نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں

پیاز کی محبت آرائیوں کے خون میں شامل ہے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ یہ مشترکہ محبوبہ ان کے درمیان رقابت کی دیوار کھڑی نہیں کرتی۔ آرائیوں کے تمام مکتبہ فکر بلا اختلاف اس کی زلف کے اسیر دکھائی دیتے ہیں۔ پیاز کے پیار میں ہمارے تقریباً تمام آرائیں دوست ہی دیوانے تھے، مگر چوہدری طاہر صاحب تو غلو کی حد تک پیاز پرست تھے۔ دوپہر کو ان کے کمرے میں کبھی جھانکتے تو وہ پیاز کی باس سے بھرا

Read more

میڈ اِن پاکستان

جیسے ہی میں گھر میں داخل ہوتا میرا چھوٹا بیٹا علی مجھ سے پہلا سوال یہ کرتا ”بابا میری سائیکل لائے ہو؟“ میں نوکری کی مصروفیات سے تھکا ٹوٹا انسان اس سوال پہ اور زیادہ بجھ سا جاتا اور کہتا کہ بیٹا سائیکل والی دکانیں کافی دور ہیں ہیں لہٰذا کسی چھٹی والے دن جاکر سائیکل ضرور لے آئیں گے۔ علی میرے جواب سے ذرا بھی مطمئن نہیں ہوتا تھا اور منہ بسور لیتا تھا۔ ایک دن میں دفتر میں

Read more

بھکاری فطرت

ایک رئیس آدمی کو ایک خوبرو بھکارن سے محبت ہو گئی۔ اس نے شادی کا پیغام بھجوایا جس کو بھکارن نے بخوشی قبول کر لیا۔ در در سے ٹکڑے اکٹھے کر کے کھانے والی بھکارن کو ایک دم نوکر چاکر، زرق برق لباس اور انواع و اقسام کے کھانے میسر آنے لگے۔ رئیس بھی بھکارن کا پوری طرح خیال رکھنے لگا وہ اس کے آرام و آسائش میں کسی قسم کی کسر اٹھا نہ رکھتا تھا۔ کھانے کے اوقات میں

Read more

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ

گوالا علی الصبح دودھ لے کر آیا تو ہم نے اسے روک لیا اور صحت و صفائی کی اہمیت پر وسیع و عریض لیکچر دے ڈالا۔ وہ نگاہیں نیچی کر کے سنتا رہا۔ مگر جب ہمارے لیکچر نے ایمانداری اور رزق حلال کہ اہمیت کی طرف کانٹا بدلا تو اس نے التجائیہ لہجے میں کہا ”سرکار مجھے اور بھی بہت سے گھروں میں دودھ دینا ہے۔“ اپنے برمحل اور موزوں لیکچر کی عدم تکمیل پر ہمارے من میں طیش کا

Read more

سٹینفورڈ یونیورسٹی کی کہانی

بیروزگاری سے تنگ اٹلی کا ایک شخص جس نے سُن رکھا تھا کہ امریکہ کی گلیاں سونے سے پَکّی ہیں، اپنے وطنِ مالوف اٹلی کو خیرباد کہہ کر امریکہ جا پہنچا۔ امریکہ اُس کے لیے ایک بالکل نیا جہان تھا۔ کچھ دن امریکہ کی گلیوں میں خوار ہونے اور امریکیوں کے مزاج کا بغور مشاہدہ کرنے کے بعد وہ تھک ہار کر ایک اونچے چبوترے پر بیٹھ گیا اور اس نے لوگوں سے مخاطب ہو کر ایک بات کہی، ”میں

Read more

بھولنے والوں نے کیا کیا نہیں بھولا ہو گا

صاحبو! ہماری بھولنے کی عادت اب اپنے دوسرے فیز میں داخل ہو گئی ہے۔ جب تلک ہم چھڑے چھانٹ زندگی گزار رہے تھے، بال بچوں کا ساتھ نہیں تھا تو اس کی فیوض و برکات سے ہم اکیلے ہی مستفید ہوتے تھے، مگر جب سے بفضلِ تعالیٰ ایک علیحدہ گھر کنبے کے کفیل بنے ہیں اس عادت کے ثمرات سبھی تک برابر پہنچ رہے ہیں۔ گھر میں مہمانوں کی آمد پر کچھ سودا سلف لانے کے لیے گھر سے نکلے

Read more

وہ ہر جگہ پہ سونے والے کیا ہوئے

مشاعرہ اپنے جوبن پر تھا ایک نوجوان شاعر لہک لہک کر اپنے اشعار سنا رہا تھا اور سامعین سے داد وصول کر رہا تھا۔ میں سٹیج کے عین سامنے نشست پر بیٹھا مشاعرہ سن رہا تھا اچانک میری نظر سٹیج پر جلوہ افروز صدر محفل پر پڑی تو دیکھا کہ جناب اونگھ رہے ہیں۔ جیسے ہی کسی شعر پر داد پڑتی ہے اور شور بلند ہوتا ہے تو اچانک سے جاگ جاتے ہیں اور ایک ہاتھ فضا میں لہرا کر

Read more

بچوں کا بادشاہ احمد عدنان طارق

کتنی حیرت کی بات ہے کہ ایک پولیس انسپکٹر دو دہائیوں سے مسلسل افسر مہتمم تھانہ کے فرائض سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ بچوں کے لیے شاندار ادب بھی تخلیق کر رہا ہو اور 2022 میں یو بی ایل لٹریری ایوارڈ بھی اپنے نام کر چکا ہو۔ جی ہاں میں بات کر رہا ہوں احمد عدنان طارق کی جو چار دہائیوں تک محکمہ پولیس کی خاردار راہوں کے مسافر تو رہے مگر اپنے اصل ٹیلنٹ کو مرنے نہ دیا اور

Read more

ٹیلنٹڈ بندہ کہاں جائے

مانگے تانگے کی دو چار شاعری کی کتابیں پڑھ کر ہمارے اندر ایک زعم سا پیدا ہو گیا تھا کہ اردو تو ہمارے گھر کی باندی ہے۔ باقی مضامین پہ محنت کرنا تو بنتا بھی ہے مگر اردو پہ سر کھپانے کی کوئی خاص ضرورت نہیں۔ میٹرک کے پرچے دیے تو اردو میں اسی فیصد نمبر آ گئے اور ہمارے زعم کی گویا تصدیق ہو گئی۔ اسی طرح انٹرمیڈیٹ کا امتحان بھی اطمینان کن انداز میں پاس کر لیا۔ اب

Read more

اکمل حنیف کا پہلا شعری مجموعہ "ردِعمل”

جارج برنارڈ شا نے کہا تھا کہ بہت سمجھدار ہوتے ہیں وہ لوگ جو زمانے کے مطابق خود کو ڈھال لیتے ہیں اور حالات اور زمانے کی سجھائی ہوئی راہوں پر گامزن رہتے ہیں۔ زمانہ انھیں عقلمند، سمجھدار اور سیانا کہتا ہے۔ اور بہت بے وقوف اور دیوانے ہوتے ہیں وہ لوگ جو زمانے کی متعین کردہ راہوں پر چلنے سے انکار کر دیتے ہیں اور خود کو زمانے کے مطابق نہیں ڈھالتے۔ زمانہ انھیں پاگل، دیوانہ اور اس جیسے

Read more

شبمین گل کو اس کے باپ نے کیسے بڑا کرکٹر بنایا

لکھویندر سنگھ گل ہندوستان اور پاکستان کے بارڈر کے بالکل قریب مشرقی پنجاب کے ایک دور افتادہ علاقے فاضلکا کا رہنے والا تھا۔ بچپن ہی سے اس کے سر پہ ایک کرکٹر بننے کا بھوت سوار ہو گیا تھا۔ وہ منہ اندھیرے جاگ جاتا اور باپ کے ساتھ مل کھیتوں کو روانہ ہو جاتا، سہ پہر تک کاشتکاری میں باپ کا ساتھ دیتا۔ لیکن جیسے ہی سورج ذرا سا ڈھلتا وہ تمام کاموں سے بیگانہ ہوجاتا اور سب کچھ چھوڑ

Read more

شجر سایہ دار

منیر ابنِ رَزمی ایک ایسے طرحدار انسان کہ جن کی قربت میں چند لمحے بیٹھ کر یوں لگے جیسے ایک چھتناور درخت کے ٹھنڈے سائے میں بیٹھے ہیں، جس کی شاخیں گھنی اور برگ و بار سے بھرپور ہیں، جو پیرانہ سالی کے باوجود بھرپور توانائی اور تمکنت کے ساتھ ایستادہ ہے۔ تلخ اور گرم دوپہروں کی غضب ناک جھلستی دھوپ کو اپنے تن پہ لے کر دوسروں پہ سایہ کرنے جیسی عظیم خُو نے ان کے لہجے کو بھرپور

Read more

اسے کہتے ہیں ”تربیت“

پانچ افراد کے اس گروپ میں دو نوعمر لڑکیاں، دو لڑکے اور ایک تین چار سال کا بچہ تھا۔ دونوں لڑکیاں خوبصورت ہونے کے ساتھ دیدہ زیب لباس میں ملبوس تھیں۔ دونوں لڑکوں نے بھی عمدہ لباس زیب تن کر رکھا تھا اور اپنے گھنے لمبے بالوں کو ضبط میں رکھنے کے لیے سیاہ رنگ کے کنگھے سروں پہ ٹکا رکھے تھے۔ بھنوؤں کی تراش خراش لڑکوں نے بھی لڑکیوں کی طرز پہ کروا رکھی تھی۔ وضع قطع، چال ڈھال

Read more

حالی کی جیل یاترا

دو سال کی جیل یاترا نے تو حالی کی ہیئت ہی بدل دی تھی، سرخ و سپید چہرے کی چمک دمک ماند پڑ چکی تھی، موٹی اور چمکدار آنکھیں اندر دھنس کر اپنی رعنائی کھو چکی تھیں۔ بالوں کی سفیدی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی۔ تھا تو پینتیس، چالیس کا مگر اب وہ اپنی عمر سے کہیں بڑا دکھائی دے رہا تھا۔ گھنی داڑھی، اونچی شلوار اور کھلے ڈلے لباس میں اس پر گہرے مذہبی آدمی کا گمان ہو رہا

Read more

ماسٹر حیدر بخش نے انگریزی کیسے پڑھائی؟

چھٹی جماعت میں ہوئے تو انگریزی کا ہم سے پہلی بار تعارف کروایا گیا، اس پہلے تعارف میں ہی ہمیں اس کے رویے میں سرد مہری اور آنکھوں میں بے اعتنائی واضح طور پر دکھائی دی۔ تب ہمیں یوں لگا جیسے یہ انگریزی کا مضمون نہیں بلکہ خوبرو انگریزی میم ہے جو مجھ ایسے اجڈ دیہاتی کے مقابل سمٹ سمٹ جاتی ہے۔ صاحبو! ہم نے اس بے مروت سے آشنائی پیدا کرنے اور اس کی خم دار زلف کو سنوارنے

Read more

فرام واشک ٹو واشنگٹن

پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبہ قانون کی لائبریری کے وسیع و عریض ہال کے بیچوں بیچ بڑے بڑے میزوں کے گرد بید سے بٔنی ہوئی لکڑی کی کرسیاں سلیقے سے دھری تھیں جن پر اکا دکا طالبعلم مصروف مطالعہ تھے۔ البتہ میزوں پر جابجا الٹی سیدھی کتابیں پڑی ہوئی تھیں جن سے معلوم ہوتا تھا کہ پڑھنے والے بعد از مطالعہ انھیں اسی حال میں چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ مجھے ”جرمیات“ کے موضوع پر ایک کتاب کی تلاش تھی

Read more

عرفان جاوید کی کتاب: دروازے

پاکستان لٹریری فیسٹیول کے آخری روز الحمرا میں کافی زیادہ رش تھا، بھانت بھانت کے لوگ دکھائی دے رہے تھے۔ بڑے بڑے ہالز میں مختلف سیشنز جاری تھے جبکہ صحن میں محفل موسیقی اپنے جوبن پہ تھی۔ برآمدے میں کتابوں کے چند سٹالز بھی مطالعہ کا ذوق رکھنے والے کو اپنی طرف کھینچ رہے تھے۔ سنگ میل کے سٹال پر مجھے عرفان جاوید صاحب کی کتابیں سلیقے سے دھری دکھائی دیں تو میں بے ساختہ ادھر لپکا اور ”آدمی“ کی

Read more

وازوان

معروف ناول نگار عبداللہ حسین نے کہا تھا کہ ادیب کے لیے لازم ہے کہ وہ زندگی کے تمام معاملات جیسے کہ کھیل، سیاست، ادب، فلم، ذائقے دار پکوان، محبتیں اور معاشی معاملات میں بھرپور دلچسپی رکھتا ہو۔ یہ اس کی تحریر میں تجربہ، طاقت اور تازگی لے آتے ہیں، گوشہ نشینی اسے فرار اور ذہنی انجماد کی طرف لے جاتی ہے۔ محترم عامر ہاشم خاکوانی کی تحریریں پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے عہد ساز قلمکار کی

Read more

بیاہ کے بعد علیحدہ گھر ہر لڑکی کا بنیادی حق ہے

یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے سوشل سیٹ اپ میں لڑکا تن تنہا نہیں ہوتا، وہ اکثر اوقات ایک لمبے چوڑے خاندان کے ساتھ جڑا ہوتا ہے جس میں والدین کے علاوہ بہنوں اور چھوٹے بھائیوں کا بھی ساتھ ہوتا ہے۔ وہ جس طرح خود اپنے خاندان کا تابعدار اور خدمت گزار ہوتا ہے اکثر اوقات اس کی بیوی ویسا نہیں کر پاتی۔ بیوی کا ایسا نہ کرنے کی بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہیں جن کا سمجھنا از حد

Read more

"سارے جہاں کا درد” (حصہ سوم)

”سارے جہاں کا درد“ کی اشاعت کا تمام تر سہرا امجد صابری کو جاتا تھا کہ اس مرد درویش کی شبانہ روز محنت اور پر خلوص جدوجہد کے نتیجے میں یہ کتاب منصہ شہود پہ آئی۔ امجد صابری میں ایک نمایاں خوبی یہ تھی کہ وہ مشکل ترین حالات میں بھی مسکراتا رہتا تھا، وہ کسی بھی ناپسندیدہ صورتحال میں فوری ردعمل کا اظہار نہیں کرتا تھا۔ کتاب کی اشاعت کے بعد پولیس کالج میں ہمارے ساتھ جس طرح کا

Read more

عجائب خانہ

کتابیں انسان کی دوست بھی ہیں اور مونس و غمخوار بھی، تنہائی کا بہترین رفیق بھی ہیں اور محفل میں راہبر و راہنما بھی۔ یہ انسان کو زندگی میں آنے والے نت نئے مسائل سے نمٹنا سکھانے کے ساتھ ساتھ اس کے ذہن و دل سے بہت سارے بے بنیاد خوف نکال باہر کرتی ہیں۔ عرفان جاوید کی کتاب ”عجائب خانہ“ بھی ایسا ہی ایک شاہکار ہے کہ جسے پڑھتے جائیے اور حیرتوں کے سمندر میں گہرا اترتے جائیے۔ یہ

Read more

ماسٹر جی کا چھکڑا

سرکاری ملازم یعنی تنخواہ دار طبقہ بھی خدا کی عجیب مخلوق ہے جو ایک ماہ کے قلیل دورانیے میں باغ بہشت بریں کے مزے بھی لوٹ لیتا ہے اور نار نمرود میں جھلس کر سوختہ بھی ہو لیتا ہے۔ مہینے کے پہلے دس دنوں میں اس کی چال ڈھال میں ایک عجیب سا نشہ ہوتا ہے، ٹنکی میں پیٹرول فل بھرا ہو تو گاڑی شان بے نیازی کے ساتھ اٹھلاتی ہوئی آگے بڑھتی ہے، چھوٹے موٹے گڑھے سبک رفتاری سے

Read more

سارے جہاں کا درد (حصہ دوم)۔

کتاب کی اشاعت کوئی آسان کام نہیں تھا کیونکہ تمام شعراء کے کلام کو دیکھ کر پرکھنا اور پھر قابل اشاعت کلام کو علیحدہ کرنا، منتخب کلام میں پائی جانے والی زبان و بیان کی معمولی کمزوریوں کو دور کرنا، سرورق کا انتخاب کرنا، کتاب پر اٹھنے والے اخراجات کا تخمینہ لگا کر متعلقین سے رقوم اکٹھی کرنا، پبلشر کے ساتھ معاملات طے کرنے کے بعد موزوں مواد اسے ارسال کرنا اور ٹائپ ہو جانے کے بعد اس کی پروف

Read more

سارے جہاں کا درد (حصہ اول)۔

نومبر کی خنک شام میں سرسراتی خشک ہوا نے اداسی کا رنگ مزید گہرا کر دیا تھا۔ تربیت گاہ میں قدم دھرنے والوں کے چہروں سے پژمردگی اور پھیکا پن صاف چھلک رہا تھا۔ سب کے دلوں کو یہ خیال کچوکے لگا رہا تھا کہ سال بھر کا یہ طویل عرصہ اس قید خانے میں کیونکر کٹے گا۔ اجنبی ماحول میں ہر طرف اجنبی لوگ پھرتے دکھائی دے رہے تھے۔ درو دیوار کی وحشت نے لہجے گنگ کر ڈالے تھے۔

Read more

رسول حمزہ توف کی کتاب ”میرا داغستان“

اپنا آبائی وطن تو ہر شخص کو پیارا ہوتا ہے مگر کچھ لوگ تو اس کی یادوں کو ایسے سینے سے لگا کر رکھتے ہیں جیسے کہ وہ کوئی متاع جاں ہو۔ اس کی یادوں میں کھو کر کبھی خوش تو کبھی اداس ہو رہتے ہیں۔ جا بجا بکھری یادوں سے بچوں کی طرح بہلتے رہتے ہیں اور اگر اس سے دور ہوں تو اس کی فضاؤں میں واپس جانے کے لیے مچلتے رہتے ہیں۔ بالکل رسول حمزہ توف کی

Read more

الوداع میسی، خوش آمدید امباپے

قطر میں منعقدہ فٹ بال ورلڈ کپ تقریباً ایک ماہ تک جاری رہنے کے بعد ختم تو ہو گیا مگر اپنے پیچھے ایک ناقابل فراموش تاریخ رقم کر گیا۔ قطر جیسے چھوٹے سے ملک کے حیرت انگیز انتظامات نے سب کو ورطہ حیرت میں مبتلا کر دیا۔ یہ تاریخ کا سب سے مہنگا ورلڈ کپ تھا جس میں پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا۔ دنیا بھر سے آئے کھلاڑیوں اور شائقین کو بہترین سہولیات بہم پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت

Read more

وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں

باتوں ہی باتوں میں کبھی بالی وڈ کی حسیناؤں کا ذکر چھڑتا تو ان کے دل کی تاریں چھڑ جاتیں، ان کی آنکھیں ہیروں کی طرح چمکنے لگتیں اور چہرہ تمتمانے لگتا تھا وہ ان حسیناؤں کی ایمان شکن اداؤں پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالتے تھے۔ اصل حیرانی تو ہمیں تب ہوتی تھی جب وہ بالی وڈ کی نازک اندام اپسراؤں کے شجرے تک گنوا دیا کرتے تھے۔ کبھی میرے جیسا کوئی ناقص العلم اپنے تئیں کسی بات کا

Read more

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک

کمرے میں داخل ہوتے ہی سگریٹ کا دھواں میرے نتھنوں میں گھس جاتا جو پہلے ہی ایسے کسی حملے کے منتظر ہوتے تھے، پھر ناک میں عجیب و غریب ارتعاش سا پیدا ہوجاتا جس پر گلا بھی اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتا اور پھر چھینکوں کا نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا، جب ذرا حواس بحال ہوتے تو میں اپنے روم میٹ وجاہت علی رانا کی طرف دیکھتا جو اپنے بستر پہ نیم دراز ہو کر انتہائی خشوع و

Read more

رحم بی بی کا ٹی وی

جب پہلی بار پڑوسیوں کی چھت پہ ایک انٹینا ہوا میں لہرایا تو مجھے بہت تجسس ہوا اور میں نے کھوج بھری نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے اماں سے پوچھا۔ ”اماں یہ کیا ہے؟“ ”یہ شیطان کا بلاوا ہے بیٹا“ جس گھر کی چھت پہ یہ لگا دیکھو سمجھو وہاں شیطان کا بسیرا ہے ”انھوں نے جھٹ سے جواب دیا۔ میں اماں کی باتوں کو زیادہ تو نہیں سمجھ سکا، بس اتنا ضرور تھا کہ میرے دل میں یہ خیال

Read more

پتر اینھاں چوں کسے وی نئیں ہونا

کافی دیر کے بعد آنے والی بس مسافروں سے کھچ کھچ بھری ہوئی تھی۔ مجھے پہلے ہی کافی دیر ہو چکی تھی، میں مزید انتظار کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ مجھے ہائی وے پولیس میں بھرتی کا انٹرویو دینے کے لیے بر وقت پہنچنا تھا، لہذا میں اسی بس میں سوار ہوگیا۔ بس میں نا صرف تمام سیٹس پہ سواریاں براجمان تھیں بلکہ درمیانی راہداری میں بھی بہت سے مردو زن مسافر کھڑے تھے۔ ایسے میں پانچ، چھے نوجوانوں

Read more

جہان تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود

چند روز قبل قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام پرل کانٹینینٹل ہوٹل لاہور میں ”Content Creators Are Change Makers“ کے نام سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں ملک بھر سے نمایاں تخلیق کاروں کو مدعو کیا گیا تھا۔ جنھوں نے سامعین کو سوشل میڈیا کی اہمیت اور اس کے باریک نکات کو بڑے دلچسپ انداز میں سمجھایا۔ یہ ایک طویل سیمینار تھا جس میں تقریباً ساڑھے پانچ سو شرکاء نے شرکت کی مگر عجیب بات یہ

Read more

قاسم علی شاہ کی پولیس افسران سے گفتگو

پولیس کی تربیت میں قاسم علی شاہ صاحب کا کردار بےمثال ہے۔ آپ کو جب بھی پولیس کے تربیتی اداروں میں بلایا گیا آپ نے ہمیشہ نہایت خوشی سے اس دعوت کا خیر مقدم کیا۔وہ اس معاشرے کی پولیس کو ایک مثالی پولیس دیکھنا چاہتے ہیں، ایسی پولیس جو ایمانداری اور محنت میں بے مثال ہو، جو نظم و ضبط کے دامن کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہو اور جو خدمت خلق کے اعلی ترین جذبے کی اہمیت سے آگاہ

Read more

قاسم علی شاہ: ایک حقیقی استاد

اللہ تعالیٰ کی ان گنت مہربانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب وہ خوش ہوتا ہے تو اپنے بندے کی زندگی میں کچھ عظیم اور کامیاب لوگوں کا اضافہ کر دیتا ہے اور اسے ان کا ساتھ عطا ہوجاتا ہے۔ یہ چار سال پہلے کی بات ہے کہ ایک روز میں حسب معمول اپنی ڈیوٹی میں مصروف تھا کہ مجھے خبر ملی کہ معروف موٹیویشنل سپیکر جناب قاسم علی شاہ صاحب خانیوال تشریف لا رہے ہیں۔ یہ خبر

Read more

میں سب سے پہلے پولیس کو ٹھیک کروں گا

یہ سال 2018 کی بات ہے الیکشن کا دور دورہ تھا اور خان صاحب پورے ملک میں ریکارڈ توڑ جلسے کر رہے تھے۔ ایسے میں ان کا ایک جلسہ خانیوال میں بھی ہوا۔ خانیوال کا جلسہ بھی دیگر شہروں کی طرح شاندار تھا۔ عوام کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ شبیر سٹیڈیم لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور خان صاحب بڑے دبنگ انداز میں سے نا صرف اپنے سیاسی مخالفین کو لتاڑ رہے تھے بلکہ اس فرسودہ اور

Read more

ان سے امید نہ رکھ ہیں یہ سیاست والے

آج کل ہمارے چہار اطراف سیاست کا دور دورہ ہے، جدھر دیکھو سیاست، جس سے بات کرو سیاست۔ دفتر، گھر، بازار ہر جگہ سیاست۔ دوست، عزیز، رشتہ دار سب سیاستدانوں اور مبصرین کا روپ دھارے ہوئے ہیں۔ ذرا سی بات شروع ہوئی نہیں وہ ہاہاکار مچ جاتی ہے کہ خدا کی پناہ۔ آرام سے بیٹھے بٹھائے لوگوں کے بیچ کوئی شر پسند اگر ایک سیاسی چٹکلے کی دیا سلائی پھینک دے تو یک دم ایک آگ سی بھڑک اٹھتی ہے

Read more

خاندان برامکہ کا غیر معمولی عروج و زوال

انسانی تاریخ عروج و زوال کی ایسی عجیب و غریب اور لرزہ خیز داستانوں سے لبریز ہے جن میں کئی زور آور کردار آسمان اقتدار پر کوندے کی طرح لپکتے نظر آئے اور آن کی آن میں اپنی تب و تاب دکھا کر رخصت ہو گئے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں انسانوں نے اقتدار کی ہوس میں لاشوں کے ڈھیر لگا دیے، بستیوں کو تاراج اور فصلوں کو نذر آتش کر ڈالا۔ حصول اقتدار کے بعد اس کو قائم رکھنے

Read more

زنگار

صاحبان علم و دانش کے مطابق مطالعہ ایسی عمدہ ترین سرگرمی کا نام ہے جس کے ذریعے نا صرف انسان کے علم میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اس کی شخصیت غیر محسوس انداز میں نکھرتی چلی جاتی ہے۔ یہ انسانی فکر کو جلا بخشنے میں اکسیر کا کام کرتا ہے، یہ فہم و ادراک کے نئے در وا کرتا ہے۔ کتاب کو اس لیے رفیق اور دم ساز کہا جاتا ہے کہ یہ ایک سچے دوست کی طرح انسان کی

Read more

خوش آمدید آسٹریلیا

پانچ بار ون ڈے کرکٹ ورلڈ کپ کا تاج اپنے سر پہ سجانے والی آسٹریلین کرکٹ ٹیم کو دنیا کی ایک نمبر کرکٹ ٹیم مانا جاتا ہے کیونکہ ٹریک ریکارڈ کے مطابق ٹیم آسٹریلیا کی فتوحات کا تناسب کسی بھی دیگر ٹیسٹ کھیلنے والی ٹیموں میں سب سے بہترین ہے۔ ٹیسٹ میچز ہو یا ون ڈے مقابلے یا پھر ٹی ٹونٹی کا رنگا رنگ میلا ہو، کسی بھی فارمیٹ میں آسٹریلیا کو ہرانا چنداں آسان نہیں ہے اور اگر آسٹریلیا

Read more

اس سے پہلے کہ کرپشن اور ملاوٹ کے چمپیئن بنیں

سہیل حبیب تاجک صاحب ایک پروفیشنل پولیس افسر ہونے کے ساتھ ایک شاندار انسان بھی ہیں۔ پولیس کالج سہالہ، اسلام آباد کے کمانڈنٹ تعینات ہوئے تو اپنی پوری کوشش کی کہ زیر تربیت افسران کی ذہنی، جسمانی اور فکری تربیت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ ان کے ہر ہر جملے میں ان کا تجربہ اور مشاہدہ بولتا تھا۔ ایک بار انھوں نے ٹریننگ سیشن کے دوران ایک بات کی جو میری سماعت سے ٹکراتی ہوئی دل و دماغ

Read more

پاکستان کا روشن چہرہ

ایک معصوم بچہ جس نے سنگلاخ پہاڑوں کے دامن میں آنکھ کھولی، ہوش سنبھالا تو غربت چہار اطراف پہرہ دے رہی تھی، باپ بالکل ان پڑھ تھا مگر اپنے بچوں کو تعلیم دلانا چاہتا تھا، اس کی آنکھوں میں کچھ خواب تھے جن کو اپنے بچوں کے پیکر میں حقیقت کا روپ دینا چاہتا تھا، علاقہ بھر میں کوئی سکول نہیں تھا لیکن پھر بھی اس نے آس کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا، اس نے اپنے بچے کو گاؤں

Read more

دل دلی میں، بدن ملتان میں

حقے کے دھویں کی ہلکی سی باس نے کمرے کی فضا پہ قبضہ جما رکھا تھا، یہ چاچا وزیر علی کی چوپال تھی جس میں تین چار کھاٹ ترتیب سے پڑی ہوا کرتی تھیں جن کے سرہانے تکیے اور پائنتی کی اور صاف ستھری دو تہیاں بچھی ہوتی تھی، گدی اور کشن کے تکلفات سے پاک لکڑی کی دو کرسیاں بھی ایک کونے میں رکھی ہوتی تھیں، سردی ہو یا گرمی پانچ، سات بوڑھے عصر کی نماز کے فوراً بعد

Read more

جب حافظ جی نے پہلا قدم اٹھایا

تھانے کی مسجد میں آ کر نماز پڑھانے والا یہ نوجوان حافظ حق نواز مجھے بہت دلچسپ معلوم ہوتا تھا، اس لیے نماز کے بعد میں اس سے کوئی ہنسی مذاق کی بات کر لیا کرتا تھا، اس کے چہرے پہ پھیلی اداسی کی دبیز چادر کچھ وقت کے لیے ہٹ جایا کرتی تھی، وہ معمولی شکل و صورت کا حامل تقریباً بیس سالہ نوجوان تھا جس کا لہجہ عاجزی سے بھرپور تھا، آواز میں حد درجہ لجاجت تھی، شکل

Read more

محروم تماشا کو پھر دیدۂ بینا دے

پٹرولنگ پولیس میں، میں نے بہت زیادہ وقت تو نہیں گزارا مگر اس مختصر دورانیے کی خوشگوار یادیں ابھی تک دل و دماغ کے نہاں خانوں میں اس خوبصورت ترتیب سے سجی ہوئی ہیں کہ ایک دریچے کو کھولتا ہوں تو یادوں کا ایک لا متناہی سلسلہ چل نکلتا ہے اور قطار اندر قطار بہت سے چراغ روشن ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس قلیل مدت میں قدرت کی طرف سے کچھ خاص ساتھی عطا ہوئے جن کے ساتھ دوستی

Read more

جناح مخالفین کی نظر میں

یہ حقیقت ہے کہ کچھ لوگ پیدا ہی عظیم ہوتے ہیں کچھ اپنی انتھک محنت اور جدوجہد کی بدولت بلند مقام حاصل کر لیتے ہیں۔ محمد علی جناح کو بچپن میں ہی دیکھ کر صاحب بصیرت لوگوں نے ان کے مستقبل یہ کہہ دیا تھا کہ یہ بچہ بڑا ہو کر عظیم انسان بنے گا اور پھر تاریخ گواہ ہے کہ ان لوگوں کے وہ الفاظ سچ ثابت ہوئے۔ دوست تو دوست دشمنوں نے بھی محمد علی جناح کی ایمانداری، سچائی

Read more

ریٹائرمنٹ

انسان کا خمیر بھی خدا نے عجیب مٹی سے اٹھایا ہے، وہ ہر اس چیز کو یاد کرتا ہے اور آہیں بھرتا ہے جو اسے میسر نہیں ہوتی اور ہر اس چیز سے اغماض اور بے پرواہی برتتا ہے جو اسے حاصل و میسر ہوتی ہے۔ جوانی کے دنوں میں بچپن اور بڑھاپے کے دنوں میں جوانی کو یاد کر کے آنسو بہاتا ہے، مصروفیت میں فراغت کے خواب دیکھتا ہے اور فراغت کے دنوں میں اپنی مصروفیت کے قصے

Read more

تم سے کچھ بھی نہ ہو پائے گا

دلہن نے شادی کے کچھ عرصے بعد شوہر نامدار سے کہا ”سرتاج میرا دل چاہتا ہے کہ میں آپ کو اپنے ہاتھ سے مزیدار میٹھے پکوڑے بنا کے کھلاؤں بس آپ مجھے بازار سے کچھ ضروری سامان لا دو“ ۔ شوہر نے کہا ”بیگم تم مجھے عام روز مرہ کا سادہ اور موٹا جھوٹا کھانا ہی کھلاتی رہو، وہی کافی ہے، تم ان میٹھے پکوڑوں کے چکر میں مت پڑو، میں جانتا ہوں کہ یہ تم سے نہیں بنیں گے“

Read more

بچوں کو کتاب تھمائیں

شوق اگر جنون بن جائے تو اچھے بھلے انسان کو یا تو بنا جاتا ہے یا پھر ڈبو دیتا ہے، اور اگر شوق بچپن سے ہی جنون بن جائے تو انسان کے بننے یا بگڑنے کا عمل بچپن سے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ اگر شوق اچھا اور تعمیری ہو تو انسان بچپن سے ہی بہترین انداز میں فکری طور پر پروان چڑھنا شروع ہو جاتا ہے، لیکن اگر بد قسمتی سے انسان کسی منفی لت کا شکار ہو جائے تو

Read more

تمام دکھ ہے

جب اس شہر کے مکینوں نے شوق اور ارمان سے بنے ان گھروں کی طرف آخری بار دیکھا ہوگا تو ان کے دلوں پر کیا بیتی ہوگی، ان مکانوں کی اینٹ اینٹ انھیں پکار رہی ہوگی اور دامن گیر ہو رہی ہوگی اور ہر طرف ایک آہ و بکا کا سا سماں ہوگا۔ ”اے محبت کے پیمبرو! اپنے ہاتھوں سے اینٹیں اور گارا ڈھو ڈھو کر ان بنیادوں کو سینچنے والو! در و دیوار پہ نقش و نگار بنانے والو!

Read more

ناصر ملک کا "مزاح کبیرہ”

کسی دانشوروں کا قول ہے کہ سب انسانوں کی زندگی میں آنے والے مسائل کم و بیش یکساں قسم کے ہوتے ہیں مگر ان کا سامنا کرنے کا انداز سب کا مختلف ہوتا ہے، لہذٰا انسانوں کی حقیقی پہچان ان کے مسائل سے نہیں بلکہ مسائل کے ساتھ نمٹنے کی قوت اور صلاحیت سے ہوتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ عملی زندگی کے مسائل بہت جانکاہ ہوتے ہیں اور انسان ان سنگلاخ پتھروں پہ چلتے چلتے اپنی ظاہری اور باطنی

Read more

تعمیر نسل نو

بچے کسی بھی قوم کا حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں جنھوں نے مستقبل میں سارے نظام کی باگ ڈور سنبھالنے کا فریضہ سر انجام دینا ہوتا ہے۔ اس بیش بہا اہمیت کے سبب ہر فکر مند قوم کے افراد اپنے بچوں کی بہترین تعلیم و تربیت کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھتے ہیں۔ وہ اس بات سے پوری طرح آگاہ ہوتے ہیں کہ بچوں کی بہترین تعلیم و تربیت ہی ملک و ملت کے روشن مستقبل کی ضامن ہے اور اگر اس اہم اور عظیم ذمہ داری سے پہلو تہی کی گئی تو اس کا خمیازہ بھی لازماً بھگتنا پڑے گا۔

Read more

خالہ ریاض

بعض عورتوں کا نام تو نسوانیت سے بھرپور ہوتا ہے مگر ان میں نسوانیت نام کو بھی نہیں ہوتی، شاید ان کے بارے میں خدا نے مرد بنانے کے اپنے فیصلے کو آخری دم پر تبدیل کیا ہوتا ہے، ان کو کسی زاویے سے بھی دیکھو مجال ہے جذبات میں ذرا سا بھی ارتعاش پیدا ہو۔ صبح اٹھ کے صابن کا جھاگ بنا کے منہ دھو لیں یا نہ دھوئیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ رخ انور پہ مہنگی کریم لگا

Read more

پرانی گاڑی نئے سوار

پرانی گاڑی خواہ اپنی ہو یا سرکاری بڑی عجیب چیز کا نام ہے آپ کو بنا فرمائش کے کمال کی دھنیں سناتی ہے، بس اس کو کسی نا کسی طرح سٹارٹ کر لیں یہ کوئی نا کوئی راگ الاپنا شروع کر دے گی، گیئر بدلتے جاؤ راگ بدلتا جائے گا، بعض اوقات تو ہر پرزہ کسی ننھے قوال کا روپ دھار لیتا ہے اور موج مستی میں آ کر اپنی لے میں کچھ بڑبڑاتا نظر آتا ہے پولیس سٹیشن میں

Read more

سات ربڑی گیند

صرف تین روپے کی ہی تو آتی تھی مگر پھر بھی نجانے کیوں اماں مجھے نہیں دلواتی تھی۔ میں بہتیرا رویا بگڑا مگر اماں نے ایک نہ سنی۔ جب پورا دن میں نے کچھ کھایا نہ ہی کسی سے بات کی تو اماں نے ہار مان لی اور اپنے دوپٹے کے پلو کی گرہ کھولنے لگی۔ چند سکے پلو کی قید سے آزاد ہو کر ان کی ہتھیلی پہ چمکنے لگے، مگر یہ تو پورے تین سے شاید کچھ آنے

Read more

ورکشاپ میں بچے کو دیکھ کر کیلاش ستیارتھی یاد آتے ہیں

کیلاش کا باپ جتنا سخت گیر تھا اس کی ماں اتنی ہی نرم خو اور خوش خلق خاتون تھی وہ سفید ان پڑھ تھی لیکن اعلیٰ اخلاقی اقدار کی مالک تھی۔ اس کے گاؤں میں ہندو مسلم مل جل کر رہتے تھے، اس نے قریبی مسجد کے مولوی سے اردو اور گورنمنٹ سکول سے ہندی اور انگریزی سیکھی۔

چلچلاتی دھوپ میں ننگے پاؤں، یونیفارم کے بغیر، پھٹے پرانے بستوں میں ایک آدھ کتاب لے کر سکول آتے بچے دیکھ کر اس کا دل افسردہ ہوجاتا تھا لیکن اس سے بھی زیادہ دل خراش منظر اسے چائے کے ڈھابوں پہ برتن دھوتے، مکینکوں کی ورکشاپس پر گریس میں لتھڑے ہاتھوں سے اوزار اٹھاتے اور اینٹوں کے بھٹوں پہ کام کرتے بچوں کا لگتا تھا جو کسی حال میں سکول نہیں جا سکتے تھے، جن کے مقدر میں روٹی کے چند ٹکڑوں کے لیے سسکنا اور بلکنا لکھ دیا گیا تھا۔

Read more

آغا ناصر کی تصنیف : گمشدہ لوگ

آغا ناصر بہت بڑے آدمی تھے، وہ بڑی عجیب صلاحیتوں کے مالک تھے۔ انھیں شاعری افسانے ناول جیسی اصناف ادب سے بے پناہ لگاؤ تھا لیکن ڈرامے سے تو گویا انھیں عشق تھا۔ وہ اپنے کام سے حد درجہ مخلص تھے۔ انھوں نے ریڈیو پاکستان کی نوکری سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور اپنی صلاحیتوں کی بنا پر ریڈیو اور پھر پاکستان ٹیلی ویژن کے اعلیٰ ترین عہدوں تک پہنچے۔ ظاہر ہے اس طویل سفر میں انھیں بے شمار

Read more

سگریٹ نوشی ترک کرنے کے عالمی دن پر

ایک دفعہ میں لاہور سے خانیوال جانے کے لیے ریل میں سوار ہوا۔ میری ساتھ والی خالی سیٹ پہ ایک ادھیڑ عمر کا شخص آ کر بیٹھ گیا۔ اس نے بیٹھتے ہی سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنی جیب سے ایک انتہائی مناسب قیمت والی سگریٹ کا پیکٹ نکالا اور دیا سلائی جلا کر ایک سگریٹ سلگا لیا۔ میں نے اس نیت سے کہ شاید وہ میرے چہرے پہ ناگواری کے آثار دیکھ لے، اس شخص کے چہرے کو غور سے دیکھا۔ مگر وہ ان اخلاقی باریکیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کش پہ کش لگانے لگا اور میں غریب اس شش و پنج میں مبتلا رہا کہ اس کو کیسے روکوں۔ میں مروت کی رکاوٹ کو راہ سے ہٹانے کی کوشش میں مگن تھا کہ پچھلی نشستوں سے ایک بھاری بھرکم نسوانی آواز نے ہمیں چونکا دیا ”اے بھائی صاحب یہ کس نے سگریٹ لگائی ہے سارا ڈبہ بدبو سے بھر دیا ہے، فوراً اسے بجھاؤ، پتہ نہیں ہے کہ گاڑی میں سگریٹ نوشی منع ہے“

Read more

شاباش شاہ محمود قریشی

فلسطین کا مسئلہ نیا ہے نہ فلسطین کے نہتے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کی داستانیں نئی ہیں۔ یہودیوں کی جارحیت کم ہو رہی ہے نہ مقامی مسلمانوں کی مزاحمت دم توڑ رہی ہے۔ یہ سب کچھ عالمی طاقتوں کے اشارے پر ہو رہا ہے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسرائیل کو دنیا کے ”بڑوں“ کی کھلی یا پوشیدہ حمایت حاصل ہے۔ وہ جب چاہتا ہے معصوموں پہ چڑھ دوڑتا ہے اور بستیوں

Read more

جھاڑیاں اگانی ہیں یا شاہ بلوط؟

کسی دانا کا قول ہے کہ ”اس قوم کی ترقی دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی جس کے نوجوان ذمہ دار اور محنتی ہوں لیکن اگر اس قوم کے نوجوان کاہل اور لاپروا ہو جائیں تو بربادی اس قوم کا مقدر بن جاتی ہے۔“ نوجوان کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی کے مانند ہوتے ہیں جو اپنی قوم میں نئی زندگی اور انقلاب کی روح پھونکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے بیشتر قوموں کی بیداری اور ان کے انقلاب کا سہرا نوجوانوں کے سر جاتا ہے۔ دنیا میں نوجوانوں کی سیاست میں دلچسپی تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے اور یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ کسی قوم کے نوجوانوں میں عنفوان شباب میں ہی سیاسی شعور پیدا ہو جائے۔

Read more

بس تھوڑا سا وقت

تقسیم ہند سے جہاں مسلمانان برصغیر کے لیے علیحدہ وطن معرض وجود میں آیا وہیں اس تقسیم کے دوران قربانیوں کی بے مثال اور لازوال داستانیں بھی رقم ہوئیں۔ نئی مملکت کے وجود میں آنے کی خبر سنتے ہی مرد و زن، پیر و جوان اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے آزاد وطن کے خوبصورت خواب اپنی آنکھوں میں بسائے آگ اور خون کے دریا عبور کرتے ہوئے مملکت خداداد کی ایک جھلک دیکھنے دیوانہ وار نکل کھڑے ہوئے۔ ان

Read more

کم از کم آپ تو ایسا نہ کہیں

کیا ایک استاد یا چلیں چند اساتذہ کے برا ہوجانے سے درس وتدریس کا نظام کلی طور پر باطل کہلائے گا اور تمام اساتذہ جلاد اور ظالم کہلانے کے مستحق ہو جائیں گے؟
کیا کسی ایک فوج کے سپاہی کے غدار اور وطن فروش ہوجانے سے ان سرفروشوں کی قربانیوں کو اکارت سمجھ لیا جائے گا جنھوں نے خون کے آخری قطرے تک کو مادر وطن پہ نثار کردیا؟

کیا کسی ایک جج کے غلط فیصلے سے ماضی کے درست اور مبنی بر انصاف فیصلوں پر پانی پھیر دیا جائے گا، یا کسی ایک بدعنوان اور عاقبت نا اندیش قاضی کی طمع نفسانی کو بنیاد بنا کر تمام عدالتی نظام کو کرپٹ اور گندہ قرار دے دیا جائے گا اور اس کے ہر رکن پہ سفاکیت کے فتوے لگا دیے جائیں گے؟

Read more

سوچ بدلیں گے تو سماج بدلے گا

کسی بھی معاشرے کی عظمت اور سر بلندی کا اندازہ افراد معاشرہ خاص طور پر نوجوانوں کی سوچ کی بلندی، منزل کی سچی تڑپ اور بلند کرداری میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ اگر نوجوان خواب دیکھتے ہیں اور محنت پر یقین رکھتے ہیں اور ایمانداری کا چراغ ہاتھ میں تھام کر مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں تو زمین کے خزانے تو کیا آسمان کی وسعتیں بھی ان کے سامنے ڈھیر ہو جاتی ہیں۔ یہ تبھی ممکن

Read more

آئینہ

بھائی صاحب اگر یہ فیلڈ تمہیں پسند نہیں ہے تو اسے چھوڑ کیوں نہیں دیتے، جس میدان کے کھلاڑی نہیں ہو اس میدان میں کیوں زبردستی گھسے ہوئے ہو۔ وہ کام جو تمہارا ہے ہی نہیں اسے کیوں کیے جاتے ہو اور اگر کیے جاتے ہو تو شکوہ کناں کیوں رہتے ہو یہ منافقت اور دورنگی نہیں تو اور کیا ہے۔ اس دشت نوردی میں تمہارے بال سفید تو ہو چلے ہیں مگر وہ جنوں جو صحرا پیماؤں کا خاصہ

Read more

نظام پولیس، نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

اگر آپ کا زندگی میں پولیس اور خاص طور پر پنجاب پولیس سے واسطہ پڑا ہے تو قرین قیاس یہی ہے کہ آپ کہیں گے کہ پولیس بد تمیز بھی ہے اور رشوت خور بھی، پولیس نا اہل بھی ہے اور سست بھی، پولیس ظالم بھی ہے اور بد طینت بھی، پولیس دست دراز بھی ہے اور جلاد بھی۔ یہ بالکل حقیقت ہے اور اگر ان تمام الزامات کو دس سے ضرب دے دی جائے تو جو جواب آئے گا وہ بھی درست ہوگا مگر سوال یہ کہ آخر پولیس ایسی کیوں ہے؟ کیا یہ بیماریاں اس کے تخم میں پہلے سے موجود تھیں یا اس کے جسد میں یہ ناسور بعد میں پھوٹا، اور اگر یہ بعد میں پھوٹا تو اس مریض کو درماندگی کی اس سطح تک لانے میں کن جاہل طبیبوں کی بیداد گری کا ہاتھ ہے۔ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ذرا ماضی کو کھنگالنا پڑے گا۔

Read more

اپنا تو منشور ہے جالب سارے جہاں سے پیار کرو

ہمیشہ منفرد نمایاں انداز کا لباس زیبِ تن کرنا طبیعت کا خاصہ رہا، اس کوشش کبھی میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور کبھی مولانا حالی کی نیچرل شاعری کے مصداق مرچ مصالحہ زیادہ ڈال دیتے ہیں جس سے ایک نیا ذائقہ جنم لیتا ہے۔

زندگی میں تجربات ازحد ضروری ہیں دراصل زندگی تجربات کے اتصال اور انضمام کا نام ہے بالکل اسی طرح جس طرح علم کیمیا میں آمیزے دوسرے آمیزوں میں ملاؤ تو نئے آمیزے جنم لیتے ہیں اور فارمولوں کی ترتیب جدید نئے فارمولوں کو جنم دیتی ہے بالکل اسی طرح زندگی تحصیل تجربات کا دوسرا نام ہے اور یہ ایک مسلسل عمل کا نام ہے انہی تجربات سے زندگی کا خمیر اٹھتا ہے اور زندگی ارتقاء و انقلاب کی طرف گامزن رہتی ہے ایک بڑا تجربہ دراصل چھوٹے چھوٹے بہت سے تجربات کا مجموعہ ہوتا ہے۔

Read more

پولیس اصلاحات ۔ مبادا دیر ہو جائے

محکمہ پولیس کی نوکری کرنا دراصل پیچ و خم سے بھرپور پگڈنڈی پر سفر کرنے کے مترادف ہے جس پر جابجا خار بکھرے پڑے ہیں جس پر شوقین راہرو گلاب چننے آتے ہیں مگر کانٹوں سے دامن بھر لیتے ہی اور کچھ زخم تو ایسے کاری لگتے ہیں کہ جسم کے ساتھ روح بھی گھائل ہو جاتی ہے۔ آ پ اس محکمے کی دگرگوں صورت حال کی ذرا سی کھوج میں جائیے آپ کو کئی مسند نشینوں کے قبیح چہرے

Read more