کپتان کا بت ٹوٹ گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا تم خواب دیکھتے ہو؟ کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب خواب ٹوٹتا ہے تو اس کی کرچیاں جسم کو نہیں، روح کو زخمی کرتی ہیں۔

اور ہمارا خواب ٹوٹ گیا ہے !

ہم کپتان کی عالمی شہر ت اور کرشماتی شخصیت کے ساتھ ساتھ بڑے ہوے۔

ہمارے ہوسٹل کے تقریباً ہر کمرے میں کپتان کا پوسٹر لگا ہوتا تھا۔ ہر لڑکی نام لے کے آہیں بھر رہی ہوتی۔ کپتان کی ذاتی زندگی کی رنگین داستانیں ہر دل کو بھاتیں۔ وہ شادی کس سے کرے گا؟ کب کرے گا؟ نہ تھکنے والا موضوع تھا۔

ہمیں وہ دن بھی یاد ہیں جب ہم کالج کی کلاسوں سے بھاگ کے کپتان کا میچ دیکھنے قذافی سٹیڈیم جاتے تھے۔ ہر لڑکی یوں بنتی سنورتی، جیسے کپتان کھیلنے نہیں، بر چننے آ رہا ہے۔ وہ جب باؤلنگ کروانے کے لیے لمبا سٹارٹ لیتا، لوگوں کے دل کی دھڑکن رک رک جاتی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا لوگ کرکٹ نہیں، کپتان دیکھنے جاتے تھے۔

جیسے محبوب کو سات خون معاف ہوتے ہیں، ایسے کپتان کی فلرٹ بازی کی داستانیں کبھی لوگوں کا دل نہ توڑتیں۔ کپتان بلاشک وشبہ پاکستان ہندوستان ہی نہیں، گوریوں کے دلوں کی بھی دھڑکن تھا جو بعد میں وقت نے ثابت بھی کیا۔

جب کپتان نے ورلڈ کپ جیتا، ایسے معلوم ہوا کہ اب وہ لوگوں کے دلوں کا دیوتا بن گیا ہے۔ اسے باقاعدہ پوجا گیا اور اس کے نتیجے میں شوکت خانم وجود میں آیا، ہیرو تو وہ تھا ہی، اب وہ دیو مالائی ہیرو بن گیا۔

وہ سیاست میں آیا، وہ سب جو خاندانی سیاست سے وجود میں آنے والی نرم گرم حکومتوں سے تنگ تھے، اس کے ساتھ ہو لیے، وہ بھی جو سمجھتے تھے کہ باہر کی دنیا کی آنکھ میں آنکھ ڈال کے بولنے والا ہی ہو گا، جو ہمیں نجات دلائے گا مغربی استعمار سے، جہالت سے، بھوک وننگ سے، فرقہ واریت سے، دہشت گردی سے۔

یہ خواب ہی تو تھے جو برسوں دیکھے گئے، جن کی آبیاری سب نے اپنے لہو سے کی۔ وہ خواب جو وقت کے ساتھ ساتھ چلا، سوتے جاگتے، زندگی کی کھٹنائیوں سے گزرتے، مزدوری کرتے، بھوک کاٹتے، سردی اور گرمی سے لڑتے، کھلے آسمان کے نیچے راتیں کاٹتے اور یہ یقین کرتے کہ اس اندھیری رات کا خاتمہ ضرور ہو گا۔ صبح نو نمودار ہو گی ایک دن۔

ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

برسوں لگے اعتبار قائم ہونے میں، برسوں بیت گئے قافلہ بنتے ہوئے اور سب ساتھ رہے اپنے ہیرو کے ساتھ پورے جتن سے۔ وہ رکا، ہم رکے، وہ چلا، ہم ساتھ تھے۔ جو اس کا دوست تھا، سجن بنا اور جو مخالف، وہ دشمن ٹھہرا۔ سب نے اپنی اس محبت پہ باقی کی محبتیں قربان کر دیں کہ یہ ہمارے خواب تھے اور خواب ہی تو زندہ رکھتے ہیں۔

اور پھر خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔

ہمیں معلوم تھاکہ تبدیلی راتوں رات نہیں آیا کرتی۔ ابھی وقت نہیں آیا تھا کہ وطن عزیز میں وہ سورج طلوع ہو، جہاں ظلم کا دور دورہ نہ ہو کہ نظام بدلنا آسان نہیں ہوا کرتا۔

لیکن ہمیں اس تبدیلی کا علم نہیں تھا جو ہمارے ہیرو میں آئی تھی۔ ہمارے ہیرو کی آواز گم ہو گئی تھی، وہ آواز جس نے غریبوں کے حقوق کے گیت گائے تھے، وہ آواز جس نے ظالموں کو للکارا تھا، وہ آواز جس نے ورلڈ کپ سے اب تک خواب دکھائے تھے، وہ آواز جو وقت کی ضرورت تھی، وہ آواز جس کو ہم نے عمر عزیز کے قیمتی سال دیے، کھو گئی۔

ہمارا ہیرو اب محلات کا باسی تھا اور محلات کے رہنے والوں کے اپنے ہی مسائل ہوا کرتے ہیں۔ محلات کی غلام گردشوں میں ہونے والی سازشیں باہر دیکھنے کا موقع ہی نہیں دیتیں، حواری اور وزیر و مشیر پردے کا منظر ہی نہیں بدلنے دیتے۔

وہ دیکھنے ہی نہیں دیتے کہ سفر کی کھٹنائیوں میں ساتھ دینے والے، اپنے ہیرو کو پلکوں پہ اٹھا کے چلنے والے لہولہان ہیں، وقت کے جبر کا شکار ہیں۔ وہ بند کر دیتے ہیں وہ سب کھڑکیاں، سب روزن دیوار جن سے وقت کے نوحے ماضی کے میر کارواں تک پہنچیں۔ وہ قائل کر لیتے ہیں ہیرو کو مصلحتوں کی ضرورت سے۔

اور ہمارا ہیرو خوفزدہ ہے گلے لگانے سے، آنسو پونچھنے سے، لاشے اٹھانے میں ساتھ دینے سے، ہمدردی کے دو بولوں سے، پرانے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھنے سے کہ یہ سب اس کے ماضی کا حصہ ہے، وہ ماضی جس سے اب وہ خوف زدہ ہے۔

یقینا تبدیلی آئی ہے لیکن سماج میں نہیں، نظام میں نہیں، غریب کی زندگی میں نہیں، بلکہ ان آدرشوں میں، ان خوابوں میں جو ٹوٹ گئے ہیں ۔

ہم شرمندہ ہیں اپنے آپ سے کہ ہم نے جس بت کو تراشا، سنگھاسن پہ بٹھایا اور برسوں پوجا، وہ، وہ نہ تھا۔ وہ تو ایک دہریہ عورت کے مقام تک کو نہ چھو سکا جو ایسے ہی قتل عام کے بعد آنسو بھی پونچھ رہی تھی اور اشکبار بھی تھی۔

سو ہم شرمندہ ہیں اپنے غم سے چور ہم وطنو سے، ساہیوال واقعے کے بچوں سے، ہزارہ لوگوں سے۔

ہم شرمندہ ہیں کہ ہم نے جو بت برسوں میں کھڑا کیا تھا وہ اتنی جلدی زمیں بوس ہو گیا۔ ہم نہیں جانتے تھے کہ وہ ریت سے بنایاجانے والا ہمارے بھاری آدرشوں کا وزن نہیں اٹھا سکتا ۔ نہ معلوم ہم قصوروار تھے یا تعمیر کے سفر میں ساتھ دینے والے سنگ تراشوں کی کم آگہی کہ ہم سب نے اپنی محبتیں، اپنی امیدیں، اپنے خواب نچھاور کر دیے تھے ایک ماضی کے ہیرو کے چرنوں میں ، اور وہ ہمارے ہاتھوں کا تراشا ہوا کمزور دیوتا ، ایک بھی ضرب کی تاب نہ سہنے والا نکلا۔

بت ٹوٹ گیا ہے، ریت اڑتی ہے، ہماری آنکوں کو زخمی کرتی ہے اور آنکھوں سے لہو ٹپک رہا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>