احتساب اس طرح مکمل نہیں ہو گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شہباز شریف صاحب کو ہفتوں حراست میں رکھا گیا۔ الزام کچھ گرفتاری کا بہانہ کچھ اور۔ فواد حسن فواد، احد چیمہ جیسے قریبی افراد کو ترغیب، تحریص، دھونس، دھمکی، لالچ ہر ممکن طریقے سے وعدہ معاف گواہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ تمام تر سرکاری ریکارڈ کی چھان بین ہوئی۔ اس کے باوجود مگر کوئی ثبوت دستیاب نہ ہوا اور وہ رہا ہوئے۔ اب خبر ہے کہ شہباز شریف کے خلاف کیسز میں نیب کی نمائندگی کے لیے نعیم بخاری کا انتخاب کیا گیا ہے۔

نیب بخاری کی وجہ شہرت پانامہ کیس ہے جس میں وہ عمران خان کے وکیل تھے۔ ان کی شریف خاندان کے ساتھ ذاتی مخاصمت بھی ہے جو ہر با خبر شخص کے علم میں ہو گی۔ اس کے علاوہ ان کے کریڈٹ پر بطور وکیل کارنامہ یا نامور کیس نہیں، ہاں وہ ایک جوکر، اداکار اور سستے مذاق والے جگت باز کے طور پر ضرور مشہور رہے ہیں۔ قصہ مشہور ہے جنگ عظیم کے دوران انگلستان کی فوج کو نفری کی کمی کا سامنا تھا جس کو پورا کرنے کے لیے مقبوضہ علاقوں سے بھرتیاں کی جا رہی تھیں۔

اسی سلسلے میراثی خاندان کے ایک نوجوان کو بھی بھرتی کر لیا گیا۔ کسی شخص نے اس نوجوان کی ماں کو جا کر یہ خبر سنائی کہ تمہارے لڑکے کو ملکہ برطانیہ کی فوج میں نوکری ملی ہے۔ بڑھیا جوابا بولی، بیٹا بات تو خوشی کی ہے لیکن اگر معاملہ اس نہج تک پہنچ چکا کہ ملکہ برطانیہ کو میراثیوں کی ضرورت پیش آ گئی تو اس کے لیے جنگ بندی ہی بہتر ہے۔

نِیب کے قیام کا مقصد ہی مخالفین کو تنگ کرنا تھا اور آج تک ہر حکومت اس ادارے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی آئی ہے۔ نیب کی غیر جانبداری پر ایک نہیں بلکہ بہت سے سوالیہ نشان ہیں۔ صاف نظر آتا ہے کہ اس کی پھرتیاں اور آنیاں جانیاں ایک خاص سمت تک محدود ہیں۔ حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والے ملزمان سے اس کا طرز عمل بہت ڈھیلا ہوتا جبکہ اپوزیشن کے کیسز میں اس کا رویہ مختلف۔ جو معیار مسلم لیگ، پیپلز پارٹی کے کیسز میں ہے آخر وہی پیمانہ پرویز الہی، پرویز خٹک اور بابر اعوان وغیرہ کے کیسز میں کیوں نہیں۔

سمجھ نہیں آتا کہ ضمانت پر ہونے کے باوجود اور عدالت کے واضح احکامات کی موجودگی میں کہ حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے سے دس دن قبل اطلاع دینا لازم ہو گا، نیب ٹیم کو مسلسل دو دن کیمروں کے سامنے تماشا لگا کر ان کے گھر کا گھیراؤ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ گزشتہ روز نیب نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں تحقیقات کے لیے شہباز شریف کی اہلیہ اور بیٹیوں کو بھی طلبی کے نوٹس جاری کیے ہیں۔ یہ طلبی اگر ضروری بھی تھی تو کوئی مہذب طریقہ کار بھی استعمال کیا جا سکتا تھا۔

ان کے وکلاء کو نوٹس بھیج کر بھی تعمیل کرائی جا سکتی تھی۔ یہ عجیب طرز ہے کہ محض طلبی کا پروانہ پکڑانے گاڑیاں بھر کر جائیں اور کسی گھر کا گھیراؤ کر لیں۔ کل کلاں اگر ملزم بیگناہ نکلے تو اس طریقہ سے اس کی عزت پر جو دھبہ لگا، شہرت داغدار ہوئی اس کا ذمہ کس کے سر ہو گا۔ نیب کے اس رویے پر اسلامی نظریاتی کونسل بھی اپنی تشویش کا اظہار کر چکی ہے کہ یہ اسلامی تعلیمات کے منافی اقدام ہے۔ اس کے علاوہ بذات خود یہ نیب کے لیے بھی نقصان دہ ہے کہ اس طرح ملزمان کو ہمدردی حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے اور نیب کی ان حرکتوں کی وجہ سے اس کی ہر کارروائی کو لوگ شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

خوش گمانی کی کوشش کے باوجود لگتا نہیں کہ نیب کا مقصد احتساب ہے۔ حمزہ شہباز کہتے ہیں ڈی جی نیب نے انہیں پیشی کے موقع پر کہا کہ ہمیں اچھا نہیں لگتا آپ کو بار بار طلب کریں مگر، ہم پر پریشر بہت ہے۔ آپ لوگ آخر حکومت سے سیٹلمنٹ کیوں نہیں کر لیتے۔ یہ بات اگر درست ہے تو صاف ظاہر ہو گیا نیب سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہا ہے اور اگر حمزہ شہباز کا الزام غلط ہے تو پھر بھی نیب اور حکومت کو اپنے انداز و افکار پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

کیونکہ نیب کا جھکاؤ ہی ان باتوں کی بنیاد بنتا ہے اور حکومتی وزراء جب نیب کی ترجمانی کا منصب بھی سنبھال لیتے ہیں تو پھر ہی اس واویلے کو مزید تقویت ملتی ہے۔ کبھی وزیراعلی پنجاب کے ترجمان شہباز گل نیب کی طرف سے مورچہ سنبھالتے ہیں تو گاہے حماد اظہر۔ فواد چوہدری صاحب کی شعلہ فشانی کے تو کیا ہی کہنے۔ آخر ان کی وزارت ہی دریدہ دہنی کی مرہون منت ہے۔ مراد سعید کا تازہ بیان بھی ملاحظہ فرمائیں۔ ہمارا حکومت میں آنے کا مقصد ہی احتساب ہے۔ سبحان اللہ اس عقل و دانش کی فراوانی پر۔ عدالتوں اور اداروں کو تالہ لگا کر تمام معاملات اب حکومت پر چھوڑ دینے چاہئیں۔ عقل کے اندھوں کو کون سمجھائے احتساب اس وقت تک ممکن ہو ہی نہیں سکتا جب تک حکومتی مداخلت ہو گی۔ احتساب کے لیے ادارے موجود ہیں حکومت کا کام نہیں کہ وہ یہ بیڑا اٹھائے۔

حکومت کا کام کار مملکت چلانا اور عوام کو زندگی بہتر بنانا ہے۔ جب حکومت اپنا اصل کام چھوڑ کر احتساب کے نام پر لٹھ اٹھائے گھومے گی تو اس بہتری کے بجائے ابتری پیدا ہو گی۔ انارکی میں اضافہ ہو گا۔ معاشیات کا ادنی طالب علم جانتا ہے دنیا میں سب سے ڈرپوک چیز سرمایا ہے۔ سرمائے کی نفسیات ہے ذرا سے کھٹکے پر وہ اڑن چھو ہو جاتا ہے اور خوف کی فضا جہاں ہو گی وہ بسیرا نہیں کرتا۔ جب سے حکومت آئی ہے لٹ گئے، برباد ہو گئے، خزانہ خالی ہے۔

فلاں چوری کر گیا، وہ لوٹ کر لے گیا کسی کو نہیں چھوڑیں گے کی ایسی گردان ہے کہ تمام سرمایا دار اپنا پیسہ بیرون ملک منتقل کر چکے ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ باون ہزار سے گر کر تیس ہزار کے اریب قریب گھسٹ رہی ہے۔ معاشی شرح نمو چھ پانچ فیصد سے زائد تھی جو اب دو اعشاریہ فیصد ہے۔ یعنی عملا بالکل صفر کیونکہ ملکی آبادی میں سالانہ اضافے کی شرح بھی یہی ہے۔ ترقیاتی منصوبے بھی اس حکومت کے جنون احتساب کی لپیٹ میں آ کر بند ہو چکے ہیں۔

وجہ یہ نہ تو فنڈز میسر ہیں اور نہ بیوروکریسی فائل پر دستخط پر آمادہ۔ نتیجتا بیروزگار افراد کی تعداد میں آٹھ ماہ کی قلیل مدت میں دس سے پندرہ لاکھ کا مزید اضافہ ہوا۔ ترقیاتی اخراجات بند ہونے، اور ”دوست ممالک“ کے قرض کے باوجود زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی کمی جاری ہے اور تجارتی خسارہ بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔ حکومت اگر واقعتا احتساب کے لیے مخلص ہے تو یہ کام اداروں پر چھوڑ کر اپنی زبانوں کو لگام دیں۔ اداروں کو بھی چاہیے اس طرح کے اقدامات سے گریز کریں ورنہ، ان کی غیر جانبداری تو متاثر ہو گی ہی لیکن احتساب کا عمل بھی تکمیل تک نہیں پہنچے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>