کندھ کوٹ کے عوام کے مسائل


کندھ کوٹ شہر کشمورضلع کا ہیڈ کوارٹر شہر ہے، تین لاکھ آبادی پر مشتمل ہے، جبکہ ضلع کشمور کے اندر تین تحصیل ہیں جن میں کشمور، کندھ کوٹ اور تنگوانی شامل ہے، کشمور ضلع کی آبادی گیارہ لاکھ پر مشتمل ہونے کے باوجود بھی بنیادی سھولیات سے آج بھی محروم ہے، اگر بات کی جائے صحت کی تو کندھ کوٹ میں قائم سول اسپتال میں کسی بھی قسم کا کوئی علاج موجود نہیں، ادویات ناپید ہیں، یہاں کے عوام دربدر ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹرز کی غیر موجودگی جبکہ اپنی پرائیویوٹ کلنکس پر سارا وقت پیسہ کمانے کے لئے بیٹھے رہتے ہیں، جن سے کوئی پوچھتا نہیں، اپنی کلینکس پر ڈاکٹرز اپنے من پسند ریٹ مقرر کرکے یہاں کی عوام کو مختلف بیماریوں کی مد میں لوٹتے رہتے ہیں، اسی طرح کندھ کوٹ میں انڈس ہائی وے مقام پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال کا تعمیراتی کام بھی بندش کا شکار ہوگیا ہے، 200 بستروں پر مشتمل اس اسپتال کی بنیاد 2013 میں مرحوم صوبائی وزیر میر ہزار خان بجارانی نے رکھی تھی، اس کا خواب تھا کہ کندھ کوٹ کے عوام کو علاج کی سہولیات فراہم کی جائے۔

مگر میر ہزار خان بجارانی حقیقی مالک سے جا ملے اور اس اسپتال کا کام 6 سال گزر جانے کے باوجود بھی مکمل نہ ہوسکا، عوام صحت کی بنیادی سھولیات سے محروم دور دراز شہروں میں سفر کرکے علاج کرانے پر مجبور عوام سکھر، رحیم یار خان، لاڑکانہ جاتے ہوئے نظر آتے ہیں، افسوس کہ پاکستان پپلز پارٹی کے عوامی نمائندگان کندھ کوٹ کی عوام کو لاورث بنا کر خود عیاشیاں کرنے میں مصروف ہیں۔ آج اس دور میں جہاں پر وفاق میں تبدیلی کے نعرے گونج رہے ہیں، تو دوسری جانب سندھ میں وہی دور وہی پرانے لوگ وہی سرداری نظام سے متاثر عوام دہائیاں دے رہے ہیں، اب اگر سندھ میں تبدیلی آئی تو پی ٹی آئی کو نظر کرنی چاھئے کہ یہاں کے عوام کے مسائل کا حل نکالا جائے پھر کہا جا سکے گا کہ تبدیلی آئی نہیں، بلکہ تبدیلی آگئی ہے!

Facebook Comments HS