عورت کانفرنس کی عورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”فیس بک پر اسے میسیج کرتے وقت میرے ذہن میں صرف یہ تھا کہ وہ ایک عورت ہے، شاید اس ناتے میرے لیے کچھ کر سکے۔ مجھے لکھنے کے لیے کوئی پلیٹ فارم چاہیے تھا اور وہ سالوں سے ایک خبری ادارے سے وابستہ تھی، سو مدد اور رہنمائی کی گزارش کے ساتھ میں نے اسے اپنا موبائل نمبر بھی بھیج دیا اور جواب کا انتظار کرنے لگی۔ کچھ دن بعد اس کا جواب آیا اور میرے اندر مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ میں نے بے قراری سے ان باکس کھولا، لیکن جواب پڑھتے ہی میں سناٹے میں رہ گئی۔

مجھ پر گھڑوں پانی پڑ گیا، شرمندگی سے اپنی ہی نظروں میں گر گئی۔ مجھے اس نے موبائل نمبر بھیجنے جانے پر بہت بری طرح جھاڑا اور بے مہار بے عزتی کرنے کے بعد یاد دلایا کہ کیوں کہ میں ایک عورت ہوں لہٰذا اپنے وقار کا خیال رکھوں اور آئندہ اس سے رابطہ نہ کروں۔ سالوں سے گوناگوں مشکلات سہنے والی میری انا ایک عورت کے ہاتھوں یہ بے عزتی برداشت نہ کر پائی اور میں نے اپنی ڈگری دیکھی نہ خاندان میں کسی کی سنی۔ ایک دکان کرائے پر لی اور اپنے گھر سے سلائی مشین اور کارپیٹ اٹھا کر دکان سجا لی اور اپنے سارے خوابوں کو آگ لگا دی۔ بھلا ایک عورت بھی دوسری عورت کی ایسی ذلت کر سکتی ہے، لیکن شاید یہ کام ایک عورت ہی کرسکتی ہے۔ ”

کئی سال بعد جب میری سہیلی نے علاقے میں درزی کی دکان کھولنے کا یہ دردناک پسِ منظر بتایا تو میں اس ”مشہور“ لکھارن کا نام پوچھے بنا نہ رہ سکی، جس سے راہ نمائی کی امید میں اس نے ایسی ذلت پائی تھی اور وہ نام سن کر میرے ہونٹوں پر بے ساختہ مسکراہٹ آگئی، کیوں کہ میں بہت ساری وجوہات کی بنا پر لاشعوری طور پر اسی نام کی توقع کر رہی تھی۔ آج میری وہ دوست ایجوکیشن افسر کے طور پر سرکاری جاب حاصل کر کے اپنی محنت کا ثمر پاچکی ہے لیکن خود کو بڑی رائٹر سمجھنے والی وہ خاتون آج تک آگے بڑھنے کے لیے مضبوط مردانہ کاندھے تلاش کرتی پھرتی ہے۔

میری سہیلی کو عورت ذات کے تقدس کا احساس دلانے والی خود شہرت کی ہوس میں آئے دن اپنے نسوانی تقدس کو پامال کرتی ہے اور گردن جھٹک کے یوں آگے بڑھ جاتی ہے گویا اپنے معاملے میں یہ تقدس ”مائی فُٹ“ سے زیادہ کچھ اہمیت نہ رکھتا ہو۔ اس رویے سے مجھے کبھی حیرت نہیں ہوئی، یہ تو فقط ایک مثال ہے۔ اس دنیا میں ایسی بے شمار خواتین اور مرد حضرات موجود ہیں جو اپنی صلاحیتوں کو پہچان پاتے ہیں اور نہ نکھار پاتے ہیں، آگے بڑھنے کے جنون میں صرف دوسروں کا درد سر ہی بنے رہتے ہیں۔

ایسے لوگوں کو معاشرہ اس وقت تک درگزر کیے رکھتا ہے جب تک ان کے عیوب صرف ان کی ذات کوکھوکھلا کرنے تک محدود رہتے ہیں، جوں ہی یہ لوگ چولا بدل کر مصلح قوم بننے لگتے ہیں یا دین کا لبادہ اوڑھ کر مذہب کے ٹھیکے دار بن کر ذاتی فائدے کشید کرنے کی سعی کرتے ہیں، اس وقت یہ پورے معاشرے کے مجرم بن جاتے ہیں۔ اس بات کا ادراک آج مجھے بہت شدت سے ہوا۔

جانے قسمت بری تھی یا اچھی کہ میں کسی کے بے حد اصرار پر ایک بڑی دینی جماعت کے تحت کراچی شہر میں ہونے والی خواتین کانفرنس میں شرکت کے لیے چلی گئی۔ شاید لے جانے والی خاتون کا نیک مقصد مجھ جیسی ”دنیا دار“ عورت کی اسلامی خطوط پر تربیت کرنا تھا، سو میں نے ان کی نیکی کو ضایع ہونے سے بچا لیا اور آدھے گھنٹے کی مسافت طے کر کے ”موقع واردات“ پر جا پہنچی۔ سو سے بھی کم خواتین ایک ہال میں موجود تھیں۔ اس خالص زنانہ اسلامی کانفرنس کے مذاکرے میں، شرکاء کی فہرست میں انہی موصوفہ کا نام دیکھ کر میرے دماغ کا فیوز بلب جل اٹھا اور ان کی نسوانیت کے ہاتھوں بری طرح ڈسے تمام چہرے میری نظروں کے سامنے گھومنے لگے۔

اور میں انتہائی تاسف کے ساتھ اپنے بچے کھچے دین کو پلو میں چھپا کر وہاں سے لوٹ آئی۔ راستے بھر مجھے اس دینی جماعت کی قسمت پر افسوس ہوتا رہا اور اس کے مایوس مستقبل کے امکانات مزید روشن نظر آنے لگے۔ شہرت کی بھوک میں اخلاقی اقدار کو گروی صرف ایک فرد ہی نہیں بلکہ پوری پوری جماعتیں بھی رکھوا دیتی ہیں۔ گھر پہنچنے تک مجھے یقین ہوچکا تھا کہ جس دینی جماعت کے دامن میں اپنا نمائندہ بنا کر لوگوں کی اصلاح کی خاطرپیش کرنے کے لیے ایسے رول ماڈلز ہوں، وہ ستر سال تو کجا ستر صدیوں بعد بھی تنکا برابر تبدیلی نہیں لاسکتی۔

میں مذہب بے زار ہرگز نہیں لیکن دین کے نام پر شہر میں یہ تماشے اور ذاتی فائدوں اور شہرت کے حصول کے لیے یہ ڈھکوسلے مجھے کبھی نہیں بھائے۔ میں ان تماشوں سے خود کو دانستہ دور رکھتی ہوں۔ ان اجتماعات سے کہیں پرے اپنے دین کو خود ہی کشید کر کے عمل تطہیر سے گزار لینے پر اکتفا کرتی ہوں۔ یہی بچا کچھا دین میرا فخر ہے جس نے مجھے بہت کچھ نہیں بھی سکھایا تو کم از کم کسی کو کم تر اور حقیر نہ سمجھنا ضرور سکھا دیا ہے اور یہ بات سیکھنے کے لیے کسی کانفرنس میں شرکت کی کوئی ضرورت نہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •