میڈیا، سیاست اور ہمارے بچے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہتے ہیں بچے من کے سچے ہوتے ہیں۔ اور بچے غیر سیاسی بھی تو ہوتے ہیں۔ بچوں کو طوطے بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ جو سنتے ہیں، وہی بولتے ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو کیا ہم اور ہمارا میڈیا دونوں مل کے اپنے بچوں کو کیا بولنا اور سمجھنا سکھا رہے ہیں۔ کسی بھی چینل کو اٹھا لیں ہر چینل والے روزمرہ خبروں کو خوب گرم مسالہ لگا کے پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ خبروں کا ایسا جال نہ صرف بڑوں بلکہ آج کے بچوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لئے نظر آتا ہے۔

اب تو ایک دو اور تین سال کے بچے جن میں جنس کی تقسیم بھی نہیں سیاسی نعرے لگاتے اور باتیں کرتے نظر آتے ہیں۔ ویسے تو سیاست کوئی بری چیز نہیں ہوتی ہے۔ لیکن اس ننھی عمر جس میں صرف کھلونے اور کھیلنے کی باتیں ہونا چاھئے تھیں، اس عمر میں سیاسی نعرے لگانے کا مطلب یا تو ہمارا معاشرہ اور پیار ا وطن بہت ہی میچور ہو چکا ہے۔ یا پھر ہمیں ہوش ہی نہیں ہے، کہ اپنے بچوں کے ساتھ کیا ظلم کرتے جا رہے ہیں۔

ایک زمانہ تھاجب صرف سرکاری ٹی وی چینل ہوتا تھا۔ اس میں معاشرے کے ہر رنگ کی عکاسی ہوتی تھی۔ بچوں کے کارٹون اور پروگرامز الگ، ڈرامہ اور فلم کے لئے ٹائم الگ، خبرنامہ بھی اپنے وقت کے مطابق چلتا تھا۔ جس میں کسی ٹائم صرف ہیڈ لائنز ہوتاتھیں اور کسی وقت مکمل خبریں تفصیل سے سننے کو ملتی تھیں۔ اور اسی روزمرہ روٹین میں جہاں مزا آتاتھا، وہیں ہر عکس معاشرے کا نمایاں دکھائی دیتا تھا۔

پھر ماڈرن ازم اور آزادی کے نام پہ دھڑ ا دھڑ چینلزکھلنا شروع ہوئے، پہلے پہل صرف نیوز چینلز کا آغاز ہوا، جسے دیکھتے ہوئے لگا کہ ہم نئے دور میں داخل ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ جدت کے ساتھ خبرنامہ پیش کیا جانے لگا۔ ہیڈلائنز کو پیش کرنے کا جدید طریقہ دکھائی دینے لگا۔ اس جدت کو دیکھ دیکھ دل خوش ہوتا گیا۔ محسوس یہ ہورہا تھا، کہ اب ہر شعبہ زندگی کو ماڈرن چینلز والے اختیار کریں گے اور بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ خبروں کو پیش کرنے میں جدت تو آتی گئی بلکہ ان چینلز پہ بے تحاشا مہنگے اشتہارات نے مزید گروپس جن کے پاس بزنس یا پیسہ تھا انہیں ترغیب دی، اور ہر نئے مہینے کے ساتھ نئے چینل کا افتتاح ہوتا گیا۔

ہر نئے چینل کا دل لبھا دینے والا اسٹائل ہوتا تھا۔ چینلز کے بڑھنے کی صورت میں مقابلہ کی فضاء قائم ہو گئی۔ جو اچھی بات تھی۔ لیکن بری بات یہ مقابلہ صرف اور صرف اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لئے تھا۔ جب کہ عوام کا اس میں کوئی حصہ نہ تھا۔ دراصل ہونا یہ چاہیے تھا کہ ہر چینل صر ف خبرنامہ تک محدود نہ رہتا بلکہ زندگی کے باقی رنگوں کو بھی نمایا ں کرتا رہتا۔ شاید برتری لے جانے کی خواہش نے ان چینلز والوں کو کبھی کسی اور پہلو سوچنے کاموقع نہیں دیا۔

کچھ چینلز نے نیوز کے علاوہ ڈرامہ نگاری کو فروغ دیا۔ جو حوصلہ افزاء بات ہے۔ لیکن اس ساری دوڑ اور رینکنگ میں ہم اپنی موجودہ پروان چڑھتی نسل کو کہیں بھول گئے ہیں اس نسل نے ہی آگے چل کے اس ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے۔ وہ ہیں ہمارے غیر سیاسی بچے، لیکن تمام چینلز میں ماسوائے ایک آدھ کے کسی نے بھی فن، علمی اور ادبی پروگرامز کا آغاز نہیں کیا، جو ہماری بڑھتی ہوئی نسل کو ان کی عمر کے مطابق کچھ دکھا سکے۔

اس کا نتیجہ اس صورت نکل رہا ہے۔ کہ بچپن اوراس عمر کی باتیں، حرکتیں اور شرارتیں کہیں دور کھو سی گئیں ہیں۔ روزانہ کی بنیا دپہ ہیڈ لائنز، اور تفصیلی خبریں سن سن بچے بھی سیاسی ہوتے جار ہے ہیں۔ جس عمر میں جو ضروری اور فطرتی ہو وہی انسان کو ملنا چاہیے۔ ورنہ وقت سے پہلے ملی عقل اور سمجھ بھی بہت سے نقصانات کا سبب بن سکتی ہے۔ اپنے بچو ں کو ان کا بچپن اور شرارتیں واپس دلانے کی اشد ضرورت ہے۔ تمام نیوز چینلز کو بچوں کی سطح کے پروگرامز، ڈرامہ، فلم اور دیگر سرگرمیوں کو شروع کروانے کی جانب توجہ مبذول ہے۔ ہمارے معاشرے میں پہلے ہی آرٹ اور فنون لطیفہ کی کمی ہے۔ سکولز، کالجز اور یونیورسٹیز بھی اس سے خالی ہیں۔ جہاں کوئی کھل کر آرٹ کو ہوادینے کی کوشش کرتاہے۔ اسے بہت سی ہزیمت اٹھانا پڑتی ہے۔ کلچر تو ویسے بھی ختم ہو گیاہے۔ ورنہ اس کے اند ر رہتے ہوئے بھی کافی کچھ بچوں کے لئے نکالا جا سکتاہے۔ آخری بات،

بچے غیر سیاسی ہی اچھے لگتے ہیں۔ نئی پروان چڑھتی نسل کی تربیت اور اسے اس کی عمر کے مطابق ماحول میسر آنے کی طرف بڑھنا ہو گا۔ میڈیا کے اثرات بہت اندر تک پڑتے ہیں۔ جس کا فائدہ مثبت تبدیلی کی صورت بھی نکالا جا سکتا ہے۔ اور اپنے بچوں کو ان کا بچپن واپس دلایا جا سکتا ہے۔ شاید ریٹنگ کی گھمن گھیری اس بابت سوچ کو نہ لے کے جا ئے۔ لیکن جلد یا بدیر اس جانب سوچ بچار کرنا ہوگی۔ ورنہ فطری صلاحیتوں سے عاری نسل سامنے آتی جائے گی۔ اور ہم منہ بسورے کھڑے دکھائی دیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •