شہید کی ماں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دکھوں کا مداوا لفظوں سے زیادہ رویوں سے ہوتا ہے جوان بیٹے کی میت کے سامنے بیٹھی ماں کو کوئی جتنا بھی اپنے سینے سے لگا کر تسلی دے ڈالے اس کے آنسو خشک نہیں ہوتے۔ یہی حال جوانی کی بیوگی کا ہوتا ہے درد مرنے والے کا نہیں ہوتا اس کے مرنے کے بعد لاچار اور بے سہارا ہوجانے کا ہوتا ہے

رابعہ نے یہ دونوں دکھ دیکھے تھے کڑی جوانی میں بیوگی کی چادر اوڑھی تو کم سن بیٹے کا ہاتھ تھام لیا کہ اب اس کا سہارا بننا ہے اس نوخیز پودے کو تناور درخت بنانا ہے۔ جوانی کی بیوگی کی کڑی دھوپ کو اس نے بیٹے کی چھاؤں میں بیٹھنے کے خیال سے بتا ڈالا

اللہ نے بیٹا بھی اس کو ایسا کڑیل جوان دیا جس کی اٹھتے بیٹھتے نظر اتارتے وہ نہ تھکتی تھی۔ تعلیم، ذہانت فرمانبرداری ہر ہر معاملے میں اپنی مثال آپ تھا دسویں اور بارہویں دونوں جماعتوں میں ضلع میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور فوج میں بھرتی ہو گیا

جس دن پہلی بار یونیفارم پہن کر اس کے سامنے آیا تو رابعہ سارے علاقے میں چھاتی پھیلائے گھومتی پھری جیسے کہ اس کے سینے پر کوئی میڈل لگ گیا ہو۔ سارے پنڈ میں بنا پنکھ لگائے اڑتی پھری ہر ہر گھر میں اپنے بیٹے کو لے جا کر اس نے سلام کروایا

گھر آکر اس وقت تک اپنے لعل کی نظر اتارتی رہی جب تک کہ گھر کی ساری مرچیں ختم نہ ہو گئیں۔ ٹریننگ پر بھیجتے ہوئے بھی اپنے بیٹے کے جوان بازو پر اپنے کمزور ہاتھوں سے امام ضامن باندھتے ہوئے اس کو یہ یقین تھا کہ اس نے اپنے بیٹے کو امام کے حوالے کر دیا ہے اب وہی اس کی حفاظت کرئے گا

جب بھی کوئی پوچھتا کہ اماں ایک ہی بیٹا تھا وہ بھی فوج میں بھیج دیا اب کس کے سہارے زندگی کاٹے گی تو وہ کہتی کہ میرے بیٹے کے سہارے میرا سارا وطن سکھ کی نیند سوتا ہے میں بھی اسی کے سہارے ہوں

مگر جیسے بندوق کی گولی کبھی بھی کسی سے اس کا دین دھرم، اس کی ماں کی دعائیں اس کے بازو پر بندھے امام ضامن کو نہیں دیکھتی اسی طرح جنگ بھی اندھی ہوتی ہے جس کی لاٹھی کیسے کیسے جوانوں کو برباد کر ڈالتی ہے

ایسی ہی دشمن کے مورچے سے نکلی گولی جس پر رابعہ کے بیٹے کا نام لکھا تھا اس کے جوان سینے میں ترازو ہو گئی۔ خون کی بہتی دھاریں اس کی جوانی کے جوش کے ساتھ بہتی گئیں اور اس کی وردی کو اس وقت تک بھگوتی رہیں جب تک کہ اس نے اپنی جان مالک کے حوالے نہ کر ڈالی

جوان بیٹے کی لاش جب رابعہ کے دروازے پر پورے فوجی اعزاز کے ساتھ آئی تو رابعہ تو جیسے ڈھ سی گئی۔ تسلی دینے والوں کے لفظ کہیں گم ہو گئے ہر ایک کو یہی اندیشہ تھا کہ ایک جنازہ کے ساتھ دوسرا جنازہ بھی اٹھے گا

مگر رابعہ تیزی سے تابوت کی جانب بڑھی اور اس میں سے اپنے بیٹے کے بازو پر بندھے امام ضامن کو جدا کرتے ہوئے بس یہی کہہ سکی کہ کاش میرا ایک بیٹا اور ہوتا!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •