کمرہ جماعت میں جنسی ہراسانی


چند روز پہلے ایک دوست کی یونیورسٹی کا واقعہ سننے کو ملا جس کا احوال کچھ یوں تھا کہ ایک پروفیسر کلاس میں کھڑے ہو کہ طلبہ کو دیگر اساتذہ کے بارے میں بتا رہے تھے کہ کس طرح وہ طالبات کو اپنے آفس میں بلا کر جنسی طور پہ ہراساں کرتے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد گفتگو کا رخ بدلا اور پڑھائی کی بات شروع ہوئی۔ پروفیسر صاحب کی طرف سے طلبہ کے سوالات کے جواب دینے کا جو انداز سامنے آیا وہ کچھ اس طرح تھا کہ لڑکوں کو تو مختصر سے جواب پر ٹرخا دیا جاتا۔

جبکہ لڑکیوں کا سوال سننے سے پہلے ان کی طرف بھرپور مسکراہٹ اچھالی جاتی، اور سوال سنتے ہوئے محویت سے ان کو تکا جاتا۔ جب پروفیسر صاحب کو احساس ہوتا کہ سوال کیا جا چکا ہے اور لڑکی جواب طلب نگاہوں سے ان کی طرف دیکھ رہی ہے، تو اس کی نظروں کے ارتکاز سے گھبرا کر، ہڑبڑاتے ہوئے اس کو بتایا جاتا کہ اس نے ایک بہترین سوال کیا ہے اور جواب کے لیے وہ فلانے فلانے وقت ان کے آفس آجائے کیونکہ اس نوعیت کے سوالات پر کم از کم ایک گھنٹے کا بحث و مباحثہ ضروری ہے۔

یہ کسی ایک دن کی بات نہیں، روز کا معمول تھا۔

اور نہ ہی یہ کسی ایک یونیورسٹی کی کہانی ہے، بلکہ آج کل ہر دوسرے ادارے میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ ایک استاد کو کسی معاشرے میں صرف تب تک عزت دی جانی چاہیے، جب تک وہ واقعی نئی نسل کو سنوارنے کا کام کرے۔ تعلیم دینا تو انبیاء کا پیشہ تھا۔ جو استاد علم کی آڑ میں طلبہ کا جنسی استحصال کرے، ایسے درندہ صفت شخص کو خود کو استاد کہلوانے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ آج کل کے اساتذہ کی واضح اکثریت اس کالے دھندے میں ملوث ہے۔

ایسے لوگ ان اساتذہ کا بھی نام خراب کر رہے ہیں جو واقعی قوم کی بہتری کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔

میری آپ سب سے درخواست ہے کہ آج کے دن اپنے آپ سے عہد کیجئے کہ نہ کبھی کسی کو اتنا اختیار دیں گے کہ وہ آپ کو ہراساں کرنا اپنا حق سمجھے اور نہ کبھی خود کسی کو ہراساں کریں گے!

Facebook Comments HS