من ہزارہ ام، بگذار زندگی کنم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہاں میں ہزارہ ہوں، میں کوئٹہ میں نسلی اعتبار سے بلاشبہ اقلیت میں ہوں لیکن دنیا میں ہماری تعداد کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ میں نسلی اعتبار سے تم لوگوں سے کم درجے کا نہیں ہوں۔ میں ایرانی بادشاہوں، منگول حملہ آوروں اور ترک بہادروں کا بیٹا ہوں۔

میری زبان فارسی النسل ہے جس کی مٹھاس اور بلاغت دنیا مانتی ہے۔

میرا دین اسلام اور مسلک شیعہ ہے میں توحید و رسالت اور ولایت کا داعی ہوں۔

میں بھی وطن عزیز پاکستان کی منفرد خوبصورتی ہوں۔ میرے خدوخال مجھے یہاں ممتاز کرتے ہیں۔ میرے نین نقش ازبکستان، بلخ اور بخارے سے مشابہہ ہیں۔ میں پاکستان کی ثقافتی تنوع کا ان مٹ ورثہ ہوں۔ میں وسطی ایشیائی شکل و صورت کا پاکستان میں رہنے والا باشندہ ہوں۔

یہ نہیں کہ میں ازل سے بے وطن ہوں۔ چشموں، وادیوں اور نخلستانوں کی سر زمین، ہزارستان میرا آبائی وطن ہے اور میری سرزمین افغانستان کا دل ہے۔ 1883 سے میں اپنے وطن ہزارستان سے نکالا جا رہا ہوں۔ باقی قوموں کی طرح میں نے بھی پاکستان کو اپنا دائمی وطن بنا لیا ہے۔ مجھے بھی اب پاکستان میں رہنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا دنیا سے دوسرے خطوں سے پاکستان آ کر رہنے والوں کو ہے۔

مجھ پہ میرا دشمن یوں جھپٹ پڑا ہے جیسے کوئی بھوکی چیل نے گوشت دیکھ لیا ہو۔ میرے دشمن کے منہ کو میرا خون لگ گیا ہے۔

میرے ہزارہ لوگوں کو کوئٹہ کی سڑکوں پہ ٹیکسی کاروں میں مارا گیا۔ میرے ہم نسل پولیس کیڈٹس کو چن چن کر گولیوں سے بھون دیا گیا۔ میرے نمازیوں کو جمعہ کی نماز میں اڑایا گیا۔ ہزارہ برادری کے نوجوانوں سے دس محرم کے ماتمی جلوسوں میں زندگیاں چھین لی گئیں۔ میرے جوس فروشوں کی تین نسلوں کو ابدی نیند سلایا گیا۔ میں سڑکوں پہ احتجاج کو نکلا تو میرے ہم نسلوں کے پر خچے اڑا دیے گئے۔ میرے کھیل کے میدانوں میں کھیلتے بچوں پہ راکٹ برسائے گئے۔

میرے پاکستانی باکسر اولمپین کو تلاش کر کے مارا گیا۔ ہزارہ نوجوان جب عیدگاہ میں عید کے دن مسجود تھے ان پہ گولیوں کا مینہ برسایا گیا۔ میرے زائرین کو تفتان بارڈر پہ باقاعدہ پہچان کر کے مارا گیا۔ ان کی لاشوں کو وصول کرنے والوں کو بھی شہید کر دیا گیا۔ ہزارہ کے سرکاری افسروں کو بھی مارا گیا۔ فنکاروں سے بھی زندگی چھینی گئی۔ میرے تاجر مارے گئے۔ میرے طلباء سے پڑھنے کا حق بھی چھین لیا گیا۔ میرے چائے بیچنے والوں کو مارا گیا، میرے مزدوروں کو مارا گیا، میرے استادوں کو گولیوں سے بھونا گیا، میرے وکلاء کو مارا گیا۔

پاسپورٹ آفس اور نادرہ آفس میں لائن میں لگے نوجوانوں کو قتل کیا گیا۔ سنوکر ہال میں کھیلنے والوں کو بھی بے دردی سے قتل کیا گیا، دیکھنے والوں کو بھی چن چن کر مارا گیا۔

فروٹ منڈی میں میرے مزدوروں کے چیتھڑے بھی اڑائے گئے۔ میرے بچوں کو مسلا جا رہا ہے، میرے نوجوانوں کو کچلا جا رہا ہے، میرے بدن کو بکھیرا جا رہا ہے، میری ماؤں کو رلایا جا رہا ہے۔ میرے بوڑھوں سے نوجوانوں کے جنازے اٹھوائے جا رہے ہیں۔ میرے تابوت میں موجود بوٹیوں سے میری نعش بنتی ہے۔ میرے ہی خون سے میرا غسل ہوتا ہے۔

میں مسلکی اختلافات پہ بھی مارا جا رہا ہوں۔ مجھے لسانی و نسلی تعصب کی بنا پہ بھی قتل کیا جا رہا ہے۔

میری عورتیں بھی بے دردی سے قتل کی جارہی ہیں۔ میرے بچے مار کر میری نسل کو بھی مٹانے کی کوشش جاری ہے۔ میرے بوڑھوں کے سفید بالوں کی حیا بھی نہیں کی جا رہی۔ یہ دھرتی میرے وجود کے لئے تنگ کی جا رہی ہے۔

مجھے اپنے پاکستانی ہم وطن بھی اجنبی سمجھتے ہیں۔ دہشت گرد تنظیمیں میری بقا کے درپے ہیں۔ انصاف کے راستے بھی میری لاشوں سے ہو کر جاتے ہیں۔ حکومتی عہدیدار بھی میری داد رسی کو تب پہنچتے ہیں جب میں ان کے قدموں میں اپنے عزیزوں کی لاشیں بچھا دیتا ہوں۔

دہشت گرد تنظیموں کے آگے میرے ہم وطنوں کے قلم بھی خاموش ہیں لب بھی خاموش ہیں۔ میری چیخوں سے میرے ہم وطنوں کے کان بھی نا آشنا ہیں۔ میرے قبرستان کی قطار در قطار قبروں سے بھی ان کی آنکھیں نم نہیں ہوتیں۔ میری قبروں کے اوپر لہرانے والے علم دیکھ کر بھی انھیں میری مظلومیت پہ یقین نہیں آ رہا۔ میری برادری کے یتیم بچوں کے معصوم چہرے بھی تمھاری آنکھوں کو اشکبار نہیں کر سکے؟

صدا دیتی بیوائیں، چپ سادھے بوڑھے، بلکتے بچے، دامن اٹھائے عرش کے دروازے کھلنے کی منتظر مائیں بھی تمھاری آنکھیں نہ کھول سکیں؟

قبریں کھودتے یہ نوجوان، ہر کدال کے ساتھ نکلنے والی آہ بھی تمھارا کچھ نہ بگاڑ سکی؟ میرا وجود ختم کر کے کیا تم جی سکو گے۔ میری سسکیاں تمھیں قبر میں بھی چین سے نہ سونے دیں گی۔ مجھے اقتدار کی ہوس نہیں، مجھے ایوان کی تڑپ نہیں، مجھے میڈلز کی لالچ نہیں، مجھے مسند کی خواہش نہیں، مجھے بس جینے دو۔

میرے ساتھ انصاف نہ کیا گیا تو تم مٹ جاؤ گئے۔

میں پاکستان کا بیٹا ہوں مجھے مارنے والو، میری موت کے ماتم پہ بھی ہم تن گوش رہنے والو، میری بقا میں تمھاری بقا ہے۔ میری فنا تمھاری فنا ہے۔ میرا خون تمھاری موت ہے۔ اس سے پہلے کہ میری سسکیاں تمھاری ہچکیاں بن جائیں میری خبر لو۔ ان دہشت گرد تنظیموں کے آگے میری آڑ بن جاو، میری میرے پاکستان کی آہنی باڑ بن جاؤ۔ ورنہ مجھے تمھارا ظلم مٹا دے گا اور تمھیں تمھاری اپنی خاموشی۔ مجھے تم ڈر کا تحفہ دے رہے ہو یہ یاد رکھنا کہ اسی ڈر کے آگے میری جیت ہے اور تمھاری ہار۔

من ہزارہ ام، بگذار زندگی کنم

(میں ہزارہ ہوں، مجھے جینے دو)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
قمر الحسن بھروں زادہ کی دیگر تحریریں
قمر الحسن بھروں زادہ کی دیگر تحریریں