تعلیم بالغاں،وزیراعظم ہاؤس یونیورسٹی اور کپتان کے معجزے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی زمانے میں جہاد افغانستان، ہیروئن، کلاشن کوف اور بوری بند لاشوں کے کلچر کے بانی مرد مومن مرد حق نے مملکت خدادا میں علم و تعلیم کے چراغ جلانے کے لیے جگہ جگہ تعلیم بالغاں کے ادارے کھولے تھے۔ تعلیم بالغاں کے اداروں میں درس و تدریس کا آغاز دن گیارہ بجے کے بعد کیا جاتا تھا اور ہر عمر اور جنس کے طالبان علم و حکمت اور جویانِ شعور و آگہی اپنی اپنی استعداد کے مطابق اپنی جھولیاں بھرتے تھے۔

ایسے ہی کسی ادارے میں استاد صاحب جو عام طور پر مسجد کے مولوی صاحب ہوا کرتے تھے، نے ایک شادی شدہ نوجوان طالب علم کی مسلسل تین دن غیر حاضری لگا دی۔ نوجوان طالب علم اس پر اس طرح سٹپٹایا جس طرح آج کل فیصلہ ساز بچہ جمہورا کو حکومت دے کر سٹپٹا رہے ہیں۔ مذکورہ طالب علم نے آخر کار دلائل، ثبوت اور شواہد کے زور پر مولوی صاحب کو اپنے حاضر ہونے کا یقین دلا دیا اور انہوں نے اپنی غلطی تسلیم کر کے تین دن کی غیر حاضری کو حاضری میں بدل دیا اور نوجوان سے باقاعدہ معذرت بھی کردی۔ مگر اس نوجوان نے جدید ریاست مدینہ کے امیر کی طرح منہ بسور کر اور چہرے پر تناؤ اور دباؤ کی کیفیت طاری کر کے کہاکہ مولوی صاحب اب حاضری لگانے کا کیا فائدہ;میری بیگم نے تو میرے تین دن سکول سے غائب رہنے کی خبر سن کر عدالت میں خلع کا مقدمہ درج کر وا لیا ہے۔

یہ لطیفہ ہمیں گذشتہ دنوں وزیر اعظم ہاؤس میں منعقد ہونے والے ایک اہم اجلاس کے حوالے سے یاد آیا۔ ویسے تو نئی حکومت ساری کی ساری ہی ”سلطنت شغلیہ“ اور اس کے نامزد وزیر اعظم ”شغلِ اعظم“ ہیں اور برسبیل تذکرہ اس بات کا اعتراف ان کے دیرینہ اور مخلص دوست جناب ہارون الرشید بھی کر رہے ہیں۔ عمران خان اور ان کے سیماب صفت اور منہ پھٹ فدائیوں نے پچھلے دور حکومت میں اس قدر جھوٹ گڑے، رنگ بازی کی، بے پر کی اڑائیں، منافقت کا بازار گرم کیا، دھوکے اور فریب کی دکانیں سجائیں اور عوام کو نواز کرپشن کے خود ساختہ بیانیے پر گمراہ کیا کہ تاریخ رفتہ و حاضرہ کے گوئبلز بھی عالمِ بالا میں شرمندہ ہو کر رہ گئے۔

مگر کاروبار کذب و افترا اور بہتان طرازی و الزام تراشی کا جو سلسلہ جناب عمران خان نے شروع کر رکھا تھا آج حکومت ملنے کے بعد ان کے گلے پڑ رہا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اگر بارشیں کچھ زیادہ ہو جائیں، سمندر سے تیل نکلنے کے آثار پیدا ہوجائیں تو اس کا سہرا صادق و امین حکومت کے سر جانا ضروری ہے۔ لیکن انہیں بارشوں میں سیکڑوں اموات ہوں، ساہیوال و ہزار گنجی کے سانحات ہوں، مہنگائی اور بے روزگاری کا سونامی آئے تو ذمہ دار نواز شریف ہیں۔

پچھلی حکومتوں کو قرض کی مے پینے کا طعنہ دینے والوں کی حکومت کو دیکھیں تو اس نے اوسطاً پھچلے دس سال میں لیے گئے قرض سے زیادہ قرض لیا ہے۔ معلوم نہیں اس کنٹینر پر کیا بیتی ہو گی جس پر کھڑے ہو کر صداقت و امانت کے پتلوں نے پاکستان کی تاریخ کے سب سے زیادہ کذب بیانی کی ہے۔ بسیار و لغو گو ٹولے کو بغض نواز میں کنٹینر پر کھڑا کرنے والوں کو لگتا ہے اس بربادی اور تباہ دیلی کے بعد بھی عقل نہیں آئی اسی لیے تو وہ اس صدارتی طرز حکمرانی کا چورن بیچنا شروع ہو گئے ہیں جس نے پاکستان کو دو لخت کیا تھا۔

بات چلی تھی مرد مومن کی تعلیم بالغاں کی تحریک سے جو گھوم پھر کر رنگ بازوں کے ٹولہء نا اہلاں تک پہنچ گئی۔ اپنے انتخاب کے اگلے ہی دن وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی میں بدلنے والے عمران نے یہاں بھی ایک بڑا یو ٹرن مارا۔ سوچتا ہوں کہ کپتان اگر کسی ایسی بند گلی میں پھنس جائے جس میں یو ٹرن کی سہولت نہ ہو تو وہ کس کے نصیبوں کو روئیں گے؟

بات شروع ہوئی تھی وزیراعظم ہاؤس یونیورسٹی میں شروع ہونے والی کلاسز سے۔ خیرسے کپتان اس یونیورسٹی کے بانی، چانسلر، رجسٹرار، لیکچرار اور ڈین سبھی کچھ ہیں۔ بیرون ملک سے انیل مسرت اور زلفی بخاری جیسے ہونہار طلبہ یونیورسٹی میں داخل ہو چکے ہیں۔ اندرون ملک سے فواد چودھری، فیاض الحسن اور شیخ رشید جیسے تشنگان علم اپنے ناموں کا اندراج کر ا رہے ہیں۔ بیرون ملک کرپشن اور لوٹ کھسوٹ کے کیس میں گرفتار ہونے والے عمران خان کے دوست بھی اسی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل لگتے ہیں۔

جناب وزیر اعظم نے اپنے پہلے لیکچر میں طلبہ کو مؤثر اور مسلسل یو ٹرن کے موضوع پر سیر حاصل لیکچر دیا نیز اپنے سیکڑوں یو ٹرنوں کو بطور عملی نمونہ پیش کیا۔ اس کے علاوہ جھوٹ، مقتدر اداروں کی چاپلوسی، امپائر کی انگلی، مقدس گائے کی پوجا، نیب نیازی گٹھ جوڑ وغیرہ جیسے موضوعات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بہت جلد یونیورسٹی میں اسد عمر، شاہ محمود قریشی، شیخ رشید، فواد چودھری اور فیصل واوڈا جیسے نابغوں کی سرکردگی میں بھاری فنڈز اور وسائل کی مدد سے تحقیقی ادارے کھولنے کا اعلان کیا۔

ان اداروں میں معیشت کا بیڑا غرق کر کے اس کا الزام سابقہ حکومت پر دھرنے کے نت نئے طریقوں اور وارداتوں پر تحقیق کی جائے گی۔ شاہ محمود قریشی کے زیر انتظام قائم کیے جانے والے تحقیقی ادارے میں نواز شریف کے یار مودی کو الیکشن میں تاریخی کامیابی دلا کر مسئلہء کشمیر کے حل کی راہ ہموار کرنے جیسے موضوع پر پی ایچ ڈی سطح کے مقالے لکھوائے جائیں گے۔ شیخ رشید کی قیادت میں بننے والا ریسرچ سنٹر شیخ چلی کے منصوبوں اور شیخ رشید کی پیش گویوں پر ریسرچ کرے گا۔

فیصل واوڈا اربوں نوکریوں کی پیدائش اور تقسیم کے موضوع پر اندرون و بیرون ملک سے ماہرین بلا کر اپنی نوعیت کی پہلی اور گراں قدر تحقیق کروائیں گے۔ فواد چودھری جھوٹ اور کذب بیانی کی مروجہ اقسام میں خاطرخواہ اضافے کے لیے تاریخی تحقیق کا آغاز کریں گے۔ ایک تحقیقی ادارہ امپائر کی انگلی اٹھانے کے لیے کیے جانے والے مؤثر اور نتیجہ خیز اقدامات کے موضوع پر تحقیق کر کے امپائر کا دل موہ لینے والے جدید طریقوں پر مواد پیش کرے گا۔

کپتان کی زیر نگرانی ایسی فکری فیکٹری کی بنیاد بھی رکھ دی گئی ہے جس میں وہ تخیلاتی نشہ تیار کیا جائے گا جس کے خمار سے کپتان کے پیروکاروں کو پچاس لاکھ گھر، اربوں نوکریاں، پشاور میٹرو کا تاریخی افتتاح، ڈالر ایک سو پہ، بجلی گیس پٹرول کی قیمتیں تاریخ کی کم ترین سطح پر، کشمیر کی آزادی، مشرف کی پھانسی جیسے معجزے برپا ہوتے نظر آئیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •