سوچ بدلیں گے تو سماج بدلے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی بھی معاشرے کی عظمت اور سر بلندی کا اندازہ افراد معاشرہ خاص طور پر نوجوانوں کی سوچ کی بلندی، منزل کی سچی تڑپ اور بلند کرداری میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ اگر نوجوان خواب دیکھتے ہیں اور محنت پر یقین رکھتے ہیں اور ایمانداری کا چراغ ہاتھ میں تھام کر مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں تو زمین کے خزانے تو کیا آسمان کی وسعتیں بھی ان کے سامنے ڈھیر ہو جاتی ہیں۔ یہ تبھی ممکن ہوتا ہے جب امیدوں کے دیے روشن ہوں، جب کامیابی اور ناکامی کے مفاہیم کو حقیقی انداز میں وسیع النظری کے ساتھ سمجھا اور سمجھایا جاتا ہو۔

جب کامیاب افراد دوسروں کو بھی کامیاب دیکھنے کی خواہش اور جرآت سے لبریز ہوں، جب نیکی اور خیر کی ہر حالت میں تعریف کی جاتی ہو، جب تعاون اور ایثار کی فضا قائم ہو۔ لیکن خدا کی یہ زمین جو لوگوں سے بھری پڑی ہے اس میں آپ کو انسانوں کی کئی اقسام ملتی ہیں جیسے کہ زندہ دل لوگ، نیم زندہ دل لوگ حتیٰ کہ مردہ دل لوگ بھی۔ جی ہاں مردہ دل بھی جو کھاتے پیتے بھی ہیں چلتے پھرتے بھی ہیں مگر حقیقی زندگی سے کوسوں دور ہوتے ہیں، جن کے بولنے بتلانے اور دیکھنے سننے سے مردنی ٹپکتی ہے۔

جن کی آنکھوں میں یاسیت کے اندھیروں کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا، جن کی باتوں میں شکوک وشبہات کی آمیزش ہوتی ہے۔ جنھیں دوسروں کے خوابوں کو چکنا چور کرنے کا فن خوب آتا ہے، جنھیں ہنستے کھیلتے اٹھلاتے، خواب دیکھتے اور ان کی تعبیروں کی تلاش میں سرگرداں نوجوان ذرا اچھے نہیں لگتے۔ جو کسی کی کامیابی کو کشادہ دلی سے قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے لیکن اگر کوئی کسی دوڑ میں ذرا سا ناکام ہوجائے یا پیچھے رہ جائے تو اس کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں، کسی گرے ہوئے کو اٹھا کر اس کی دلجوئی کرنا تو درکنار یہ اس پر قہقہے لگاتے ہیں اور اس کی دل آزاری کے مواقع تلاشتے ہیں۔

یہ ساری زندگی اپنا چراغ جلانے کی کوشش نہیں کرتے اور پھر اس کا بدلہ دوسروں سے لیتے ہیں اور سب کے چراغوں کو گُل دیکھنا چاہتے ہیں، یہ مردہ دل لوگ اندھیروں کے اس قدر عادی ہو جاتے ہیں کہ اگر کوئی شمع بردار ان کی محفل میں آجائے تو اس پر پَل پڑتے ہیں اور ہاں نیم زندہ دل لوگ، یہ وہ لوگ ہیں جو خواب ضرور دیکھتے ہیں مگر صرف اپنے لیے، یہ سوچتے سمجھتے اور منصوبہ بندی بھی کرتے ہیں مگر صرف اپنی ذات کے لیے۔ ان کی سوچ کا دائرہ کار صرف ان کی اپنی ذات کو گھیرے رہتا ہے۔

ان کے نزدیک کامیابی صرف وہ ہے جس کا راستہ ان کو چھو کر گزرتا ہے۔ یہ باوجود صلاحیت اور استعداد کے دوسروں کے لیے کچھ بھی نہیں کرتے کیونکہ یہ کبھی بھی اس کی توفیق نہیں مانگتے لہذا انھیں توفیق عطا نہیں ہوتی۔ ان کی کامیابی کو کامیابی اس لیے نہیں کہا جاسکتا کہ ان کی کامیابی برکت سے خالی ہوتی ہے، ان کی کامیابی سے خدا کی مخلوقات کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، یہ کسی کی زندگی میں کسی مفید قدر کا اضافی کرنے سے قاصر رہتے ہیں، ان کی زندگی کی کہانی ان سے شروع ہوکر ان کے بال بچوں کی جائیدادوں اور بنک بیلنس تک آکر ختم ہو جاتی ہے۔

انھی لوگوں میں خال خال آپ کو زندہ دل لوگ بھی ملتے ہیں جن کے گفتار و کردار سے امید اور رجائیت کے سوتے پھوٹتے نظر آتے ہیں، جن کی آنکھوں میں امید کی روشنی ملتی ہے اور یہ اس روشنی کو جابجا بانٹتے نظر آتے ہیں جو اپنے تجربے اور علم سے دوسروں کو مستفید کرتے نظر آتے ہیں، دوسروں کی کامیابیاں انھیں مسرور کرتی ہیں اور دوسروں کی ناکامیاں انھیں مغموم کرتی ہی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو گاڑی بنگلہ جائیداد اور بنک بیلنس جیسی سطحی منزلوں کو کبھی خاطر میں نہیں لاتے، یہ لوگوں کو ناکامیوں کی دلدل سے نکال کر کامیابی کا راستہ دکھاتے ہیں اور اپنے حصے کا چراغ جلانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔

ان کی نیتِ صالح کے طفیل خدا ان سے بہت بڑے بڑے کام لیتا ہے اور یہ لوگوں کی امیدوں کا محور بن جاتے ہیں۔ یہ زندہ دل لوگ، نیم زندہ دل لوگوں کو زندگی کے صحیح معانی و مفہوم بتانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ چونکہ یہ لوگوں کو کامیابی کی طرف لانے کی کوشش میں مگن رہتے ہیں لہذا ان کی اپنی زندگی کامیابی کا مرقع بن جاتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس طرح کی مثبت طرزِ فکر اور طرزِ عمل رکھنے والے لوگ بھی شدید تنقید کا نشانہ بنتے ہیں اور ان کے کام میں بھی روڑے اٹکائے جاتے ہیں۔

طرح طرح کے اعتراضات کے تیر برسائے جاتے ہیں اور اس طرح شکوک و شبہات میں مبتلا کرکے ناپختہ ذہنوں کو بھٹکانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ آپ یقین مانئے کہ یہ نان موٹیویشنل سپیکرز معاشرے پر کالی آندھی کی طرح چھائے ہوئے ہیں اور ان میں سے بعض تو ڈگریاں لے لے کر ہلکان ہوگئے ہیں مگر ذاتی سوچ کے کسی ایک دریچے کو بھی روشن نہیں کر پائے۔ آپ ایک چھوٹا سا تجربہ کریں کہ آپ اپنے کچھ غیر روایتی قسم کے خوابوں اور منصوبوں کی فہرست بنا کر ان پڑھ اور جاہل نہیں بلکہ پڑھے لکھے اور بار علم سے کمر خمیدہ لوگوں کے پاس جائیں اور ان سے ان خوابوں اور منصوبوں کے بارے میں گفت وشنید کیجیے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا بلکہ دن میں تارے نظر آجائیں گے۔

آپ باقی تمام پروفیشنز کو چھوڑ دیں صرف تدریس سے وابستہ افراد کا سروے کروا لیں یہ دیکھ کر آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی کہ ہمارے بیشتر اساتذہ کرام کس قدر نان موٹیویٹڈ اور نان فوکسڈ ہیں۔ اور یہ لوگ خواب دیکھتی آنکھوں کو ویران کرکے کتنا اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ یاسیت کے یہ مبلغ ہوٹلوں کے تھڑوں سے لے کر یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز تک کی سیٹوں پر براجمان ہیں۔ تو خدا کے لیے قدر کرنا چاہیے ان مٹھی بھر لوگوں کی جو تمام تر نامساعد حالات کے باوجود معاشرے میں مثبت قدروں کے فروغ کے لیے کام کرتے نظر آتے ہیں۔

جو تندو تیز ہواؤں کے سامنے بڑی جرات سے اپنا چراغ روشن کر کے رکھتے دکھائی دیتے ہیں۔ جو کسی بھی میدان میں، کسی بھی انداز میں انسانیت کی صلاح و فلاح کے لیے خود کو پیش کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ ہمیں ان کی قدر کرنا چاہیے اور اگر خدانخواستہ ہم نے ایسا نہ کیا تو ہم یاسیت کے سمندر میں اور گہرے اتر جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •