اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی وجوہات (ڈاکٹر صغرا صدف سے معذرت کے ساتھ)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوال کرنا انسان کا بنیادی حق ہے اور اس حق کو تسلیم کرنا معاشرے کے مہذب ہونے کی نشانی ہے۔ اہم موضوعات کو کسی کی دل آزاری اور انسانی احساسات کو مجروع کیے بنا زیر بحث لانا بلاشبہ معاشرے میں علم، آگہی، ترقی اور انسانوں کے درمیان سلجھے خیالات کی ترویج کا باعث سمجھا جاتا ہے۔

ڈاکٹر صغرا صدف کا کالم اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ؟ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ۔

محترمہ نے بہترین اور شائستہ الفاظ کے چناؤ سے اپنے کرب، تکلیف اور اضطرابی کیفیت کا بیان کیا ہے۔ کوئی شک نہیں یہ سوال پاکستان اسرائیل کو تسلیم کیوں نہیں کرتا؟ ایک اہم سوال ہے۔ ایک عرصہ تک اس سوال کو جذبات کی روح میں بہہ کر نہ صرف رد کیا جاتا رہا بلکہ سوال اٹھانے والے کو تنقید سے چار قدم آگے جا کر یہودی اور امریکی ایجنٹ کہہ دینا عام سی بات تھی۔ اس جاہرانہ رویے کا نقصان یہ ہوا کہ عام عوام تو دور کی بات پڑھے لکھے لوگ بھی اس اہم معاملے پر اپنی معلومات کی درستی نہ کر پائے۔ پاکستانی عوام کی اکثریت اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ صرف اور صرف اس ملک (اسرائیل) کا فلسطینیوں پر جاری ظلم سمجھتی ہے۔ یہ ایک وجہ تو ہے مگر یہ سمجھنا اور کہنا کے صرف یہی ایک وجہ ہے کسی بھی طور پر درست نہیں۔

ا س وقت دنیا کے تیس ممالک بشمول غیر مسلم ممالک کیوبا اور شمالی کوریا اسرئیلی ریاست کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہاں یہ بھی عرض کرتا چلوں دنیا میں آج باون ایسے ملک بھی ہیں جو اسرئیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہونے کے باوجود 1948 ء کی تقسیم عرب کی اقوام متحد ہ کی قراداد کو قانونی تسلیم نہیں کرتے۔ حتیٰ کہ جب اس قراداد کو اقوام متحدہ سے منظور کروایا جا رہا تھا تو امریکی سٹیٹ دیپارٹمنٹ پینٹا گون اور امریکی کانگریس بھی اس تقسیم کو غیر قانونی کہتے رہے۔ جارج ڈبلیو بال کی کتاب  The Passionate میں تمام تفصیل درج ہے۔

اسرائیل کو ایک قانونی ریاست تسلیم نہ کرنے کی وجہ وہ حالات ہیں جن میں اسرائیلی ریاست کا قیام عمل میں آیا۔

اٹھارویں صدی کے اوائل میں ایک جنونی صہیونی تنظیم ( Zionist Movement ) کا قیام عمل میں آیاجس کا مقصد تھا فلسطینی علاقوں پر یہودیوں کے لیے ایک ریاست قائم کرنا۔ فلسطینی سرزمین پر یورپی یہودیوں کو لا کر آباد کرنے کو چارمرحلوں میں تقسیم کیا گیا۔

پہلا مرحلہ یورپی اور امریکی یہودیوں کو فلسطین ہجرت کرنے پر اکسایا گیا۔

دوسرا مرحلہ عالمی سپر طاقتوں کو اس مقصد میں امداد حاصل کرنے کے لیے اپروچ کیا گیا

تیسرا مرحلہ فلسطینیوں سے سرزمین خریدنے کا پلان بنایا گیا۔

چوتھا مرحلہ تھا فلسطینی سرزمین پر پرتشدد تحریک شروع کرنا اور طاقت استعمال کر کے فلسطینیوں کو بے گھر کرنا۔

امریکہ اور برطانیہ کی مدد حاصل کر لینے کے بعد فلسطینیوں سے زمین خرید نے کا مرحلہ آیا جسے فلسطینیوں نے مسترد کر دیا۔ کہا جاتا ہے فلسطینیوں نے یہودیوں کو اپنی زمین فروخت کی اور اس بات کو ثابت کرنے کے لیے 1880ء کی ایک دستاویز بطور ثبوت پیش کی جاتی ہے۔ ویسے تو اس دستاویز کو خود اسرائیلی تاریخ دانوں نے جھوٹ کہہ کر رد کر دیا مگر مسلم دنیا میں اسرائیل کی وکالت کرنے والے حضرات اس دستاویز کو حوالے کے طور پر ضرور پیش کرتے ہیں ہم ایک ساعت کے لیے اس پیش کردہ دستاویز کوسچ مان بھی لیں تو اس خودساختہ دستاویز کے مطابق موجودہ اسرائیلی رقبے کا صرف پانچ فیصد علاقہ ہی اس میں بیان ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے یہ باقی رقبہ کہاں سے آیا۔ 2016ء میں آئرلینڈ کی پارلیمنٹ میں ایک قراداد پیش کی گئی جس کا مقصد تھا فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی ریاست کو غیر قانونی اور غاصبانہ قبضہ قرار دینا۔ اس قرارداد پر بحث کے دوران آئرش ممبر اسمبلی کی طرف سے پورے دلائل کے ساتھ اس دستاویز کے پرخچے اڑائے گئے۔ انٹرنیٹ پر گوگل اور یو ٹیوب کے توسط سے آج بھی اس قرارداد کا متن پڑھا اور دیکھا جا سکتا ہے۔

9 جون 1967: اسرائیلی یہودی دیوارِ گریہ پر عبادت کرتے ہوئے

جب فلسطینیوں نے زمین فروخت کرنے سے انکار کر دیا تو پرتشدد کارروائیوں کا آغاز ہو گیا۔ 750,000 فلسطینی مرد، بچے اور عورتیں جبری طور پر اپنے علاقوں سے بے دخل کیے گئے۔

اسرائیلی تاریخ دان لان پاپے اپنی کتاب THE ETHNIC CLEASING OF PALESTINE میں لکھتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں فلسطینیوں کا قتل عام اور ان کو جبری طور پر گھروں سے نکالنا ہولوکاسٹ جتنا سنگین جرم ہے اگر ہم اسرائیل کی امن اور سلامتی چاہتے ہیں تو ہمیں فلسطینیوں سے کیے جانے والے اس ظلم پر معافی مانگنی ہو گی۔

ٹائم میگزین کے سابق ایڈیٹر ڈونلڈ نف کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امن نہ ہونے کی بنیادی وجہ 1948 ء کے وہ واقعات ہیں جن میں امریکہ اور یورپ کی مدد سے اکثریت کو اقلیت نے جبری اپنے گھروں سے بے گھر کیا۔

کوئنٹ فولکے Count Folke Bernadotte سابق ممبر ریڈکراس جن کے پہچان عالمی جنگ عظیم دوئم میں یہودیوں کے محافظ کے طور پر ہے اقوام متحدہ کی طرف سے فلسطین اسرائیل تنازعہ میں ثالث بھی تعنیات رہے ہیں۔ ان کے بقول فلسطینی پناہ گزینوں کی اپنے گھروں کو واپسی سے پہلے اگر اسرائیل کو ریاست کے طور پر تسلیم کروایا جاتا ہے تو یہ کسی بھی طور پر قانونی نہیں ہو گا۔

اس بڑے پیمانے پرہوئی جبری بے دخلی کو تاریخ میں ناکبہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس جبری بے دخلی کے خلاف ہزاروں لاکھوں فلسطینی اور ان سے ہمدردی رکھنے والے لوگ آج بھی مظاہرے کرتے نظر آتے ہیں۔ گزشتہ ایک سال سے غزہ اور مغربی کنارے میں ہونے والاگرینڈ ریٹرن مارچ جس میں اب تک چھ سوفلسطینی بچے عورتیں اور مرد شہید ہو چکے ہیں اسی تاریخی واقعے کی کڑی ہے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبایئے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •