موجودہ نظام میں اصلاحات یا صدارتی طرز حکومت؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں آج کل یہ سوال زیربحث ہے کہ پارلیمانی نظام حکومت کی بجائے اب صدارتی نظام کا ہونا ناگزیرہوچکاہے۔ سبب اس کا یہ بیان کیا جارہا ہے کہ سات عشروں سے پارلیمانی نظام موجود ہے، لیکن ملکی مسائل حل کرنے میں ناکام۔ اب بعض لوگوں نے متبادل کے طور پرصدارتی نظام رائج کرنے کا مشورہ دیا ہے، لیکن بعض سیاسی رہنما اوردانشورصدارتی طرزحکومت سے اسی طرح نفرت کا اظہارکررہے ہیں جیسا کہ آمریت سے کرنا چاہیے۔ حالانکہ صدارتی نظام بھی جمہوری طرزحکومت ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں امریکا میں صدارتی نظام رائج ہے۔ تباہ حال اور جنگ زدہ ممالک میں افغانستان میں بھی صدارتی طرزحکومت ہے۔ اسی طر ح ترقی یافتہ ممالک میں برطانیہ میں پارلیمانی نظام رائج ہے، جبکہ ترقی پذیر ممالک میں پاکستان میں بھی پارلیمانی طرزحکومت ہے۔ دنیا میں کئی ایسے ممالک ہیں کہ جہاں پارلیمانی نظام کامیابی سے چل رہا ہے جبکہ کئی ممالک میں صدارتی نظام کامیابی کی ضمانت ہے۔ اب آتے ہیں اس سوال کی طر ف کہ پاکستان میں صدارتی طرزحکومت ضروری ہے یا مو جودہ نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں؟

گزشتہ سات عشروں سے پاکستان ”طرزحکمرانی“ کے نفاذ کی تجربہ گاہ رہی ہے۔ لیکن اس دوران ”بہترین طرز حکومت“ کی طرف قدم بڑھانے کے لئے کوئی خاص اقدامات نہیں کیے گئے۔ ملک میں پارلیمانی طرزحکومت ہے، جس میں پارلیمنٹ طاقت کا محورہوتا ہے، جس کا استعمال اور اظہار وزیراعظم اوروفاقی کابینہ کے ذریعے ہوتا ہے تو پھرشاہراہ دستور پروزیراعظم ہاوس کا پڑوسی ایوان صدرکیوں؟ دور جانے کی ضرورت نہیں گز شتہ دو عشروں کا جائزہ لیں۔

کیا پارلیمنٹ اور پارلیمانی نظام کے ہوتے ہو ئے 2001 ء سے 2008 ء تک اختیارات اورطاقت کا مرکز پارلیمنٹ اور وزیراعظم ہاوس کی بجائے ایوان صدرنہیں تھا؟ کیا صدرپرویزمشرف، وزیراعظم میرظفراللہ جمالی، وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین اور وزیراعظم شوکت عزیزسے طاقت ورنہ تھے؟ 2008 ء میں جب عام انتخابات ہو ئے۔ پیپلز پارٹی برسر اقتدارآئی، تو 2013 ء تک ایوان صدر، وزیراعظم ہاوس پر بھاری نہیں تھا؟ کیا وزیر اعظم یو سف رضا گیلانی اور وزیراعظم راجہ پرویزاشرف سے صدرآصف علی زرداری زیادہ طاقت ورنہیں تھے؟

2013 ء کے عام انتخابات کے بعد جب اقتدارنواز شریف کومل گیا توکیا طاقت اور اختیارات دوبارہ وزیراعظم ہاوس منتقل نہیں ہو ئے؟ کیا صدر مملکت ممنون حسین، وزیراعظم نو ازشریف سے کمزور نہیں تھے؟ 2018 ء کے عام انتخابات کے بعد جب اقتدار عمران خان کے سپرد کیاگیا تو کیا صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سابق صد ر ممنون حسین کی طرح کمزور نہیں؟ کیا 1988 ء سے 1999 ء تک ایوان صدراور وزیراعظم ہاوس کے درمیان طاقت اور اختیار کی جنگ تاریخ کا ایک کڑوا سچ اور سیاہ باب نہیں؟ میرا سوال یہ ہے کہ اگر پارلیمانی نظام میں مضبوط پارلیمنٹ، طاقت ور وزیراعظم اور فعال کابینہ کا ہونا ضروری ہے تو پھرصدرمملکت کا منصب ناگزیرکیوں؟ یہ منصب ملکی خزانہ پر بوجھ، جبکہ زیادہ تر ملک میں سیاسی انتشار کا سبب رہا ہے۔

کیا یہ حقیقت نہیں کہ شاہراہ دستور پرموجود قانون ساز ادارہ پارلیمنٹ (قومی اسمبلی اور سینیٹ) کے بالکل سامنے سڑک کے اس پاراسلامی نظریاتی کونسل کا ادارہ موجود ہے؟ اگر قانون سازی پارلیمنٹ کا کام ہے تو پھر اس کی موجودگی میں اوراداروں کاقیام سوالیہ نشان نہیں؟ اسی شاہراہ دستور پر انصاف فراہم کرنے کا سب سے بڑا ادارہ سپریم کورٹ آف پاکستان قائم ہے۔ لیکن اس کے بالکل سامنے وفاقی شرعی عدالت کی عمارت بھی موجود ہے۔

کیا یہ پو چھنا حق نہیں بنتا کہ اگر سپریم کورٹ ہے تو پھر وفاقی شرعی عدالت کی کیا ضرورت ہے؟ اگر وفاقی شرعی عدالت ہے تو پھر سپریم کورٹ کیوں؟ یہی حال صوبوں کا بھی ہے۔ ہر صوبہ میں منتخب وزیراعلی موجود لیکن صدر کا نمائندہ گورنر بھی؟ اگر وزیراعلی موجود ہے تو پھر گورنر کی ضرورت کیوں؟ موجودہ دور میں پنجاب کے وزیراعلی عثمان بزدار اور گورنر چوہدری سرور، خیبر پختون خوا کے وزیراعلی محمود خان اور گورنر شاہ فرمان کے درمیان طاقت اور اختیارات پر جاری چپقلش کسی سے پوشیدہ نہیں، حالانکہ دونوں کا تعلق ایک ہی پارٹی سے ہے۔

دونوں کو ایک ہی فرد نے نامزد کیا ہے، لیکن پھر بھی اختیارا ت کے لئے دونوں ہاوسزکے درمیان جنگ جاری ہے۔ وزیراعلی سندھ اور گورنر سندھ کے درمیان تعلقات بھی کسی سے پو شیدہ نہیں۔ جب وزیراعلی کے منصب پر منتخب شخص موجود ہے تو پھر گورنر کیوں؟ گورنر کا منصب نہ صرف صوبائی خزانہ پر اضافی بوجھ ہے بلکہ یہ صوبہ میں سیاسی انتشار کابنیادی مرکز بھی ہے۔

موجودہ نظام میں وفاق میں وزیراعظم اور صوبوں میں وزیراعلی طاقت ور منصب ہے لیکن وہ بھی پورے ملک یا صوبہ سے نہیں بلکہ ایک حلقہ سے ووٹ لے کر منتخب ہو تا ہے۔ کیا ضروری نہیں کہ وزیراعظم پورے ملک اور وزیراعلی پورے صوبہ سے ووٹ لے کر منتخب ہو؟ اگر پارلیمانی طرز حکومت میں پارلیمان بالادست تو پھر غیر منتخب افراد کا وفاق اور صوبوں میں فوج ظفر موج کیوں؟ وزیراعظم اور وزیراعلی کو یہ اجازت کیوں کہ انھوں نے غیر منتخب افراد کو مشیروں کی صورت میں پال رکھا ہے؟

اگر پارلیمان بالادست ہے تو پھر چیئرمین نیب کا تقرر کا اختیار صرف وزیراعظم اوراپوزیشن لیڈر کو کیوں؟ اگر پارلیمان بالادست ہے تو پھر چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دیگر ارکان کا تقرر وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کیوں کرتا ہے؟ اگر پارلیمنٹ بالادست ادارہ ہے تو پھر ہر پانچ سال بعد اس ادارہ کو ختم کرکے عام انتخابات کے لئے غیر منتخب افراد پر مشتمل عبوری حکومت کی تشکیل کیوں؟ اگر یہ نا گزیر بھی ہے تو پھر عبوری حکومت کے انتخاب کا اختیار صرف وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کو کیوں؟

اگر پارلیمنٹ منتخب عوامی نمائندوں کے لئے ہے تو پھر مخصوص نشستوں پر غیر منتخب اس کا حصہ کیوں؟ پاکستان کے پڑوس میں چین، افغانستان اور ایران میں صدارتی طرز حکومت رائج ہے لیکن وہاں عام انتخابات سے قبل پارلیمنٹ کو تحلیل کرکے عبوری حکومت نہیں بنائی جاتی۔ ہندوستان میں پارلیمانی طرز حکومت ہے لیکن وہاں ایوان صدر اور وزیراعظم ہاوس میں کبھی بھی اختیارات پر لڑائی نہیں اور نہ وہاں عام انتخابات سے قبل عبوری نظام، مطلب منتخب افراد کے انتخاب کے لئے غیر منتخب لوگوں کا سہارا لینے سے اجتناب کیا جاتا ہے۔ اگر پاکستان میں صدارتی طرز حکومت کو مو جودہ خامیوں کے ساتھ نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو انجام موجودہ نظام سے بھی بد تر ہو گا۔ اگر موجودہ نظام میں اصلا حات کرنے کی کوشش کی گئی تو پھر دونوں صورتوں میں کامیابی یقینی ہے اس لئے کہ پارلیمانی اور صدارتی نظام دونوں جمہوری طرز حکمرانی ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •