کیا پاکستان میں صدارتی نظام آرہا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مختلف نیوز چینلز کے ذرائع والے صحافی گزشتہ دس روز سے ذرائع سے یہی خبر دے رہے تھے کہ کابینہ میں تبدیلیاں آنے والی ہیں۔ اے آر وائی، جیو نیوز اور ٹوئینٹی فور نیوز والے سیٹھی صاحب دس دن سے کہہ رہے تھے کہ وزیر خزانہ اسد عمر کی چھٹی ہونے والی ہے۔ عمرانی حکومت تردید کررہی تھی اور فواد چوہدری فرما رہے تھے سب بکواس ہے۔ کچھ نہیں ہونے والا، کابینہ میں کوئی تبدیلیاں نہیں آرہی۔ پیمرا کی طرف سے کابینہ میں تبدیلی کی خبریں دینے والے نیوز چینلز کو نوٹسز بھی جاری کیے گئے۔

اسد عمر سے استعفی لے لیا گیا۔ ان سے کہا گیا کہ وہ پٹرولیم کے وزیر بن جائیں لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ فواد چوہدری صاحب کو سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت سے نواز دیا گیا اور ان سے وزارت اطلاعات و نشریات چھین لی گئی۔ پٹرولیم کے وزیر غلام سرور خان کو ہوابازی کی وزارت مل گئی۔ شہریار آفریدی جو وزیر مملکت برائے داخلہ تھے انہیں سیفران کی وزرات مل گئی۔ فردوس عاشق اعوان صاحبہ نے فواد چوہدری کی جگہ لے لی۔

خود عمران خان صاحب جو وفاقی وزیرداخلہ تھے ان سے بھی یہ وزرات چھن گئی۔ برگیڈئیر اعجاز شاہ اب وفاقی وزیر داخلہ ہیں۔ کسی نے ٹویٹر پر لکھا کی فواد چوہدری کو سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت دینے سے لگتا ہے کہ عمرانی حکومت سائنس و ٹیکنالوجی کے حوالے سے کس حد تک سنجیدہ ہے؟ اہم بات یہ ہے ذرائع والے صحافی عمران خان سے بھی زیادہ باخبر ہیں۔ یہ بھی ثابت ہوگیا کہ پاکستانی نیوز چینلز کی وہی خبریں سچی اور مصدقہ ہوتی ہیں جو ذرائع سے آتی ہیں۔ فواد چوہدری وزارت چھننے سے قبل کئی روز سے کہتے رہے کہ ان کی کپتان خان سے بات ہوئی ہے، انہوں نے کہا ہے کہ کوئی تبدیلیاں نہیں آرہی ہیں۔ اب نیوز چینلز کی ذمہ داری ہے کہ وہ پیمرا کو نوٹس دیں اور کہیں کہ یہ جھوٹا ادارہ ہے۔

اب کیا عمران خان کی حقیقت کھل کر سامنے نہیں آگئی؟ کیا اب عمران خان صاحب کو با اختیار وزیراعظم کہا جاسکتا ہے؟ وہ سچے ہوں گے، وہ کسی سے گھبراتے یا ڈرتے ورتے بھی نہیں ہوں گے۔ لیکن کہیں وہ بھی بے بس تو نہیں ہوگئے؟ یہ تبدیلیاں عمران خان کے لئے سرپرائز بونسر تھی۔ عمران خان خود نواز شریف پر تنقید کے دوران کہتے رہے ہیں کہ وزیر اعظم کو طاقتور ہونا چاہیے؟ کیا اب وہ اپنے آپ سے یہ سوال کرنے کی جرات رکھتے ہیں؟

تبدیلی والے عمران خان آٹھ سال تک یہ کہتے رہے کہ اسد عمر ایک پڑھے لکھے اور تعلیم یافتہ انسان ہیں جو معیشت کو سمجھتے ہیں۔ جو بہترین ٹیکنوکریٹ ہیں۔ جو کارپوریٹ سیکٹر سے تعلق رکھتے ہیں نعرہ لگایا جاتا رہا جب آئے گا عمران تو بنے گا اسد عمر وزیر خزانہ جو معیشت کو سدھارے گا؟ وہی اسد عمر آٹھ ماہ کے اندر فارغ کردیئے گئے۔

آئی ایم ایف سے بات چیت جاری ہے۔ ایف اے ٹی ایف یعنی فیٹف کی تلوار لٹک رہی ہے۔ کیا ایسے موقع پر اسد عمر کو وزارت خزانہ سے فارغ کرنا چاہیے تھا؟ اب کیا نیا وزیر خزانہ جادو کی چھڑی سے سب کچھ ٹھیک کردے گا؟ کیا اس کے پاس کوئی چراغ ہے؟ عاطف میاں آئے تو عمران خان کی طرف سے کہا گیا یہ سب کچھ ٹھیک کرے گا۔ پھر یوٹرن اور عاطف میاں کی چھٹی کیونکہ وہ قادیانی تھا کیسے مسلم ملک کی معیشت کو درست کرسکتا تھا؟

اسد عمر نے بہترین پریس کانفرس کی۔ عزت سے اپنا نقطہ نظر دیا۔ کسی پر الزام نہیں لگایا۔ بس یہی کہا کہ کپتان نے کہا لگ جاؤ وہ لگ گئے، کپتان نے کہا ہٹ جاؤ وہ ہٹ گئے۔ یاد رکھیں یہ جاگیردار، سرمایہ دار اور مقتدر طاقتور حلقے کبھی بھی معیشت میں مشکل فیصلے نہیں ہونے دیں گے، وہ کبھی کیک میں غریبوں کے لئے کوئی حصہ نہیں رکھیں گے۔ وہ نہیں چاہیں گے کہ موجودہ معاشی ڈھانچہ تبدیل ہو۔ وہ کبھی معاشی اصلاحات نہیں چاہیں گے اس لئے اسد عمر کو کیسے طاقتور حلقے وزیر خزانہ رہنے دیتے؟

اسد عمر معاشی ڈھانچہ میں بڑی تبدیلیاں لارہے تھے اور طاقتوروں کو بھول گئے تھے اس لئے ان کے ساتھ ایسا ہی ہونا تھا؟ معیشت میں مشکل فیصلے طاقتور حلقے نہیں ہونے دیں گے۔ کیوں وہ ٹیکس ریدارمز ہونے دیں؟ کیوں طاقتور چاہے گا کہ معیشت کی ڈاکومنٹیشن ہو؟ کیک چھوٹا ہورہا تھا تو اسد عمر فارغ ہوگئے اب کیک خود بخود بڑا ہوجائے گا؟

اسد عمر پریس کانفرس کے دوران اکیلے اور لاوارث نظر آئے۔ یہ وقت کپتان خان پر بھی آئے گا۔ کیوں وہ بھی اب اتھارٹی کھو چکے ہیں۔ ان تبدیلیوں کے تناظر میں عمران خان کے لئے سبق ہے۔ عمران خان کے لئے یہ سبق ہے کہ ایک دن وہ بھی اسد عمر کی طرح اکیلے ہوں گے۔ نئے پاکستان کا وزیر خزانہ اب حفیظ شیخ ہوگا۔ وہی حفیظ شیخ جو پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں وزیر خزانہ رہے ہیں۔ جی ہاں چوروں اور ڈاکووں کے وزیر خزانہ؟ اعظم سواتی جو آرٹیکل باسٹھ ترسٹھ کی تلوار کے سائے کے خوف سے نا اہل تھے۔ لانڈری سے دھل کر آگئے ہیں اب وہ بھی وفاقی وزیر ہیں۔ اب عمران خان کی جگہ برگیڈیر ریٹائرڈ اعجاز شاہ وزیر داخلہ ہیں۔ جی جی نوے کی دہائی والے اعجاز شاہ صاحب۔

وہی اعجاز شاہ جو نوے کی دہائی میں آئی ایس آئی پنجاب کے انچارج تھے؟ وہی اعجاز شاہ جو مشرف دور میں پنجاب کے ہوم سیکریٹری تھے۔ وہی اعجاز شاہ جنہوں نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کریک ڈاون کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہی اعجاز شاہ جنہوں نے عمر سعید شیخ کی گرفتار ی میں کردار ادا کیا تھا، وہی اعجاز شاہ جنہوں جو 2002 کے انتخابات کے ڈیزائنرز میں سے ایک تھے۔ وہی اعجاز شاہ جنہوں نے مسلم لیگ ق بنائی تھی۔ وہی اعجاز شاہ جن کے بارے میں جب بے نظیر وآپس وطن آرہی تھی تو ایک خط لکھا تھا جس میں ان کا نام بھی تھا۔ اب اعجاز شاہ صاحب کے تجربے سے بھی عمرانی حکومت فائدہ اٹھا سکے گی۔

عمران خان صاحب سے اتنی اپیل ہے کہ کرپشن، کرپشن کی بجائے اب لیڈر شپ دکھائیں۔ عمران خان صاحب ان تبدیلیوں سے آپ طاقتور نہیں بلکہ کمزور ہوگئے ہیں۔ اہم وزراتیں آپ کے ہاتھ سے نکل گئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان تبدیلیوں کے بعد عمران خان صاحب سنبھل پائیں گے؟

اس تمام بحث و مباحثے سے یہ فکر بھی نکلتی ہے کہ کہیں پاکستان صدارتی نظام کی طرف تو نہیں بڑھ رہا؟ یہ جو سازشی نظریہ آج کل دکھائی اور سنائی دے رہا ہے کہ پاکستان میں صدارتی نظام لایا جارہا ہے۔ اس کے بارے میں سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر مہم چل رہی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ اسمبلیاں تحلیل ہوجائیں گی۔ کہیں سوچے سمجھے نظریے سے تو سب کچھ نہیں ہورہا۔ َ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •