انصاف کا نظام اور پارلیمانی ترجیحات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کا سیاسی نظام بنیادی طور پر عدم انصاف کے نظام پر کھڑا ہے۔ یہ کسی ایک ادارے کی ناکامی نہیں بلکہ مجموعی طور پر ریاستی، حکومتی اور ادارہ جاتی نظام کی ناکامی ہے۔ کیونکہ کوئی بھی ناکامی کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوتی۔ ہر ناکامی کا تعلق مختلف معاملات سے جڑا ہوتا ہے اور کوئی بھی فریق یا ادارہ خود کو اس ناکامی سے بری الزمہ قرار نہیں دے سکتا۔ وجہ صاف ہے کہ جب ریاست کے مجموعی نظام میں انصاف کی فراہمی بڑی سیاسی ترجیحات کا حصہ نہ ہو تو انصاف پر مبنی نظام نہ صرف اپنی افادیت کو کھودیتا ہے۔ ایسے نظام کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ انصاف کا نظام دوہرا بھی ہے اور طاقت ور کمزور کے درمیان فرق بھی رکھتا ہے۔ ایسے نظام کو سیاسی لغت میں انصاف پر مبنی طبقاتی نظام سے تشبیہ دی جاتی ہے۔

فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں ہونے والی نیشنل کانفرنس ”فوری انصاف معینہ کم معیاد میں کریمنل مقدمات کے فیصلے کرنے کے روڈ میپ“ سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے چند بنیادی نکات اٹھائے ہیں، جو قابل غور ہیں۔ اول بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ ہماری سیاسی اور پارلیمنٹ کی ترجیحات کا حصہ نہیں ہے۔ دوئم ہم نے فوری انصاف کی فراہمی کے تناظر میں پارلیمنٹ میں 17 رپورٹس پیش کیں، ایوان نے کسی پر مکمل عمل نہیں کیا۔

سوئم امریکی سپریم کورٹ سا ل میں 80 جبکہ برطانوی 100 مقدموں کا فیصلہ کرتی ہے، مگر اس کے برعکس ہم نے سال میں 26 ہزار مقدمات نمٹائے ہیں، ججوں کو ڈو مور نہیں کہہ سکتے۔ چہارم ہم پارلیمنٹ اور تمام ارکان اسمبلی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ عدلیہ کی طرح قوم کو سستا اور فوری انصاف کی فراہمی میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کی قانون سازی کریں۔ پنجم موجودہ عدالتی پالیسی ہم نے یہ بنائی ہے کہ اب وکیل کے ہونے یا نہ ہونے سے سماعت نہیں رکے گی، گواہوں کو پیش کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوگی چند روز میں فیصلہ ہوگا اور جانشینی کے لیے سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کے لیے عدالتوں میں جانا نہیں ہوگا۔

بنیادی طور پر چیف جسٹس نے قومی سیاست، پارلیمنٹ، حکومت اور سیاسی قیادت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ انصا ف کے نظام میں حائل رکاوٹیں ختم کرنے میں عدم دلچسپی کا شکار ہیں یا ان کی ترجیحات میں انصاف کا نظام نہیں ہے۔ عمومی طو رپر انصاف کا نظام عدلیہ، حکومت اور اداروں کے باہمی تعاون یا اصلاحات سمیت نئی پالیسیوں، قانون سازی یا عملدرآمد کے نظام میں موثر تبدیلیوں سے جڑا ہوتا ہے۔ لیکن کیونکہ ہمارا پارلیمانی نظام کی افادیت وہ نہیں جو کسی پارلیمانی جمہوری نظام کا خاصہ ہوتا ہے۔

مسئلہ محض عدالتی نظام یا انصاف تک محدود نہیں بلکہ ہم کسی بھی شعبہ میں درکار اصلاحات کا تجزیہ کریں تو پارلیمان کا کردار بہت محدود اور کمزور سمیت عدم ترجیحات کا شکار نظر آتا ہے۔ جب یہ کہا جاتا ہے کہ ملک میں حکمرانی کا نظام شفافیت اور جوابدہی یا احتساب سے جڑا ہوا نہیں ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ ہمارے عدالتی نظام کی کمزوریاں ہیں۔ کیونکہ جب ملک میں اداروں کے مقابلے میں طاقت ور افراد کی حکمرانی ہوگی تو ادارے افراد ہی کے آگے تابع ہوتے ہیں جو شفاف جمہوری حکمرانی کے نظام میں بنیادی رکاوٹ کے زمرے میں آتا ہے۔

ہماری سابقہ اور موجودہ حکومت نے انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے جو عدالتی اصلاحات کرنی تھیں تاکہ فوجی عدالتوں کے مقابلے میں عدالتوں کو مضبوط اور فعال کرنا تھا اس پر بھی کوئی خاطر خواہ کام نہیں ہوسکا۔ اب اگر چیف جسٹس کا یہ موقف ہے کہ وہ عدالتی نظام میں اصلاحات کے تناظر میں پارلیمنٹ کے سامنے 17 رپورٹس پیش کرچکے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ پارلیمنٹ اور حکومت وہ کچھ نہیں کرسکی جو اس کی بنیادی ذمہ داری تھی۔ بدقسمتی سے ہم نے پارلیمنٹ کو قانون سازی، پالیسی سازی یا اہم قومی مسائل پر بات چیت کے فورم کی بجائے اسے ایک ڈیبیٹنگ کلب بنادیا ہے۔ یہ کلب محض الزام تراشیوں، گالم گلوچ اور ایک دوسرے کو قبول نہ کرنے کا ایسا فورم بن چکا ہے جس سے ہماری پارلیمانی سیاست کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہورہا ہے۔

پارلیمانی نظام کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ اس میں حکومت اور حزب اختلاف دونوں اپنی اپنی سطح پر ایک ایسی فعالیت کا کردار ادا کرتے ہیں جس کا مقصد ملک میں اچھی حکمرانی، قانون سازی اور اصلاحات کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ لیکن ہماری پارلیمانی ترجیحات میں ذاتیات کی سیاست کو غلبہ حاصل ہوگیا ہے۔ وزیر اعظم پارلیمنٹ میں آنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے۔ نواز شریف کے بعد عمران خان بھی پارلیمنٹ میں شریک ہونا ضروری نہیں سمجھتے۔

جب وزیر اعظم پارلیمنٹ میں اپنی شرکت کو یقینی نہیں بنائے گا تو اس کا براہ راست اثر حکومتی وزرا، ارکان اسمبلی اور حزب اختلاف کے لوگوں کی بھی عدم دلچسپی کو نمایاں کرتی ہے۔ پارلیمانی نظام کی ایک خوبی پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹیاں ہوتی ہیں، لیکن ان کوبھی دیکھا جائے تو بظاہر لگتا ہے کہ سب کچھ روایتی انداز سے چلایا جارہا ہے۔

اصل میں ہمارے پارلیمانی نظام کی کمزوری یہ ہے کہ اس میں جو لوگ منتخب ہوکر آتے ہیں ان کی ترجیحات میں قانون سازی، پالیسی سازی کبھی بھی اہم نہیں۔ ان کا علم، معلومات اور سنجیدہ معاملات پر گفتگو کبھی بھی ایجنڈا نہیں۔ ان کا موضوع بحث ترقیاتی فنڈ کا حصول، ذاتی مفاد پر مبنی سیاست یا اپنی جماعتوں کی جھوٹ پر مبنی ترجمانی کے سوا کچھ نہیں۔ کیونکہ پارلیمانی نظام کی ایک بڑی کنجی مضبوط سیاسی نظام ہوتا ہے۔ سیاسی نظام سے مراد مضبوط سیاسی جماعتوں کا ہونا اہم ہوتا ہے۔

لیکن جب سیاسی جماعتیں ہی اپنی افادیت کھودیں اور ان کو غیر جمہوری عمل سمیت خاندانوں کی بنیاد پر چلایا جائے گا تو جمہوری سیاست کا تماشا بننا فطری امر ہوگا۔ پارلیمانی ارکان کو اہم قانونی اور سیاسی معاملات پر کوئی بریفنگ بھی نہیں دی جاتی اور نہ ہی یہ لوگ دلچسپی ظاہر کرتے ہیں۔ سیاسی اور قانونی ماہرین اور ارکان پارلیمنٹ کے درمیان بھی ہمیں کوئی خاص تبادلہ نظر نہیں آتا۔ کچھ لوگ ذاتی حیثیت میں فعالیت دکھاتے ہیں، جو ان کا اپنا شوق ہوتا ہے۔ کیونکہ اس نظام میں پارٹی قیادت اپنے ارکان سے بس یہ ہی توقع رکھتی ہے کہ وہ صرف اور صرف ان کے ایجنڈے کو تقویت دیں۔ اگر اس ایجنڈے میں قومی مسائل نظرانداز بھی ہوجائیں تو قیادت کو کوئی فکر نہیں ہوتی۔

اس لیے جو ماتم یا دکھ کا اظہار چیف جسٹس نے کیا ہے وہ محض ان کا دکھ ہی نہیں ہے۔ ہر معاملہ پر پارلیمانی نظام کی افادیت کمزور ہوگئی ہے۔ البتہ جہاں حکومت، حزب اختلاف باہمی طو رپر یکجا نظر آتے ہیں وہ ان کی ذاتی مراعات پر ہونے والی قانون سازی ہوتی ہے۔ یہ عمل اور بھی زیادہ پریشان کرتا ہے۔ جب ہماری قیادت جمہوری، سیاسی، قانونی بالادستی، پارلیمانی خود مختاری، عوامی مفاد پر مبنی نعرو ں کی بنیاد پر شور مچاتی ہیں تو کاش وہ اپنے داخلی مسائل، تضادات اور بدنیتی کا بھی جائزہ لیں کہ وہ خود کیا کررہے ہیں۔

بدقسمتی سے اس ملک کی سیاست جس انداز سے چل رہی ہے اس کا ایک بڑا نتیجہ عام لوگوں، مختلف شعبہ جات کے ماہرین اور پارلیمنٹ کے درمیان عدم اعتماد یا بڑھتی ہوئی خلیج کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔ یہ جو سیاسی نظام میں لوگوں کی مایوسی ہے اس کی وجہ بھی ہماری پارلیمنٹ، حکومت اور حزب اختلاف کاوہ رویہ ہے جو ان کو عام آدمی سے لاتعلقی پر مجبور کرتا ہے۔

سیاسی، جمہوری اور پارلیمانی نظام کی ساکھ سیاسی نظام سے جڑی ہوتی ہے۔ یہ سیاسی نظام براہ راست عوامی مفاد سے جڑا ہوتا ہے، لیکن اگر ہماری مجموعی سیاست عوامی مفاد سے مختلف ہے تو سیاسی نظام محض خوش نما نعروں کی بنیاد پر کھڑا نہیں رہ سکتا۔ عدالتی نظام کی تقرریوں سے لے کر پورے ریاستی، حکومتی اور ادارہ جاتی تقرریوں کا نظام عملا سیاسی مداخلتوں سے جڑا ہوا ہے۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ موجودہ چیف جسٹس فوری انصاف کے حامی ہیں اور ماڈل کورٹس کا قیام بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ لیکن جب تک ہمارے عدالتی اور انصاف کے نظام پر حکومت پیچھے اپنی سیاسی کمٹمنٹ کے ساتھ کھڑی نہیں ہوگی اور اداروں کو مضبوط بنانا اس کی ترجیح نہیں ہوگی تو کوئی بڑا کام ممکن نہیں ہوسکے گا۔

اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے پارلیمانی نظام کی داخلی کمزوریوں کا درست انداز میں تجزیہ کریں اور ایسے امور کی نشاندہی کرکے ایک درست حکمت عملی اختیار کریں جو ہمیں بہتر نظام حکمرانی کی طرف لے جاسکے۔ لیکن کیا موجودہ سیاسی نظام اور اس سے جڑے فریق ایسا کچھ کرنے کا عزم رکھتے ہیں تو اس کا جواب بہت کمزور نظر آتا ہے اور یہ ہی ہماری سیاست کا المیہ بھی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •