بازار سخن میں آمد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

الفاظ کا بھی اپنا جہاں ہوتا ہے۔ نسل در نسل معنی کی تلخ و شیریں یادیں لئے یہ سفر کرتے ہیں۔ کبھی یہ سفر ان کو ادب کے پر رونق بازار میں لے جاتا ہے۔ جہاں ان کا ملاپ ایک الگ کشش اور منفرد رنگ و بو لئے ہوئے مزید الفاظ سے ہوتا ہے۔ ان کو نئے معنی ملنے لگتے ہیں۔ آبرو بڑھنے لگتی ہے۔ تحسین اور واہ واہ ملنے لگتی ہے۔ ان کا حسن نکھرنے لگتا ہے۔ نئے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ نئی منزلیں متعارف ہونے لگتی ہیں۔

اور کبھی یہ سفر الفاظ کو اپنے معنی سمیت گمنامی اور تنہائی کے دھندلکوں میں دھکیل دیتا ہے۔ دھواں چھوڑتے اور گلے سڑے یہ الفاظ اپنے ساتھ اپنے معنی کو بھی بدبودار بنا دیتے ہیں۔

گویا لفظوں کا بھی اپنا مقدر ہوتا ہے، اپنی سوچ، اپنی فکر اور اپنا اظہار ہوتا ہے۔

لفظوں کے اس سفر میں ان کا اپنا مزاج بنتا اور بگڑتا ہے۔ بعض الفاظ کو ان کی خوش مزاجی اور حسین بنا دیتی ہے۔ وہ نئے رنگوں میں بدلنے لگتے ہیں۔ نئی خوشبوئیں اوڑھنے لگتے ہیں۔ سماعتوں اور بصارتوں کے خوش نما سفر پہ سامعین اور قارئین کے دلوں کو لبھاتے یہ الفاظ الگ فضاؤں میں اٹھلاتے پھرتے ہیں۔

یہ سارے لفظ ہمارے اردگرد ہی موجود ہوتے ہیں۔ ان کو ہماری سماعتوں نے سنا ہوتا ہے، ہماری بصارتوں نے دیکھا ہوتا ہے، ہماری بصیرتوں نے سوچا ہوتا ہے مگر وہ الفاظ کبھی ہماری قلم کے ہم قدم یا زبان کے ہمسفر نہیں ہو پاتے۔

کبھی کبھی ہم ان کو خیال کے کسی تاریک کمرے کی الماری میں یوں بند کر دیتے ہیں کہ سالوں ہمیں ان کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ہم ان کو کوئی خیال نہیں دے پاتے۔ خیال رہے کہ خیال کے بغیر الفاظ ادھورے رہتے ہیں۔

اپنے خیال کے ساتھ ادا ہونے والے یہ لفظ اپنا اثر چھوڑتے ہیں۔ ان کی بھی وائبز ہوتی ہیں۔ جن کا اثر نہ صرف ہمارے گردو پیش بلکہ ہماری اپنی صحت اور موڈ پر پڑتا ہے۔

لفظ عاشق بھی ہوتے ہیں، معشوق بھی ہوتے ہیں۔ یہ مریض بھی ہوتے ہیں۔ بعض لوگ ان کی نبض اور نفسیات تک سے واقف ہوتے ہیں۔ یہی لوگ لفظوں سے کھیلنا جانتے ہیں۔ بعض لوگ اپنے خیال اور فکر کے ساتھ لفظ تخلیق کرتے ہیں اور تخلیق کار کہلاتے ہیں۔

اپنی فکری جسارت اور دست ہنر سے وہ لفظوں کا نصیب بدلتے ہیں۔ لفظوں کو نئے موضوع، نئے لہجے اور نئے گیت دیتے ہیں۔

لفظوں سے میرا تعارف کب کیسے کہاں ہو گیا، کب یہ اپنے رنگ، خوشبو اور معنی کے ساتھ میرے رگ و پے میں سرائیت کر گئے، میری زندگی کے اس سفر میں کب میرے ہم سفر ہو گئے اور اپنے اندر آسودگی، لذت ورعنائی لئے کب میری سوچ اور میری ذات کا عکس بننے لگے۔ مجھے پتہ ہی نہیں چلا۔

میں نہیں جانتی تھی کہ ان سے شناسائی اور گہری رفاقت میں یہ ایک دن مجھے انگلی تھامے یوں بازار سخن میں لے آئیں گے۔

میں سمجھتی ہوں کہ اس کا سہرا میرے ان تمام اساتذہ کو جاتا ہے۔ جن کی فکری شادابی و تخلیق اور فن انداز سخن نے نہ صرف میری فکر کو نئے ذائقوں سے متعارف کرایا ہے بلکہ مجھے لفظوں کے پیکر اور جمال سے روشناس کرایا ہے۔

میں اپنے ان تمام اساتذہ کی اور دوستوں کی بے حد مشکور ہوں جن کی بھرپور حوصلہ افزائی پر میرے قلم کو تحریک ملی ہے۔ اور میں نے آج اپنے فکری اثاثے کے ساتھ لفظوں کے اس بازار میں قدم رکھ دیا ہے۔ شاید کہ میں اپنے احساس، سوچ اور فکر کے اظہار کے لئے ایسے الفاظ چن پاؤں جن کو بازار سخن میں وقار اور اعتبار حاصل ہو سکے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •