مشال خان کی دوسری برسی بھی گزر گئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مشال خان کی دوسری برسی بھی گزر گئی۔ مشال خان مردان کی خان عبدالولی خان یونیورسٹی کا ذہین طالبعلم تھا۔ مشال خان کو 13 اپریل 2017 کے دن ایک ہجوم نے توہین مذہب کے غلط الزام کے نتیجے میں بے دردی سے قتل کر ڈالا تھا۔ مشال خان کے قتل کے بعد باشعور سوچ و فکر کی طرف سے بہت آوازیں سنائی دی۔ 13 اپریل کے دن مشال ڈے بھی منایا گیا۔ مختلف تنظیموں نے پاکستان کے بہت سے شہروں میں جلوس نکالے۔ مشال خان نے تعلیمی نظام میں موجود کرپشن اور طبقاتی نظام تعلیم کے خلاف آواز اٹھائی تھی، اسی وجہ سے سازش کرکے اسے قتل کرایا گیا۔ مشال ڈے کے موقع پر جلوس اور ریلیوں میں شامل افراد کا کہنا تھا کہ پاکستان کے باشعور افراد اور اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مشال خان کے مشن کو جاری رکھیں۔ کچھ افراد کا کہنا تھا کہ کسی ذہین طالبعلم پر بلاسفیمی کا الزام لگا کر اسے خوفناک انداز میں قتل کردینا بہت بڑا ظلم ہے جسے اب ہر صورت رکنا چاہیے۔

مشال خان کے والد اقبال لالا ایک بہادر انسان ہیں۔ ایک ایسی متاثر کن شخصیت ہیں جنہوں نے دو سال تک بہت ساری مشکلات کے باوجود جنگ لڑی اور کسی حد تک کامیابی بھی حاصل کی۔ مشال ڈے پر ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے اقبال لالا نے کہا کہ مشال کے ساتھ جو ہوا وہ ہو گیا، اب وہ کسی اور طالبعلم کے ساتھ مشال جیسا ظلم نہیں ہونے دیں گے۔ ایسے ہر ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ مشال قتل ہوگیا۔ وہ اب واپس نہیں آئے گا۔ لیکن پاکستان کے ہر گھر میں ایک مشال موجود ہے۔ اس مشال کی زندگی کے تحفظ کے لئے وہ جدوجہد کرتے رہیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی عوام، سول سوسائیٹی، ڈاکٹروں، ادیبوں، شاعروں اور سب سے بڑھ کر میڈیا نے ان کا ساتھ دیا جس پر وہ میڈیا کے بہت شکرگزار ہیں۔ اقبال لالا کہتے ہیں کہ جہاں تک قانونی چارہ جوئی کی بات ہے وہ کسی حد تک مطمئن ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مشال خان نے یونیورسٹی میں طالبعلوں کے حقوق کی بات کی تھی، یونیورسٹی انتظامیہ کی کرپشن کو بے نقاب کیا تھا۔ اس پر توہین مذہب کا غلط الزام لگایا گیا اور پھر سازش کرکے اسے قتل کیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے کہہ دیا ہے کہ مشال خان کو یونیورسٹی انتظامیہ کی بدعنوانیاں بے نقاب کرنے پر قتل کیا گیا۔ کب تک مشال قتل ہوتے رہیں گے؟ وہ کہتے ہیں بہت مشکلات برداشت کی ہیں۔ کسی سیاسی پارٹی اور ریاستی ادارے نے ساتھ نہیں دیا۔ لیکن جدوجہد جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ طاقتور قوتیں اب بھی ان کے ساتھ نہیں۔ مشال کے والد اقبال لالا کہتے ہیں کہ سول سوسائیٹی اور طالبعلم حقیقت کو سمجھ چکے ہیں۔ باشعور ہورہے ہیں، آواز اٹھارہے ہیں جو کہ ایک عظیم بات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشال ڈے کے موقع پر مشال مارچ خوش آئند تبدیلی ہے اس کا مطلب ہے کہ لوگ باشعور ہورہے ہیں۔ جب بہت زیادہ شعور آجائے گا تو اور مشال قتل نہیں ہوں گے اور انشا اللہ وہ وقت قریب ہے جب پورا پاکستان باشعور ہوگا اور کسی مشال کو قتل نہیں ہونے دے گا۔

مشال خان کے والد کا کہنا ہے کہ حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ طالبعلموں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ انہیں تحفظ دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں نظام تعلیم کے نصاب کے بیانیئے کو بھی تبدیل کیا جائے اور نظام تعلیم کو جدید خطوط پر چلایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ کب تک ریاست اور حکومت مجرمانہ خاموشی کی کیفیت میں رہے گی؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •