لیتا ہے، انسان جب تک اپنی طاقت سے خود کو اپنے مدار پر قائم رکھ سکتا ہے محفوظ رہتا ہے جہاں کوئی آرزو یا خواب، کوئی طلب یا شوق مجبور کر کے اس کے قدموں کی طاقت کمزور کرتا ہے وہ ڈوبے ہوئے تارے کی طرح مقدر کے اس بلیک ہول میں گرتا چلا جاتا ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ بھی نہیں۔ یہ طلب باپ کی گود کی ہو کہ لال بالوں والی کے آغوش کی، کامیاب زندگی کی ہو یا بیٹے کی صورت نسل آگے بڑھانے کی۔

یہ ناول حکایت ہے زندگی کے ان خفیہ رازوں کی بھی جو انسان کے عقل و شعور، تعلیم اور مقام کے باوجود اس کے انجام کا تعین کرتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ زندگی کی کامیابی کے یہ سب لوازمات تعلیم اور تہذیب، امارت اور لیاقت کی صورت انسان کے مقام کا تعین کرتے ہیں مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ انجام کا تعین کچھ اور طاقتیں کرتی ہیں۔ اک ذرا سی بھول اور ظلم انسان کو آسماں سے زمیں پر پٹخ دیتی ہے، اور ایک ذرا سی صلہ رحمی زمیں سے آسماں تک لیجاتی ہیں۔

یہی طاقت دس منزلہ عمارت جتنی گہرائی میں پڑے، اندھیری رات اور گرج و چمک سے برستے طوفان میں ایک بے آسرا زخمی وجود کا بھی آسرا ہو جاتی ہے۔ اور یہی طاقت ایک بزنس ایمپائر کے مالک کو بھی اپنے قاتل کے سامنے بے دست و پا کر دیتی ہے۔ انسان کے مقدر کا تعین بہت بڑے بڑے فیصلوں سے نہیں بہت حقیر سی باتوں سے ہوتا ہے۔

یہ ناول ایک عمدہ ٹریجڈی ہے۔ اگر ہم یہ بات مانتے ہیں کہ لائق فائق، عقلمد اور بہادر ہونے کے باوجود کسی ذرا سے غلط فیصلے، خواہش یا شوق کی بدولت برباد ہو جانا ایک ٹریجڈی ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح اپنے ہاتھوں سے کمائی ہوئی زندگی اور مقام، اپنے خون پسینے سے سینچا ہوا روشن دن سیم محض اپنی ایک محروم خواہش کے حصول میں ایک اندھیری رات کے کنارے گنوا دیتا ہے۔ اگرچہ مسلمان ہونے کے ناطے ہم موت کو ایک برا انجام نہیں برحق سمجھتے ہیں مگر موت کی وجہ اور حالات کیا ہوں اس پر بہرحال اچھے اور برے انجام کا تعین ہو جاتا ہے۔ اور اگر ایڈپس ریکس یا رستم و سہراب کا انجام برا تھا تو یقینی طور پر سیم کا بھی تھا اور اس کے بیٹے کا بھی۔ سیم جو اپنی قسمت کا کردار نبھا گیا اور ویسا ہی ایک کردار اپنے بیٹے کی صورت چھوڑ گیا۔

یہ کہانی داستان ہے اس قدامت پسند معاشرے کی بھی جہاں پر ہر چیز کو لال رنگ کی عینک پہن کر دیکھنے کا رواج پایا جاتا ہے، جہاں پر مخصوص لباس، پیشے، بات چیت، اٹھنے بیٹھنے کے انداز یا بالوں کے رنگ اور ملبوسات کا انتخاب انسانوں میں تمیز کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، جہاں لوگوں کی اہمیت ان کے حلیے اور مراتب سے ہوتی ہے، جہاں ایک لال بالوں والی اداکارہ ہر حال میں ایک بری عورت ہے، اور ایک اعلی پیشہ بدکردار انسان بھی ہمیشہ باعزت مانا جاتا ہے۔ جہاں ایک بیٹے کی اہمیت صرف اس لئے ہو نہیں پاتی کہ وہ ایک غیر قانونی بیٹا ہے پھر چاہے اس کا باپ کتنا ہی عالی مرتں ہ اعلی مقام کیوں نہ ہو۔ اور ایک ماں صرف اس لئے بے حرمت ٹھہرتی ہے کہ وہ ایک لال بالوں والی اداکارہ ہے۔

مشرق اور مغرب کے دھانے پر موجود ترکی جہاں مشرق اور مغرب ایک ساتھ سانس بھرتے ہیں وہاں کے لکھاری جب تحریر لکھتے ہیں تو بجا طور پر ان تمام رویوں اور رواجوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں جو ہمارے مشرق کی زندگیوں میں تضادات کا مجموعہ ہیں۔ اورخان پاموک اور ایلف شفق کی تحریر اسی لئے ہمارے دل کو چھوتی ہے اور ان کی بات ہمیں دل کے قریب لگتی ہیں کہ وہ مغرب کی بصیرت سے مشرق کو ٹٹولتے ہیں۔ اس لئے بہت سی تاریکیوں کو ان اندھیروں کا حصہ بن جانے والوں کی نسبت بہتر انداز میں جج کر پاتے ہیں۔ ترکی جو تقریبا پچاس سال پہلے ان مراحل سے گزر چکا ہے جہاں سے ہم پاکستانی آج کل گزرنے کی کوشش میں مبتلا ہیں اس لیے ان کی تحریریں ہماری بہت سے بے چینیوں کو بجا طور پر آواز دیتی ہیں یا ان کی تکلیف کم کرتی ہیں۔

ناول کی خوبصورتی اور موضوع کی گہرائی اور وسعت اپنی جگہ مگر ناول کا انگلش ترجمعہ انتہائی سادہ بیانیہ پر مشتمل ہے جسے ایک عام قاری بھی زیادہ مشکل کا شکار ہوئے بغیر اس سے لطف اٹھا سکتا ہے۔ اسلوب میں بھی گھماؤ کے اضافے سے اجتناب نے اس کی سادہ رو بنت کا تاثر برقرار رکھا ہے۔ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •