سب گول مال ہے

سٹوپڈٹی پر بہت کم لوگوں نے لکھا ہے۔ اب تک غالباً سات سے آٹھ کتب ہی لکھی گئی ہوں گی۔ مگر اس کی خاطر خواہ تعریف کوئی نہیں کر پایا۔ ہاں مگر ہم یہاں مختلف لوگوں کے خیالات جان سکتے ہیں۔ اور شاید اپنے طور کچھ جان پائیں کہ سٹوپڈٹی کیا ہے۔بعض لوگوں کو خیال ہے کہ یہ عقل کی ابتدا سے پہلے کا سفر ہے۔ اگر انسانی تاریخ کا مطالعہ کریں تو انسان اپنی ابتدا میں جنگلوں میں رہتا تھا۔ وہ لباس، آگ اور زبان اور کئی اور دوسری اشیاء کے استعمال سے ناواقف تھا۔ یہی سٹوپڈٹی کا دور تھا۔

Read more

انسانیت کو Detoxify کون کرے گا؟

کل کچھ دوستوں کے ساتھ وقت گزارا۔ اکٹھے لنچ کیا۔ سب سے زیادہ بات ڈائٹنگ اور ویٹ لاس پر ہوئی۔ کیا کھانا چاھئے اور کیا نہیں؟ کتنی ورزش کرنا چاہیے۔ رمضان بھی تو آ رہا ہے، باڈی ڈیٹاکس کیسے کرنا ہے۔ لیموں، ادرک، پودینہ کب کیسے استعمال کرنا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ تب سے ایک ہی سوچ میں ہوں۔ خبر کی دنیا میں جہاں صبح سے شام تک نت نئی خبروں کا سامنا ہے۔ پھر ان پر تبصرہ، پھر تبصرہ پر

Read more

عقل کی دنیا میں پہنچا ہے تو یوں گم ہے جنوں

غزل تیز تیز قدموں سے چل رہی تھی۔ جنوں کی انگلی تھامے وہ کسی انجانی منزل کی طرف جا رہی تھی۔ جستجو کے سفر میں اسے کسی دکھ کسی آزار کی پرواہ نہیں تھی۔ یخ بستہ راستوں کی طویل مسافت کا احساس اس کے چہرے پر نمایاں تھا مگر وہ بھاگ رہی تھی۔ کسی درد، کسی دوا کسی وعدے کسی امید کا عنوان بنے بغیروہ تیز تیز بھاگ رہی تھی۔ راستے میں خوبصورت پیرہن میں سجی سنوری، گیسوو رخسار غنچہ دہن سینکڑوں نظمیں، ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے آسودہ و نا آسودہ درجنوں دوہے جو آج سارے جھگڑوں کو گھر پہ کہیں رکھ آئے تھے۔ سرو قامت، عشق و لڑکپن میں سرشار کئی قطعات اسے وحشت سے بھاگتا دیکھ رہے تھے۔

Read more

بازار سخن میں آمد

الفاظ کا بھی اپنا جہاں ہوتا ہے۔ نسل در نسل معنی کی تلخ و شیریں یادیں لئے یہ سفر کرتے ہیں۔ کبھی یہ سفر ان کو ادب کے پر رونق بازار میں لے جاتا ہے۔ جہاں ان کا ملاپ ایک الگ کشش اور منفرد رنگ و بو لئے ہوئے مزید الفاظ سے ہوتا ہے۔ ان کو نئے معنی ملنے لگتے ہیں۔ آبرو بڑھنے لگتی ہے۔ تحسین اور واہ واہ ملنے لگتی ہے۔ ان کا حسن نکھرنے لگتا ہے۔ نئے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ نئی منزلیں متعارف ہونے لگتی ہیں۔

Read more