غربت امن کے لیے خطرہ ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بنگلہ دیش کے ماہرِ اقتصادیات محمد یونس نے 2006 کا امن کا نوبل انعام لینے کے بعد اپنے خطاب میں ساری دنیا کو مشورہ دیا کہ اگر وہ کرہِ ارض پر امن چاہتے ہیں تو انہیں ساری دنیا میں غربت اور بھوک کو مٹانا ہوگا۔ غربت انسان سے عزتِ نفس ہی نہیں چھینتی بلکہ اسے اپنے انسانی حقوق سے بھی محروم کر دیتی ہے۔ بھوکے انسان زندگی سے اتنے تنگ آ جاتے ہیں کہ عالمی امن کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔

محمد یونس 1940 میں چٹاگانگ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ زمانہِ طالب علمی میں ہی سماجی کارکن بن گئے تھے۔ انہوں نے 1961 میں معاشیات میں ایم اے کیا اور پھر امریکہ کا رخ کیا۔ 1965 میں انہوں نے معاشیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ پہلے تو وہ مختلف درسگاہوں میں پڑھاتے رہے لیکن 1974 کے قحط نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ یونیورسٹی میں پڑھانے کی بجائے غریبوں کی مدد کرنے سے وہ انسانیت کی بہتر خدمت کر سکتے ہیں۔

1976 میں جوبرا کے ایک گاؤں میں ان کی ملاقات ایسی عورتوں سے ہوئی جو بمبو سے فرنیچر تو بناتی تھیں لیکن مالی حوالے سے تنگ دست تھیں۔ محمد یونس نے مقامی بینکوں سے کہا کہ وہ ان خواتین کو قرضہ دیں لیکن بینکوں نے انکار کر دیا کیونکہ وہ ان عورتوں کو نہایت غیر ذمہ دار سمجھتے تھے۔

محمد یونس نے ایک سماجی تجربہ کیا اور خود اپنی جیب سے 42 عورتوں میں سے ہر عورت کو 27 ڈالر کا قرض دیا۔ ان قرضوں سے وہ عورتیں نہ صرف اپنے کاروبار میں کامیاب ہوئیں بلکہ انہوں نے قرض کی رقم واپس بھی کر دی۔ اس ردِ عمل سے محمد یونس کی ہمت بندھی حوصلہ بڑھا اور انہوں نے یہ سلسلہ دراز کرتے ہوئے 1983 میں گرامین بینک کی داغ بیل ڈالی۔

1983 سے 2006 تک ’جب محمد یونس کو نوبل کا امن انعام ملا‘ گرامین بینک سات ملین عورتوں کو چھ بلین ڈالر کے قرضے دے چکا تھا۔ گرامین بینک کی تحریک اتنی کامیاب ہوئی کہ اب اسے دنیا کے دیگر ممالک نے بھی اپنا لیا ہے۔

محمد یونس کا مشاہدہ اور تجربہ یہ ہے کہ عورتیں مردوں سے زیادہ ذمہ دار ہوتی ہیں وہ نہ صرف قرض کی رقم واپس کرتی ہیں بلکہ اپنے کاروبار سے اپنے بچوں کو بھی خیال رکھتی ہیں۔ اس طرح پورا خاندان ان کے کاروبار سے استفادہ کرتا ہے۔

محمد یونس نے ایسے بھکاریوں کی بھی مدد کی ہے جو اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے بارے میں سنجیدہ تھے۔ ان کی کوشش سے بہت سے بھکاری کامیاب کاروباری انسان بن چکے ہیں اور ایک باعزت زندگی گزارتے ہیں۔

محمد یونس نے کاروباری خواتین کے بچوں کی بھی مدد کی ہے تا کہ وہ غربت اور افلاس سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا حاصل کریں۔ گرامین بینک اب تک تیس ہزار بچوں کو سکالرشپ دے چکا ہے تا کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں۔ محمد یونس کا خیال ہے کہ تعلیم غربت کے چکر سے نکلنے کا موثر طریقہ ہے۔

محمد یونس کا خیال ہے کہ گلوبلائزیشن انسانیت کے لیے ایک MIXED BLESSING ہے کیونکہ اس کے فوائد بھی ہیں اور نقصانات بھی۔ اس سے جہاں بہت سے لوگوں کے نئے مواقع ملے ہیں وہیں بہت سے لوگوں کے مواقع چھن بھی جاتے ہیں۔ فری مارکٹ اکانومی ایک سو لینز کی شاہراہ ہے جہاں سرمایہ داروں کے بڑے بڑے ٹرک تو آگے نکل جاتے ہیں لیکن غریبوں کے چھوٹے چھوٹے رکشے یا تو پیچھے رہ جاتے ہیں اور یا تباہی کے کھڈ میں گر جاتے ہیں۔ محمد یونس نے سوشل بزنز کا فلسفہ پیش کیا ہے جس میں منافع تمام کام کرنے والوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ اس طرح مزدوروں کا حوصلہ بڑھتا ہے اور ان کی زندگی میں امید کی شمع جلتی ہے۔

محمد یونس کا خواب ہے کہ ایک دن ہم سب مل اس انسانوں کی دنیا سے غربت مٹا دیں گے اور اسے عجائب گھروں میں بھیج دیں گے۔

محبد یونس غربت اور بھوک کا ذمہ دار امیروں کو گردانتے ہیں جنہوں نے ایسے قوانین اور نظام بنائے ہیں جن کی وجہ سے دنیا میں معاشی ناہمواری ہے۔ یہ غیر منصفانہ نظام ہی امن کے لیے خطرہ ہیں۔

محمد یونس کا خیال ہے کہ غریبوں کے بچے BONSAI PLANTS کی طرح ہیں کیونکہ جب انہیں مناسب کھاد ’پونی‘ ہوا اور روشنی نہیں ملتی تو ان کی نشوونما رک جاتی ہے۔

محمد یونس اس دن کا خواب دیکھتے ہیں جب ساری دنیا سے غربت ’افلاس اور بھوک مٹ جائیں گے۔ محمد یونس کا خواب سب امن پسندوں کا خواب ہے اور جتنے زیادہ لوگ یہ خواب دیکھیں گے ہم اتنی جلد ہی اس خواب کو شرمندہِ تعبیر کر سکیں گے اور وہ دن دیکھ سکیں گے جب ساری دنیا میں ایک بھی بچہ رات کو بھوکا نہیں سوئے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 276 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail